Friday , December 15 2017
Home / Top Stories / ڈونالڈ ٹرمپ کے فحش تبصرے ، اہم قائدین کی تائید سے محروم

ڈونالڈ ٹرمپ کے فحش تبصرے ، اہم قائدین کی تائید سے محروم

بیٹی کو شہوت پرست قرار دیا ، خواتین کے بارے میں گندی سوچ پر امریکی معاشرہ میں ہلچل ، نازیبا بیانات کی شدید مذمت

واشنگٹن ۔ /9 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) خواتین کے تعلق سے امریکی ری پبلکن صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کے نازیبا ریمارکس نے ان کی صدارتی انتخابی مہم پر منفی اثرات مرتب کردیئے ہیں ۔ امریکی معاشرہ میں شدید اعتراضات اور ناراضگیاں پیدا ہوئیں ہیں اور انہیں امریکی صدارت کیلئے غیر موزوں قرار دیا جارہا ہے ۔ ان کے پرانے آڈیو کلپ کے منظر عام پر آنے کے بعد انہوں نے ایک اور فحش ریمارک کرتے ہوئے اپنی بیٹی کو بھی نہیں بخشا اور اسے شہوت پرست قرار دیا ۔ امریکی ٹی وی چیانل سی این این نے تقریباً دو دہوں پرانے ایک آڈیو انٹرویو کو جاری کیا ہے جس نے ڈونالڈ ٹرمپ اور ریڈیو کی شخصیت ہاورڈ ایسٹرن کے درمیان ہوئی بات چیت کو پیش کیا ہے ۔ اس کے علاوہ صدارتی امیدوار کو اپنی دختر اوینکا ٹرمپ کے جسم کے تعلق سے بار بار تبصرہ کرتے ہوئے سنا گیا ہے ۔ ٹرمپ نے خواتین کے تعلق سے جنسی لطافت بھرے جملوں کے ساتھ اپنی سونچ کا اظہار کیا تھا ۔ ٹرمپ کے ساتھ ہوئی بات چیت میں ان کی دختر اوینکا کی سیکسی جسامت پر تبصرہ اور 35 سال کے بعد خواتین کے ساتھ تعلقات کو بدمزہ قرار دیا تھا ۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے کئی مرتبہ ایسٹرن کے ریڈیو پروگرام میں حصہ لیا تھا ۔ جس میں انہوں نے صرف نازیبا زبان کا ہی استعمال کیا تھا ۔ اکٹوبر 2006 ء کے ایک انٹرویو میں ایسٹرن نے ریمارک کیا تھا کہ اوینکا دوسروں سے زیادہ شہوت پرست نظر آتی ہیں اس پر ٹرمپ نے جواب دیا تھا کہ اس نے اپنے جسم کو سیڈول بنانے کیلئے کوئی ایمپلانٹس نہیں کیا ہے بلکہ وہ ہمیشہ سے ہی بہت شہوت پرست رہی ہے ۔

یہ بھی کہا کہ وہ طویل قامت 6 فٹ کی لڑکی ہے اور نہایت خوبصورت بھی ہے ۔ ایک اور انٹرویو میں ستمبر 2004 ء کو ایسٹرن نے ٹرمپ سے سوال کیا تھا کہ نوجوان عورتوں اور بڑی عمر کے عورتوں میں کیا فرق محسوس کرتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ 35 سال کے بعد عورت کی کشش ختم ہوجاتی ہے اس لئے وہ نوجوان عورتوں کو ہی ڈیٹنگ پر لے جاتے ہیں ۔ سال 2002 ء میں انہوں نے کہا تھا کہ عورتوں کیلئے 30 سال تک کی عمر ’’پرفیکٹ‘‘ ہوتی ہے ۔ 35 کے بعد اس کی کشش ختم ہوتی ہے ۔ امریکی صدارتی امیدوار 70 سالہ ڈونالڈ ٹرمپ کے ان ریمارکس اور آڈیو کلپس کے منظر عام پر آنے کے بعد ری پبلکن پارٹی کے اہم قائدین نے ناراضگی ظاہر کی اور ان پر شدید تنقید کی ۔ بیشتر سینئر قائدین نے ان کی انتخابی مہم کو ترک کردیا ہے ۔ خواتین کے تعلق سے ان کی جنسی سونچ پر امریکی معاشرہ شرمساری کا سامنا کررہا ہے ۔ اخبار واشنگٹن پوسٹ نے جمعہ کے روز ٹرمپ کی شرمناک آڈیو کلپ جاری کی ہے ۔ اس کے چند گھنٹوں کے بعد ہی اس شادی شدہ خاتون کی شناخت بھی سامنے آگئی جس کو جنسی طور پر ورغلانے کی کوشش کا ٹرمپ نے از خود اعتراف کیا تھا ۔ ٹرمپ نے جس خاتون کا ذکر کیا ہے اس کا نام نینسی اوڈیل ہے ۔ نینسی کی دو مرتبہ شادی ہوچکی ہے ۔ اس آڈیو کلپ کے مطابق بس میں سوار ڈونالڈ ٹرمپ اور نینسی کے سابق ساتھی بیلی بش کے درمیان بات چیت میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہوں نے نینسی کے ساتھ گہرا قلبی تعلق قائم کرنے کی کوشش کی ہے ۔ تاہم وہ ناکام رہے ہیں ۔ ریبپلکن امیدوار نے انتہائی بیہودہ الفاظ میں نینسی کے جسمانی مظہر میں ہونے والی تبدیلیوں کا بھی ذکر کیا تھا اور کہا تھا کہ مشہور و معروف افراد خواتین کے ساتھ جو چاہے کرسکتے ہیں ۔ ٹرمپ نے اس شرمناک آڈیو کلپ کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ نجی بات چیت تھی اس سے کسی کو تکلیف پہونچی ہے تو وہ معذرت خواہی کرتے ہیں ۔ ری پبلکن پارٹی کے سینئر قائدین نے انہیں صدارتی دوڑ سے ہٹ جانے کا مشورہ دیا ۔

اس پر وال اسٹریٹ جنرل کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ صدارتی دوڑ کو چھوڑنے کا امکان نہیں ہے ۔ صدفیصد طور پر وہ مقابلہ کریں گے اور انہیں بے پناہ حمایت حاصل ہورہی ہے ۔ ریپبلکن پارٹی کے سینئر قائدین نے نازیبا بیانات کی مذمت کی ہے ۔ ان سے حمایت سے دستبردار ہونے والے اہم قائدین میں سابق صدارتی امیدوار جان میکن اور سابق امریکی سکریٹری آف اسٹیٹ کونڈا لیزا رائیس شامل ہیں ۔ جان میکن نے کہا کہ ٹرمپ کے بیانات کے بعد وہ امریکی صدر جیسے اہم عہدہ کیلئے موزوں نہیں رہے ۔ کونڈا لیزا رائیس نے کہا کہ اب تو حد ہوچکی ۔ ٹرمپ کو صدر نہیں بننا چاہئیے ۔ انہیں عہدہ چھوڑدینا چاہئیے ۔ ٹرمپ کی حریف امیدوار ہیلاری کلنٹن نے ٹوئٹر پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹرمپ کے ریمارک کو ’’ہولناک‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ہم اس شخص کو امریکہ کا صدر بننے نہیں دے سکتے ۔ ٹرمپ نے اپنی اس آڈیو کو پرانی اور ’’لاکر روم کی باتیں‘‘  کہتے ہوئے مسترد کردیا اور کہا کہ سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے تو اس سے زیادہ خراب باتیں کہی تھیں ۔ ٹرمپ نے بظاہر مونیکا لیونسکی کا حوالہ دیا جو سابق وائیٹ ہاؤز انٹرن تھیں ۔ خیال رہے کہ یہ آڈیو دوسرے صدارتی مباحث سے دو دن قبل نمودار ہوا ہے ۔ دوسرا صدارتی مباحثہ سینٹ لیوئس میں ہوگا جہاں ٹرمپ کو ہیلاری کا سامنا کرتے ہوئے شدید دباؤ کا شکار ہونا پڑے گا ۔ امریکہ میں /8 نومبر کو رائے دہی ہونے والی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT