Monday , October 22 2018
Home / اداریہ / ڈونالڈ ٹرمپ کا دورہ ایشیاء

ڈونالڈ ٹرمپ کا دورہ ایشیاء

دل نے سوچا تو بہت کچھ تھا مگر کیا کہئے
تیری نظروں کے بدلتے ہی شکایت بدلی
ڈونالڈ ٹرمپ کا دورہ ایشیاء
صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کا پانچ قومی دورہ ایشیاء علاقائی حلیف ملکوں کے ساتھ تعلقات کو مستحکم بنانے میں مددگار ثابت ہوگا یا نہیں یہ تو آئندہ معلوم ہوگا۔ اس وقت جنوبی ایشیاء کے ملک چین میں انہوں نے اپنے ہم منصب ژی ژپنگ سے ملاقات میں چین کی تجارتی پالیسیوں سے عالمی سطح پر پیدا ہوئی عدم توازن کی کیفیت پر کوئی کھل کر اظہارخیال نہیں کیا بلکہ چین کے ساتھ انہوں نے 250 بلین ڈالر کے تجارتی معاہدے کئے۔ وہ یہاں ایشیاء پیسیفک معاشی تعاون چوٹی کانفرنس میں بھی شرکت کرنے والے ہیں۔ اس گروپ کے بانی این برمر نے کہا کہ ڈونالڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ کی یکطرفہ پالیسیوں سے چین کو فائدہ ہورہا ہے۔ ان کی اس پالیسیوں کی وجہ سے آج چین کو بین الاقوامی سطح پر ایک لیڈر کے طور پر پیش کردیا ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ ایک یکطرفہ پالیسیاں بنانے کے عادی صدر ہیں جس کا فائدہ چین نے اٹھایا ہے۔ صدر چین ژی ژپنگ کو کئی مواقع حاصل ہورہے ہیں کہ وہ اپنے ملک کی عالمی قیادت کو تیزی سے آگے بڑھائیں۔ دیگر کئی ممالک بھی چین تو ہی دیگر مضبوط قائدین کی کمی کے پیش نظر اپنا اصل آقا تسلیم کرنے لگے ہیں۔ چین نہ صرف دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے بلکہ اسے مغرب کے مقابلہ اپنی معیشت پر بھرپور کنٹرول حاصل ہے۔ ٹرمپ نے اپنی یکطرفہ پالیسیوں سے کچھ ملکوں کو ناراض بھی کیا ہے۔ سابق صدر بارک اوباما کے دور میں ایسٹ ایشیاء چوٹی کانفرنس کے ذریعہ امریکہ کو ایشیاء کے ساتھ تعلقات میں مضبوطی لانے کا ستون بنایا گیا تھا لیکن ٹرمپ کے اس ایشیاء دورہ میں جو سب سے بڑا دورہ ہے کوئی خاص کامیابی دکھائی نہیں دیتی۔ البتہ ایسٹ ایشیا چوٹی کانفرنس میں امریکہ کے شامل ہونے کا فیصلہ ایشیاء میں امریکہ کی سرگرمیوں میں سب سے بڑا سنگ میل سمجھا جائے گا۔ ٹرمپ نے ایک طرف ویتنام میں ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن کانفرنس (ایپک) سے اپنے خطاب میں جانبدارانہ تجارت کو برداشت نہ کرنے کا اعلان کیا تو دوسری طرف اپنی پالیسیوں کے ذریعہ چین کو جانبدارانہ تجارت کی جانب پیشرفت کرنے کا موقع دیا۔ اپیک ممالک کے ساتھ باہمی تجارتی تعلقات میں توازن برقرار رکھتا ہے تو چین کی تجارتی بالادستی کے بارے میں بھی غور کرنا ضروری ہے۔ اگرچیکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے دورہ چین کے موقع پر چین کے ساتھ تجارتی عدم توازن کے بارے میں بات کی تھی لیکن چین کو اس کا ذمہ دار قرار نہیں دیا تھا۔ تجارت کا دائرہ بڑھ چکا ہے۔ بڑی طاقتوں نے عالمگیریت کے ذریعہ تجارت کو وسیع بنایا ہے۔ اب اس عالمگیریت کے رجحان کو روکا نہیں جاسکتا۔ البتہ اسے بہتر بنانے کی کوشش ہونی چاہئے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے اس دورہ میں ہندوستانی معاشی پالیسیوں کی بھی ستائش کی۔ دراصل ٹرمپ کا یہ پانچ قومی دورہ جاپان، جنوبی کوریا، چین، ویتنام اور فلپائن ایک خاص تعلقات کو استوار کرے گا۔ شمالی کوریا کے ساتھ امریکہ کی کشیدگی کے پیش نظر اس دورہ کو خصوصیت حاصل ہوئی ہے۔ جنوبی کوریا اور جاپان کی قیادت سے ٹرمپ نے شمالی کوریا کی بڑھتی طاقت پر ہی بات چیت کی شمالی کوریا رہنما کم جونگ کو خطرناک ہتھیاروں کی تیاری سے باز رکھنے میں وہ کامیاب ہوسکیں گے۔ یہ کہنا مشکل ہے کیوں کہ سخت معاشی پابندیوں کے باوجود شمالی کوریا نے ان ہتھیاروں کو تیار کرنے کا عمل روکنے میں خاص دلچسپی نہیں دکھائی۔ ایسے میں صدر ٹرمپ کا یہ دورہ ایشیاء صرف شمالی کوریا کی برائی کرنے تک ہی محدود رہتا ہے تو پھر تمام ممالک کے ساتھ کسی بھی اتفاق رائے پر نہیں پہنچ سکیں گے۔ شمالی کوریا کا مرکزی اتحادی ملک چین کے ساتھ ٹرمپ کی دوستی کے باوجود شمالی کوریا پر پابندیاں لگانے میں وہ کامیاب نہیں ہوسکیں گے۔ چین کے ساتھ ان کا نرم رویہ اور تجارت کے معاملے میں ان کی پالیسی پر کئی سوال اٹھائے جاچکے ہیں کیونکہ ٹرمپ نے اپنے صدر بننے کے بعد چین پر امریکیوں کا روزگار چھین لینے کا الزام عائد کیا تھا۔ اس اہم موضوع کو بھی انہوں نے چین کی قیادت کے سامنے پوری سختی سے پیش نہیں کیا۔ اس کے برعکس چین نے ہی ٹرمپ کو اپنی بات منوانے پر زور دیا ہے خاص کر شمالی کوریا کے معاملہ میں محتاط رہنے کا بھی مشورہ دیا۔ شمالی کوریا کے معاملہ میں امریکہ کو اشتعال انگیز رویہ ترک کرنا ہی بہتر ہوگا کیونکہ تمام فریقوں کے لئے کشیدگی کو ہوا دینے والے بیانات سے گریز کرنا ہی بہتر ہے کیونکہ دونوں ممالک چین اور امریکہ جانتے ہیں کہ اس خطہ میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنا ہی ان دونوں کے مفاد میں ہے۔ شمالی کوریا کے تعلق سے کسی پرامن حل تلاش کی ضرورت ہے تو دھمکی آمیز پیغامات دینا بند کردینا ہوگا۔
جی ایس ٹی شرحوں میں کٹوتی
گڈس اینڈ سرویس ٹیکس کے نفاذ کے بعد اس میں مسلسل کٹوتی کے اقدامات کرکے مرکزی حکومت صارفین پر ایک طرح احسان کرنے جیسا مظاہرہ کررہی ہے۔ جی ایس ٹی کی طاقتور کونسل نے گوہاٹی میں نئے فیصلے کرکے تقریباً 200 روزانہ استعمال کی اشیاء پر سے ٹیکس شرحوں کو کم کرنے کا اعلان کیا۔ یہ اعلان دراصل گجرات کے انتخابات کے پیش نظر بی جے پی حکومت نے اپنی ناکامی کو بچانے کی کوشش کی ہے۔ حکومت اس فیصلے کے ذریعہ تاجر برادری کا حل جیتنا چاہتی ہے جو جی ایس ٹی کی وجہ سے کافی پریشان اور حکومت سے ناراض ہیں۔ اس نے بالواسطہ ٹیکس نظام نے تجارت کو سست روی سے دوچار کردیا تھا۔ جی ایس ٹی کونسل سے228 اشیاء کے منجملہ 178 اشیاء پر سے 28 فیصد ٹیکس گھٹا کر 18 فیصد کردیا ہے جس کا 15 نومبر اطلاق عمل میں آئے گا۔ آج تک 228 اشیاء کو ایک ہی شرح ٹیکس 28 فیصد کے دورہ میں رکھا گیا تھا لیکن حکومت کو اپنی زیادتیوں اور صارفین اور تجارت سے وابستہ افراد کی مجبوریوں کا احساس ہوا تو اس نے کٹوتی کا عمل شروع کیا۔ اس طرح کی تبدیلی کا تجارت پیشہ برادری نے خیرمقدم کیا ہے۔ حکومت نے جی ایس ٹی کے ذریعہ ملک کی معاشی پیداوار میں فروغ پیدا کرنے کی توقع کی تھی لیکن بعض فیصلے عوام پر کاری ضرب ہوتے ہیں تو اس کے نتائج برعکس برآمد ہوتے ہیں۔ جی ایس ٹی ہندوستانی مارکٹ میں اتھل پتھل مچادی ہے۔ چھوٹے اور متوسط صنعتکاروں، تاجروں کو پریشان کر رکھا ہے۔ تجارت میں جو عملی مشکلات پیش آئی ہیں اس کے پیش نظر ہی جی ایس ٹی کونسل اور حکومت نے بعض اشیاء کی قیمتوں میں کٹوتی کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے توقع کی جاتی ہیکہ چھوٹے اور متوسط تاجروں کو بھی راحت ملے گی۔ حکومت کی یہی کوشش ہیکہ جی ایس ٹی کے بوجھ کو زیادہ سے زیادہ کم کیا جائے۔ ملک کی معیشت کو مستحکم بنانا ہے تو بنیادی اصلاحات کے عمل کو دیانتدارانہ طور پر جاری رکھنا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT