Friday , November 24 2017
Home / Top Stories / ڈونالڈ ٹرمپ امریکہ کے صدر منتخب ، ہلاری کو شکست

ڈونالڈ ٹرمپ امریکہ کے صدر منتخب ، ہلاری کو شکست

مہم کی تلخیاں فراموش کرتے ہوئے ملک کی تعمیر کیلئے مشترکہ مساعی کا عہد

واشنگٹن۔ 9 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدارتی انتخابات کے نتائج نے ساری دنیا کو چونکا دیا ہے جس میں غیرسیاسی ارب پتی بزنس مین ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنی ڈیموکریٹک حریف ہلاری کلنٹن کو حیرت انگیز طور پر شکست دے دی حالانکہ کلنٹن کی کامیابی کو یقینی سمجھا جارہا تھا جس کے ساتھ ہی دہشت گردی، ایمیگریشن اور اندرون ملک ملازمتوں کے تحفظ سے متعلق ٹرمپ کے سخت گیر موقف پر مختلف ممالک میں سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ حکومت کے خلاف عوامی لہر کے دوران 45 ویں صدر کے انتخاب کیلئے جاری دوڑ میں 70 سالہ ارب پتی تاجر ٹرمپ نے جو بمشکل 18 ماہ قبل سیاسی میدان سے وابستہ ہوئے تھے، 289 الیکٹورل کالج ووٹ کیلئے ہوئے آسان و اطمینان بخش اکثریت سے فتح حاصل کی۔ ان کی حریف ہلاری کو صرف 218 الیکٹورل کالج ووٹ حاصل ہوئے۔ صدارتی انتخاب میں کامیابی کیلئے کسی بھی امیدوار کو 538 کے منجملہ 270 ووٹ حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ امریکی  صدارتی تاریخ کی انتہائی تلخ و تند انتخابی مہم میں ریپبلکن امیدوار ٹرمپ کو مذہبی و علاقائی خطوط پر ووٹروں کی صف بندی سے ہوئی ہے چنانچہ ٹرمپ کی کامیابی کے فوری بعد ’’انتہاء پسند اسلامی دہشت گردی‘‘ کے خلاف ٹرمپ کے سخت گیر موقف کے سبب مسلم دنیا میں گہری تشویش پیدا ہوگئی ہے۔

انہوں نے مسلمانوں کا ایمیگریشن روک دینے کی بات بھی کہی تھی۔ ٹرمپ کی کامیابی پر دنیا کے دیگر علاقوں میں بھی تشویش پائی جاتی ہے جنہوں نے مختلف ممالک سے روزگار کے متلاشیوں کی امریکہ میں ’بھرمار‘ کے خلاف سخت موقف اختیار کیا تھا اور ایسے افراد کو امریکیوں سے ان کے روزگار پر نقب لگانے کا الزام عائد کیا تھا۔ ڈیموکریٹک امیدوار ہلاری کیلئے یہ نتائج انتہائی دل شکن رہے جو امریکہ کی پہلی خاتون صدر بننے کی توقع کررہی تھیں لیکن ٹرمپ نے رسہ کشی کی اس جنگ میں جیت کے قریب پہنچنے کے بعد شکست سے دوچار کردیا۔ کلنٹن نے انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد روایتی خطاب نہیں کی ہیں۔ تاہم انہوں نے ٹرمپ سے فون پر ربط پیدا کرتے ہوئے کامیابی پر مبارکباد دی اور ٹرمپ نے اپنی فتح کے خطاب کے دوران جوابی خیرسگالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہلاری کلنٹن کی خوب ستائش کی۔ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں (ہلاری) نے بہت جانفشانی سے مہم چلائی۔

بحیثیت وزیرخارجہ ملک کیلئے ان (ہلاری) کی خدمات قابل استحسان ہیں۔ ان کی خدمات کیلئے سارا ملک احسان مند ہے۔ امریکہ کی بدترین انتخابیح مہم کے دوران پیدا شدہ انتشار و اختلاف کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ٹرمپ نے زخموں کو مندمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے پنسلوینیا، اوہائیو، فلوریڈا، ٹیکساس اور نارتھ کیرولینا جیسی ریاستوں میں ناقابل یقین حد تک شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی جیت کو یقینی بنایا جس کے ساتھ ہی سیاسی پنڈتوں اور انتخابی تجزیہ نگاروں کی تمام پیش قیاسیاں غلط ثابت ہوگئیں۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنی فتح کے خطاب میں مزید کہا کہ ’’ہماری انتخابی مہم نہیں بلکہ ایک تحریک ہے جو تمام نسلوں، پس منظر اور عقائد سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل ہے۔ ملک کی دوبارہ تعمیر کیلئے ہمیں مشترکہ طور پر کام کرنا چاہئے۔ اس ملک میں بھرپور وسائل اور مواقع ہیں‘‘۔ سی این این کے بموجب ٹرمپ کو 29 اور ہلاری کو 18 ریاستوں میں کامیابی حاصل ہوئی۔

TOPPOPULARRECENT