Monday , November 20 2017
Home / Top Stories / ڈونالڈ ٹرمپ کی محمود عباس کو وائیٹ ہاوز آنے کی دعوت

ڈونالڈ ٹرمپ کی محمود عباس کو وائیٹ ہاوز آنے کی دعوت

اسرائیل اور فلسطین کے ما بین امن مذاکرات کو آگے بڑھانے پر تبادلہ خیال کا امکان
واشنگٹن 11 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے فلسطینی رہنما محمود عباس کو وائیٹ ہاوز مدعو کیا ہے تاکہ وہ ان کے ساتھ امن بات چیت کرسکیں۔ ٹرمپ کے جنوری میں عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ فلسطینی اتھاریٹی سے ان کا پہلا رابطہ ہے ۔ محمود عباس کے ترجمان نبیل ابو ردینہ نے کہا کہ محمود عباس بہت جلد امریکہ کا دورہ کرینگے ۔ وائیٹ ہاوز نے ایک بیان میں بتایا کہ دونوں قائدین نے جمعہ کو مشرق وسطی امن بات چیت کو آگے بڑھانے کے تعلق سے تبادلہ خیال کیا تھا ۔ دونوں قائدین کا خیال تھا کہ فلسطین ۔ اسرائیل تنازعہ کو ختم کرنے کیلئے ایک جامع معاہدہ بھی ہونا چاہئے ۔ وائیٹ ہاوز نے کہا کہ صدر فلسطین نے یہ واضح کیا کہ ان کا شخصی طور پر ماننا ہے کہ امن ممکن ہوسکتا ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ اس تعلق سے کوئی معاہدہ کیا جائے ۔ بیان کے بموجب صدر ٹرمپ نے یہ واضح کیا کہ ایسا کوئی معاہدہ ہوتا ہے تو نہ صرف اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کو امن و سلامتی حاصل ہوگی بلکہ اس کے سارے علاقہ اور ساری دنیا پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونگے ۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ اس طرح کا امن معاہدہ دونوں فریقین کے مابین راست زیر غور آسکتا ہے اور امریکہ فلسطینی اور اسرائیلی قیادت کے ساتھ قریبی تعاون کریگا تاکہ اس سلسلہ میں پیشرفت ہوسکے ۔ محمود عباس کے ترجمان نے کہا کہ ہم صدر ٹرمپ اور اسرائیلی حکومت کے ساتھ بات چیت کیلئے تیار ہیں اور چاہتے ہیں کہ بات چیت شروع ہو ۔ اگر اسرائیل تیار ہوتا ہے تو صدر عباس خود بھی ٹرمپ کے ساتھ امن معاہدہ کیلئے تیار ہیں۔ ابو ردینہ نے کہا کہ صدر ٹرمپ ایک دیانتدار شخص ہیں ‘ حوصلہ مند شخص ہیں اور وہ صرف ایک معاہدہ کیلئے کوشش کر رہے ہیں۔ اس بیان پر اسرائیلی حکومت کی جانب سے کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا گیا ہے ۔ اسرائیل اور فلسطین کے مابین امریکہ کی کوششوں سے آخری مرتبہ بات چیت 2014 میں ہوئی تھی ۔ جمعہ کو ٹرمپ کا فون کال ان کے جنوری میں عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد سے محمود عباس کے ساتھ ان کا پہلا رابطہ تھا ۔ محمود عباس نے ٹرمپ سے رابطہ کی کوشش کی تھی لیکن انہیں کامیابی نہیں مل سکی تھی ۔

TOPPOPULARRECENT