Wednesday , November 22 2017
Home / Top Stories / ڈونالڈ ٹرمپ ری پبلیکن امکانی امیدوار کی نامزدگی سے بالکل قریب

ڈونالڈ ٹرمپ ری پبلیکن امکانی امیدوار کی نامزدگی سے بالکل قریب

انڈیانا میں ٹیڈ کروز کی شکست اور دستبرداری، ہلاری کو برنی سینڈرس کے ہاتھوں شکست
انڈیانا پولیس۔ 4 مئی (سیاست ڈاٹ کام) انڈیانا پرائمریز میں زبردست کامیابی کے بعد ری پبلیکن صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ اب پارٹی کے امکانی امیدوار نامزد کئے جانے کے بالکل قریب پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے اپنے قریبی حریف ٹیڈکروز کو شکست دی۔ اس طرح اب ٹیڈکروز بھی صدارتی دوڑ سے باہر ہوگئے ہیں جبکہ ٹرمپ کے لئے اب نومبر میں ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار نامزد ہونے کے امکانات کے قریب پہنچ جانے والی ہلاری کلنٹن سے سخت مقابلہ ہوگا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ ہلاری کلنٹن کو حالانکہ حیرت انگیز طور پر انڈیانا میں برنی سینڈرس سے شکست ہوئی تاہم اس نتیجہ کا ان کی صدارتی امیدوار نامزد کئے جانے کی پیشرفت ہر کوئی اثر نہیں ہوگا۔ ٹرمپ اب نامزد کئے جانے والے امکانی امیدوار ہیں اور یہ بات بھی تعجب خیز ہے کہ کروڑپتی تاجر نے صرف گزشتہ سال ہی سیاست میں داخلہ لیا تھا۔ انڈیانا پرائمری میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد اپنے حامیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ان کے لئے اعزاز کی بات ہے کہ انہیں اب ری پبلیکن کا امکانی امیدوار منتخب کیا جانے والا ہے۔

57 ڈیلی گیٹس کے منجملہ ٹرمپ کو 51 ڈیلی گیٹس حاصل ہوئے جبکہ مجموعی طور پر ان کے پاس ڈیلی گیٹس کی تعداد 1047 ہوگئی ہے اور اب وہ صرف 190 ڈیلی گیٹس کی دوری پر ہیں جو توقع ہے کہ پرائمری سیزن کے آخری مرحلے میں حاصل کرلیں گے جب کہ ان کے کلیدی مسابقتی حریف ٹیڈ کروز میں ان سے باہر ہوچکے ہیں۔ کروز سے بھی ٹرمپ کے خلاف بڑی شدت کے ساتھ مہم چلائی تھی اور دونوں کے درمیان کچھ ناشائستہ کلمات کا تبادلہ بھی ہوا تھا جہاں دونوں نے ایک دوسرے کی بیویوں پر بھی کیچڑ اُچھالنے کی کوشش کی تھی، تاہم انڈیانا پرائمری کے بعد کروز نے اپنی دستبرداری کا اعلان کردیا۔ ٹرمپ کو البتہ اب بھی اوہائیو کے گورنر جان کیسک کی جانب سے زبردست مخالفت کا سامنا ہے جن کے پاس صرف 200 ڈیلی گیٹس ہیں۔ کیسک نے باقاعدہ اعلان کردیا ہے کہ وہ صدارتی دوڑ سے ہرگز باہر نہیں ہوں گے۔ ٹرمپ نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم امریکہ کو ایک بار پھر عظیم ملک بنانا چاہتے ہیں۔ اب ہماری تمام تر توجہ ہلاری کلنٹن کی جانب ہوگی جو کسی بھی حالت میں امریکہ کے لئے بہتر صدر ثابت نہیں ہوسکتیں کیونکہ صدارتی عہدہ پر فائز ہونے کے بعد جس چابکدستی، دوراندیشی اور بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے، ہلاری کے پاس ان سب چیزوں کا فقدان ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT