Tuesday , November 13 2018
Home / دنیا / ڈوول کی پامپیو ، میاٹس اور بولٹن سے بات چیت

ڈوول کی پامپیو ، میاٹس اور بولٹن سے بات چیت

ہند ۔ امریکہ تعلقات کو نئی جہت۔ باہمی ، علاقائی و عالمی مسائل پر غور

واشنگٹن۔ 15 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول نے امریکی وزیر خارجہ مائیک پامپیو ، وزیر دفاع جیمس میاٹس اور اپنے امریکی ہم منصب جان بولٹن سے وسیع تر بات چیت کی۔ اس دوران ہند ۔ امریکی حکمت عملی کے تعلقات پر ’’مستقبل کی جہت‘‘ کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ ہندوستان اور امریکہ کے وزرائے دفاع اور وزرائے خارجہ کی ایک ہفتہ قبل 2+2 کامیاب بات چیت کے بعد ڈوول کی یہاں ٹرمپ انتظامیہ کے ان تین اعلیٰ عہدیداروں سے یہ پہلی ملاقات ہے۔ علاوہ ازیں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے نئے قومی سلامتی مشیر جان بولٹن سے ان کی یہ اولین ملاقات بھی ہے۔ باخبر ذرائع نے پی ٹی آئی سے کہا کہ ’’تین ملاقاتوں میں ڈوول کو 2+2 بات چیت کے بعد تمام تر باہمی تعلقات پر دوبارہ غور کا ایک بہتر موقع ملا ہے۔ انہوں نے نئی دہلی میں گزشتہ ہفتہ منعقدہ مذاکرات کی بنیاد پر یہ بات چیت کی ہے‘‘۔ ذرائع نے تفصیلات بتائے بغیر صرف اتنا کہا کہ امریکہ میں متعینہ ہندوستانی سفیر نوتیج سنگھ سرنا بھی ان ملاقاتوں اور بات چیت کے دوران ڈوول کے ساتھ موجود تھے جس میں علاقائی مسائل اور عالمی تبدیلیاں بھی زیرگفتگو رہیں۔ ہندوستان میں متعینہ امریکی سفیر کینتھ جسٹر نے ٹوئٹر پر لکھا کہ گزشتہ ہفتہ کے 2+2 مذاکرات نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید قریب تر کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہند۔ امریکی تعلقات مسلسل فروغ و استحکام کے ساتھ نئی بلندیوں پر پہونچ رہے ہیں۔

دہشت گردی آج کا سب سے بڑا خطرہ
سربیائی صدر سے وینکیا نائیڈو کی ملاقات
بلغراد ۔ 15 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) نائب صدر جمہوریہ ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ آج کی دنیا میں اچھی اور بُری دہشت گردی کے درمیان مصنوعی توضیح و تفر یق کرنا انتہائی سنگین خطرہ ہے ۔ جس (خطرہ) کو منظم بین الاقوامی اقدام کے ذریعہ شکست دی جاسکتی ہے۔ انہوں نے سربیا کے صدر الیگزینڈر وویچ کے ساتھ بات چیت کے دوران یہ ریمارکس کئے ۔ نائیڈو نے اس لعنت کی سرکوبی کیلئے عالمی قانون کے چوکٹھے کو مستحکم بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا ۔ نائیڈو وسطی یوروپی ممالک کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات کو فروغ دینے کی مساعی کے حصہ کے طور پر سربیا، مالٹا اور رومانیہ کے تین قومی دور ہ پر ہیں ۔ دونوں قائدین نے ہمہ فریقی مسائل پر نظریات کا تبادلہ کیا اور باہمی مفادات کے شعبوں میں تعاون کے فروغ سے اتفاق کیا ۔

TOPPOPULARRECENT