Saturday , November 18 2017
Home / اداریہ / ڈونالڈ ٹرمپ کا اگزیکیٹیو آرڈر

ڈونالڈ ٹرمپ کا اگزیکیٹیو آرڈر

خود بہاریں ہیں اسیر درزنداں شائد
بوئے ڈھونڈھ رہی ہے مجھے ویرانوں میں
ڈونالڈ ٹرمپ کا اگزیکیٹیو آرڈر
صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کو شمالی کوریا سے بڑھتے خطرات سے نمٹنے کی فکر کرنے کے بجائے کاغذی فیصلے کرکے اپنی سرحدوں کو مسلم ممالک کیلئے بند کرنے میں زیادہ دلچسپی دکھائی دینا ایک خاموش طوفان کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ اگر امریکہ کی سرحدوں کی حفاظت اور مسلم ممالک سے آنے والے مسافروں کو روکنے کیلئے صرف ایک اگزیکیٹیو آرڈر سے کام چل جاتا ہے تو صدر امریکہ دیگر وسائل اور ذرائع سے امریکہ کو لاحق خطرات سے کس طرح نمٹیں گے۔ شمالی کوریا نے سمندر میں چار بالیسٹک میزائیل داغے ہیں۔ یہ دعویٰ ہیکہ شمالی کوریا کی نیوکلیئر طاقت امریکہ کے بڑے شہروں کو نشانہ بناسکتی ہے۔ اگرچیکہ امریکی فوج نے جنوبی کوریا میں میزائیل ڈیفنس ’’تھاڈ‘‘ کی تنصیب کا عمل شروع کردیا لیکن اس فوجی کارروائی سے چین کا دفاعی غصہ بڑھ جائے گا۔ امریکہ دیگر ممالک پر اپنی فوجی طاقت مسلط کرنے کی عادت سے باز نہیں آتا۔ چین اس پیشرفت پر برہم ہے۔ امریکی فوج کی تجاوزات خود جنوبی کوریا کیلئے مسائل پیدا کردیں گے۔ جنوبی کوریا میں امریکہ نے اپنے 24000 سپاہیوں کو تعینات کیا ہے۔ ایسی فوجی سرگرمیوں سے جو خطرات لاحق ہوں گے وہ کسی ایگزیکیٹیو آرڈر سے پیدا ہونے والے مسائل سے زیادہ ہیں۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران امریکیوں سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کیلئے ایک ’’پاگل پن‘‘ کی حدتک فیصلے کررہے ہیں۔ ان کے فیصلوں کو مسترد کرتے ہوئے امریکیوں کی بڑی تعداد نے ڈونالڈ ٹرمپ کو اپنا صدر تسلیم کرنے سے بھی انکار کردیا تھا۔ اس موضوع پر اپنا پہلا صدارتی فرمان جاری کرکے ٹرمپ نے 7 مسلم ممالک کے باشندوں کو امریکہ میں داخلہ پر پابندی عائد کی تھی جس پر عدالتی حکم التواء کے علاوہ امریکہ بھر میں احتجاجی مظاہرے ہوئے اب انہوں نے نظرثانی شدہ اگزیکیٹیو آرڈر پر دستخط کئے ہیں جس میں 7 کے بجائے صرف 6 مسلم ممالک ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان، شام اور یمن کے باشندوں پر پابندی عائد کی ہے۔ عراق کو اپنی ایمگریشن کی فہرست سے نکال دیا۔ امریکہ اپنے مفادات کا خاص خیال رکھتا ہے اب یہاں ٹرمپ نے صدارتی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اپنے تجارتی مفادات کا تحفظ کرنے کے اقدامات کئے ہیں۔ اس لئے عراق کو اس ممنوعہ فہرست میں شامل نہیں کیا گیا کیونکہ عراق نے اب تک امریکی مفادات میں ہی کام کیا ہے۔ صدام حسین کی بیدخلی اور ان کو پھانسی دیدیئے جانے کے بعد عراق میں موافق امریکہ پالیسیوں کی حامی حکومت برسراقتدار ہے، عراق کو اب امریکہ کا حلیف ملک بنادیا گیا ہے۔ جن ملکوں کو ایگزیکیٹیو آرڈر کے ذریعہ سفری پابندیوں کا شکار بنایا گیا ہے ان پر یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ وہ دہشت گردی کی سرپرستی کرتے ہیں۔ ان ملکوں کے شہری 90 دن تک امریکہ کا سفر نہیں کرسکیں گے اور نہ ہی پناہ گزین 120 دن تک امریکہ جانے کے بارے میں سوچ سکیں گے۔ امریکی عدالت کی جانب سے اس صدارتی آرڈر کو روک دینے کے فیصلے کے باوجود ڈونالڈ ٹرمپ نظرثانی شدہ آرڈر نکال کر اپنی فیصلہ کو منوانے کی ضد میں مبتلاء ہیں۔ امریکہ کو ہرگز اختیار حاصل نہیں ہونا چاہئے کہ وہ دوسرے ملکوں کے شہریوں کا احترام نہ کرے اگزیکیٹیو آرڈر کو ایک غیرانسانی قانون قرار دے کر بے عزتی کرنے والے فیصلوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مسترد کردیا جانا چاہئے۔ آج ساری دنیا کو ایک دوسرے سے ہمدردی رکھنے اور خلوص و محبت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ اس کے بجائے نئے صدر کے تعصب پسندانہ پالیسیوں کو فروغ دے کر دنیا کے تمام ملکوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے کی پالیسیوں کو تیار کرلیا ہے۔ حکمرانوں کو اپنے ملک اور شہریوں کا دیگر ملکوں اور شہریوں کے ساتھ اچھے روابط پیدا کرنے کی جانب سے پیشرفت والی پالیسیاں بنانے سے ایک شاندار مستقبل کی ضمانت دی جاسکتی ہے۔ اب صدر ٹرمپ کے پے در پے اگزیکیٹیو آرڈر نے امریکیوں کی ہی توہین کردی ہے۔ دیگر ممالک میں امریکہ کے بارے میںجو تاثر پیدا کردیا گیا ہے اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ پہلے ہی سے امن پسند دنیا میں بدنام امریکہ کو اپنے مستقبل کے بارے میں یوں تباہ کن فیصلوں کے ذریعہ قدم نہیں اٹھانا چاہئے۔ نسل پرست ویزا اقدامات کی وجہ سے ان 6 ملکوں کے شہریوں کے ساتھ ساتھ دیگر حلقوں کے باشندوں کا سفری منصوبہ بھی متاثر ہوتا جائے گا۔ ڈونالڈ ٹرمپ کو ایک طرف اپنے فیصلوں سے پیدا ہونے والے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا دوسری طرف شمالی کوریا کے بارے میں ان کی حکومت کے اقدامات اس خطہ میں خطرناک حالات پیدا کریں گے۔ اس لئے اپنی حرکتوں سے باز آتے ہوئے امن و سکون بحال کرنے والے فیصلے کرنے چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT