Monday , December 18 2017
Home / اضلاع کی خبریں / ڈونالڈ ٹرمپ کی کامیابی امریکی مسلمانوں کیلئے فیصلہ کن مرحلہ

ڈونالڈ ٹرمپ کی کامیابی امریکی مسلمانوں کیلئے فیصلہ کن مرحلہ

توکل کا یہ مطلب ہے کہ خنجر تیز رکھ اپنا
پھر انجام اس کی تیزی کا مقدر کے حوالے کر
۸ نومبر ۲۰۱۶؁ء ساری دنیا، بطور خاص امریکہ کے مسلمانوں کے لئے ایک کشمکش کا دن تھا ، جس میں امریکہ کی صدارت کا فیصلہ متوقعہ تھا ، ریپبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کے اسلام دشمن بیانات نے امریکہ کے مسلمانوں میں خوف و ہراس ، ہیجان و تجسس کو بودیا تھا ، بالعموم مسلمان ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار ہلاری کلنٹن کی تائید و حمایت میں تھے۔ بظاہر رائے عامہ ہلاری کلنٹن کے حق میں بتائی جارہی تھی ، لیکن امریکہ کا وائٹ ، نسل پرست ،غیرتعلیم یافتہ طبقہ جو سابقہ الیکشن میں خاطر خواہ رول ادا نہ کرتا تھا ، اس بار نہایت حساس ، جذباتی اور متحرک نظر آیا ، نیز ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے اولین مسابقتی تقاریر میں نفرت آمیز لب ولہجہ اختیار کرکے اس طبقہ کو بیدار و پرجوش و پراُمید بنادیا تھا ۔ امریکہ کی جس ریاست نارتھ کارولینا میں ہم مقیم ہیں اس ریاست میں تین لاکھ وائٹ امریکی ووٹ زائد استعمال ہوئے ، جنھوں نے سابق میں اپنا حق رائے دہی استعمال نہیں کیا تھا ۔
۸ نومبر ۲۰۱۶؁ء کو اسلامک سنٹر آف گولڈ سبورو ( نارتھ کارولینا) میں ہم عشاء کی نماز کے بعد محو گفتگو تھے ، سب اندرونی طورپر ہلاری کلنٹن کی کامیابی کے امیدوار تھے ، اور ڈونالڈ ٹرمپ سے خوفزدہ تھے ، اس لئے نہیں کہ وہ مسلمانوں کو اندرون ملک امریکہ میں قانونی طورپر نقصان پہنچائیگا بلکہ سارے ڈونالڈ ٹرمپ کے رویہ سے پریشان تھے ، اس کے منتخب ہونے سے جو امریکی ماحول میں نفرت کی فضاء اُبھریگی اس سے خوفزدہ تھے ۔ مجھے حضرت مولانا مفتی محمد ولی اللہ قادری ؒ شیخ المعقولات جامعہ نظامیہ کا قول یاد آیا ۔ جب کبھی ایسی تشویش کی صورتحال رہتی اور لوگ نتائج کے لئے بے چین و بے قرار رہتے حضرت قبلہ حدیث شریف کا ایک حصہ نقل فرماتے ’’جو مقدر میں ہے وہ ہوکر رہے گا ، کیونکہ قلم سوکھ چکا ہے ، جو ہونے والا ہے وہ لکھا جاچکا ہے ‘‘ ۔ اس حدیث شریف کی تفصیل مجمع الزوائد منبع الفوائد ، کتاب القدر باب ’’جف القلم بما ھو کائن ‘‘ میں اس طرح ہے کہ نبی اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم نے حضرت عبداﷲ بن جعفر کو سواری پر اپنی پیچھے بٹھایا اور فرمایا : اے نوجوان ! کیا میں تمہیں کچھ عطا نہ کروں ؟ ، کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھاؤں جن کے ذریعہ اﷲ تمہیں نفع دیگا ؟ اﷲ تعالیٰ کو پیش نظر رکھو ، اﷲ تمہاری حفاظت کرے گا ، اﷲ کو پیش نظر رکھو ، تم اس کو اپنے روبرو پاؤ گے ۔ اور جب تم سوال کرو تو صرف اﷲ سے مانگو ، اور جب تم مدد طلب کرو تو صرف اﷲ تعالیٰ سے مدد طلب کرو اور جان لو کہ قلم سوکھ چکا ہے جو ہونے والا ہے لکھ جا چکا ہے اور جان لو کہ ساری مخلوق تمہارے ساتھ کسی چیز کا ارادہ کرے اور وہ تمہارے لئے نہ لکھا گیا ہو تو وہ ہرگز نہیں کرسکیں گے اور جان لو کہ مدد صبر کے ساتھ ہے ، اور کشادگی ، مصیبت کے ساتھ ہے ، اور بلاشبہ خوشحالی و آسانی مشکل کے ساتھ ہے۔ ( اس کو طبرانی نے بھی روایت کیاہے)۔
اسی طرح جب انتخابات کے نتائج آنے والے ہوں یا اس جیسی صورتحال ہو تو حضرت علامہ سید شاہ طاہر رضوی صدر الشیوخ ؓ جامعہ نظامیہ کا ارشاد یاد آتا ہے ، آپ فرمایا کرتے : ’’جس کا ایمان ثابتہ میں ثبوت ہوچکا ہے ، اسی کا ظہور ہوگا‘‘۔ پس ہم سب صبح فجر کی نماز کیلئے جمع ہوئے ، رات کی رات میں سارے توقعات اور قیاس آرائیوں پر پانی پھرگیا اور ڈونالڈ ٹرمپ کی کامیابی کا باقاعدہ اعلان ہوگیا ۔
ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکہ میں مسلمانوں کے داخلہ پر مکمل پابندی کا بیشتر مرتبہ اظہار کیا ہے ۔ اوباما انتظامیہ ملک شام کے مہاجرین کے لئے امریکہ میں رہائش فراہم کرنے کیلئے جو قانونی اقدامات کررہیں ہے ، اس کو وہ فی الفور ختم کرنا چاہتا ہے ۔ سعودی حکومت کو بھی دہشت گردی کے معاملہ میں تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔ ہندوستان کی پرجوش حمایت کی ، ان کے پروگرام میں شرکت کرکے مسلم انتہاء پسندی کے خلاف بات کی ۔ ڈونالڈ ٹرمپ کے فیملی ممبرس نے دیوالی کے پروگرام میں شرکت کرکے ہندوستان کے ساتھ اظہاریگانگت کیا ہے ، ڈونالڈ ٹرمپ کے مطابق مسلمان امریکیوں سے نفرت کرتے ہیں۔ وہ غیرقانونی طورپر مقیم افراد کو واپس کرنا چاہتے ہیں ، میکسیکو اور امریکہ کی سرحد پر دیوار بنانا چاہتے ہیں ، اس قسم کے اشتعال انگیز بیانات کا اصل مقصد امریکہ کے نسل پرست وائٹ باشندوں کو راغب کرنا تھا اور ڈونالڈ ٹرمپ اپنے سیاسی لائحہ عمل میں کامیاب تو ہوگئے لیکن امریکی عوام بطور خاص نوجوان طبقہ نفرت و دشمنی اور خوف و ہراس کی سیاست کو قطعاً پسند نہیں کرتا اور نتائج کے اعلان کے ساتھ ہی امریکہ کے مختلف شہروں میں کالج کے طلباء نے احتجاج کی صدائیں بلند کی ہیں ، دوسری طرف ۲۰۲۰ء کی تیاری کے لئے بعض گوشوں سے میشل اوباما کو بطور صدر پیش کرنے رائے عامہ ہموار کرنے کی کوششیں شروع ہوگئی ہیں۔
جہاں تک امریکہ میں مسلمانوں کا تعلق ہے ، اﷲ تعالیٰ کی مدد شامل حال ہو تو کسی قسم کا نقصان نہیں ، کیونکہ امریکہ میں جمہوریت ہندوستان کے مقابل میں زیادہ مستحکم ہے ۔ مسلمان سرپرست اپنی اولاد کے بارے میں فکرمند ہیں لیکن مسلمانوں کی وہ نسل جو امریکہ میں پیدا ہوئی اور وہیں کے ماحول میں پروان چڑھی اور اب کالج و یونیورسٹیز کے مراحل میں ہے وہ بالکل پرعزم و مطمئن ہے اور یہی نسل اُمت اسلامیہ کا بہترین اثاثہ ثابت ہوسکتی ہے اگر ان کے سرپرست ، اسلامی اقدار پر ان کی تربیت کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ علاوہ ازیں جونہی ڈونالڈ ٹرمپ نے مسلم دشمن بیانات شروع کئے ہرطرف خوف و ہراس کا ماحول نظر آیا ، لیکن امریکہ میں موجود مسلمانوں کی مذہبی قیادت یعنی وہ علماء و مذہبی رہنما جو نوجوان نسل پر مضبوط گرفت رکھتے ہیں وہ منظرعام پر آئے اور ببانگ دہل اسلام کی تائید و حمایت اور باطل کی حکمت کے ساتھ مخالفت کی ۔ جس کے نتیجے میں حالیہ دنوں میں مسلمان امریکیوں سے رابطہ کرنے لگے اور اسلام کی حقیقی تصویر کو ان کے سامنے پیش کرنے لگے ۔ اس طرح مسلمانوں میں یکجہتی پیدا ہوئی ۔ افسوس کا پہلو یہ ہے کہ ہندوستان ، پاکستان اور دیگر عرب ممالک کے باصلاحیت و تعلیم یافتہ مسلمان طبقہ حکومتی اداروں میں موجود نہیں ہے ۔ اس کے برخلاف عیرمسلم ہندوستانیوں کی قابل لحاظ تعدا دنہ صرف وائٹ ہاؤز میں ملازم ہے بلکہ ان کی بڑی تعداد امریکہ کی پالیسی میکر گروپ میں شامل ہے ۔ اس کانقصان ساری اُمت اسلامیہ کو ہورہا ہے ، یہی صورتحال ہندوستان میں مسلمانوں کی ہے ، ہندوستان کا مسلم نوجوان حکومتی اداروں میں کام کرنے اور مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنا اثر و نفوذ قائم کرنے میں سراسر ناکام ہے ۔ جب تک اس خلاء کو پُر نہیں کیا جائیگا اس وقت تک مسلمان ظلم کا شکار رہیں گے اور اپنے اور اپنے مذہب کادفاع کرتے رہیں گے ۔ اقدام کی جرء ت نہیں ہوگی ۔ جبکہ ہماری عددی قوت دشمن کا ہرقسم سے مقابلہ کرنے کی قابل ہے ۔ تاہم عددی قوت سے حاصل کیا ہوگا جب کہ قوم میں تعلیمی اور معاشی میدانوں میں غیرقوم سے مسابقت اور مقابلہ کی ہمت ہی نہ ہو ۔
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت بدلنے کا

TOPPOPULARRECENT