Friday , November 24 2017
Home / اداریہ / ڈونالڈ ٹرمپ کے متنازعہ ریمارکس

ڈونالڈ ٹرمپ کے متنازعہ ریمارکس

بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
ڈونالڈ ٹرمپ کے متنازعہ ریمارکس
امریکہ میں جب سے صدارتی انتخابات کیلئے مہم شروع ہوئی ہے یا اس سے قبل امیدواری حاصل کرنے کا وقت شروع ہوا تھا ‘ ریپبلیکن صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ مختلف متنازعہ ریمارکس کرتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے ابتداء میں امریکہ میں مسلمانوں کا داخلہ ممنوع کردینے کا اعلان کیا تو کبھی موجودہ صدر بارک اوباما کو مسلمان قرار دیا ۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بارک اوباما ہی در اصل دہشت گرد تنظیم آئی ایس آئی ایس کے بانیوں میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے اپنی مخالف ڈیموکریٹ امیدوار ہیلاری کلنٹن یا ان کے شوہر کو بھی نہیں بخشا اور ان کے تعلق سے بھی ایسے ریمارکس کئے گئے جنہیں پسند نہیںکیا گیا ۔ بالآخر ٹرمپ صدارتی امیدواری حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے اور جب باضابطہ انتخابی مہم شروع ہوگئی تو وہ قدرے سنبھلے ہوئے نظر آئے ۔ امریکی ریاستوں میں ہونے والے سرویز میں یہ واضح ہوا ہے کہ ابتداء میں کافی بڑی سبقت رکھنے والی ہیلاری کلنٹن کو ٹرمپ سخت مقابلہ دے رہے ہیں۔ انہوں نے عوامی تائید کے فرق کو بھی کسی حد تک کم کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی لیکن چونکہ اس بار امریکہ میں انتخابی مہم اس ڈھنگ سے چلائی جا رہی ہے جس کی ماضی میں نظیر نہیں ملتی ایسے میں ٹرمپ کا ایک ویڈیو منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے خواتین کے تعلق سے انتہائی نازیبا ریمارکس کئے ہیں اور کہا کہ چونکہ وہ ایک سلیبریٹی ہیں اس لئے خواتین کے ساتھ جو چاہے کرسکتے ہیں ۔ ان کا یہ ویڈیو جیسے ہی عام ہوگیا ٹرمپ کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا اور ایسا لگ رہا ہے کہ ان کی انتخابی مہم متاثر ہوکر رہ گئی ہے ۔ حالانکہ ٹرمپ نے اس پر فوری وضاحت کی اور پھر بعد میں ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے انہوں نے معذرت خواہی بھی کی ہے لیکن اس وقت تک انہیں جو نقصان پہونچنا تھا وہ ایسا لگتا ہے کہ پہونچ چکا ہے ۔ ٹرمپ کو جہاں سوشیل میڈیا پر عوامی تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہیں خود ان کی ریبپلیکن پارٹی میں بھی ان کی مخالفت شروع ہوگئی ہے اور ان کی ہی پارٹی کے ایک لیڈر نے تو انہیں صدارتی دوڑ سے دستبردار ہوجانے تک کا مشورہ دیدیا ہے ۔ ان کی ہی پارٹی کے دوسرے کئی سینئر قائدین نے بھی ٹرمپ کی تائیدسے دستبرداری کا اعلان کردیا ہے ۔
ٹرمپ جس طرح سے اپنی انتخابی مہم چلا رہے ہیں اس سے ان کے غیر سیاسی پس منظر کا پتہ چلتا ہے ۔ انہیں سیاسی سوجھ بوجھ کی کمی کا مسئلہ درپیش ہے ۔ انہوں نے چند دن قبل ایک سابقہ مس یونیورس کے تعلق سے بھی ریمارکس کئے تھے اور اس پر بھی ہنگامہ کھڑا ہوا تھا ۔ حالانکہ اس وقت بھی انہوں نے اپنے موقف کی وضاحت کی تھی لیکن ایک دہے قدیم ویڈیو کی وجہ سے ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنی انتخابی مہم میں پچھڑتے جا رہے ہیں۔ ان کی سیاسی تجربہ کی کمی نے انہیں اس مقام پر پہونچا دیا ہے جہاں وہ خود امریکی معاشرہ میں متنازعہ بن گئے ہیں۔ ٹرمپ نے جہاں مسلمانوںکے تعلق سے نامعقول ریمارکس کئے تھے وہیں انہوں نے میکسیکو کے خلاف بھی متنازعہ ریمارکس کئے ۔ یہ اعلان کیا کہ وہ دونوں ملکوں کی سرحد پر دیوار تعمیر کردینگے ۔ انہوں نے حالانکہ کچھ ایسے امور پر بھی اظہار خیال کیا تھا جس کی امریکی معاشرہ میں ضرورت تھی اور ان کی پالیسیوں کے اعلان کو پذیرائی بھی حاصل ہوئی تھی لیکن وہ ہیلاری کے خلاف عوام کی تائید اس حد تک حاصل کرنے میں ناکام نظر آرہے ہیں جتنی ہیلاری کو حاصل ہو رہی ہے ۔ انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ کے ریمارکس اور انتخابی مہم کے آغاز سے قبل اپنے ٹیکس ریٹرنس داخل کرنے سے گریز کی وجہ سے انہیں جو نقصان ہوا ہے وہ خود کی وجہ سے ہے ۔ ان کے مخالفین انہیں اتنا نقصان نہیں پہونچا پائے ہیں جتنا خود ٹرمپ نے اپنے متنازعہ ریمارکس اور بے ہنگم لب و لہجہ کی وجہ سے پہونچالیا ہے ۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ٹرمپ نے خواتین کے تعلق سے یا دوسرے امور پر متنازعہ ریمارکس کئے ہوں۔ اس سے قبل بھی انہوں نے ایسا کیا تھا ۔ ٹرمپ ایسا لگتا ہے کہ لب کشائی کرتے ہوئے اس کے اثرات پر غور نہیں کرتے ۔ انہوں نے ایک موقع پر اپنے انٹرویو میں خود اپنی دختر کے تعلق سے کچھ ریمارکس کئے تھے جنہیں پسند نہیں کیا گیا ۔ اس انٹرویو میں انہوں نے اپنی دختر کی جسمانی ساخت وغیرہ کے تعلق سے اظہار خیال کیا تھا ۔ اسی انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ کسی 24 سالہ دوشیزہ کے ساتھ تعلقات بنانے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کرینگے ۔ انہوں نے ایک موقع پر ایک اور صدارتی دعویدار خاتون کے تعلق سے کہا تھا کہ ان کا چہرہ دیکھئے ‘ کیا اس چہرہ پر انہیں کوئی ووٹ دیگا ؟ ۔ یہ ایسے ریمارکس ہیں جن سے ٹرمپ کی ذہنیت کی عکاسی ہوتی ہے اور وہ خواتین کے تعلق سے انتہائی اوچھی سوچ رکھتے ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ انہیں اپنی اس سوچ کا خمیازہ بھگتنا پڑیگا کیونکہ خود امریکہ معاشرہ اسے پسند نہیں کر رہا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT