Thursday , November 23 2017
Home / دنیا / ڈوکلم مسئلہ پر جوں کا توں موقف بحال کرنے امریکی تائید

ڈوکلم مسئلہ پر جوں کا توں موقف بحال کرنے امریکی تائید

ہندوستان اور چین کو بات چیت کے ذریعہ پُرامن یکسوئی کا مشورہ
واشنگٹن ۔ 27اگست ( سیاست ڈاٹ کام ) ہندوستان اور چین کے درمیان صف آرائی کی بات چیت کے ذریعہ پُرامن یکسوئی کے بارے میں پُراُمید ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ امریکہ سہراہا پر جوں کا توں موقف کے عنقریب بحال ہونے کی توقع رکھتا ہے ۔ امریکہ کو خودمختاری کے اس مسئلہ پر بہت زیادہ تشویش ہے ۔ وہ چاہتا ہے کہ بین الاقوامی قانون کی پابندی کی جائے ۔ دریں اثناء ایشیاء کے دو بڑے ممالک میں اس سلسلہ میں کشیدگی پیدا ہوگئی ہے ۔ امریکہ کے عہدیدار نے کہا کہ ہم صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور انتہائی محتاط موقف اختیار کررہے ہیں ۔ کیونکہ ہمیں اس تنازعہ پر تشویش ہے ۔ امریکہ اُمید کرتا ہے کہ دونوں فریقین بات چیت کے ذریعہ اس تنازعہ کی پُرامن یکسوئی کرسکتے ہیں ۔ ہم جوں کا توں موقف بحال کرنے کی تائید کرتے ہیں ۔ ہمیں بھوٹان کی خودمختاری کیلئے پیدا ہونے والے مسائل پر بھی تشویش ہے ۔ ہمیں سیدھے سادھے الفاظ میں بین الاقوامی قانون کی پابندی کی فکر ہے ۔ امریکی عہدیدار نے کہا کہ اس کے خیال میں یقینی طور پر مخصوص تنازعہ یقیناً پُرامن یکسوئی کا تقاضہ کرتا ہے ۔ کیونکہ یہ ایک خاص مسئلہ سے تعلق رکھتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور چین کے درمیان اس حساس مسئلہ پر امریکہ محتاط موقف اختیار کررہا ہے ۔ اس کے دونوں عہدیدار جو چین میں مقیم ہیں سرکاری ادارہ برائے ذرائع ابلاغ سے کہہ چکے ہیں کہ گذشتہ چند مہینوں میں اس مسئلہ کو لفاظی نے پیچیدہ بنادیا ہے ۔ بعض اوقات ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم دہلی کے دائرے کار میں مداخلت کررہے ہیں ۔ جس نے ایک بالغ نظر اور مستحکم موقف چین کے برعکس اختیار کیا ہے ۔ماہرین کے بموجب امریکہ کو یقین ہے کہ اس مسئلہ کی یکسوئی ہنوز باقی ہے ۔ تاہم امریکہ ایک قریبی دوست کی حیثیت سے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور امید کرتا ہے کہ ہندوستان اور چین بات چیت کے ذریعہ حالات کی پُرامن طور پر یکسوئی کرلیں گے ۔ ہم انتہائی احتیاط کے ساتھ صورتحال اور حکومت ہند کے ساتھ اس مسئلہ پر بات چیت کررہے ہیں اور اگر دونوں ممالک چاہیں تو ان کی مدد کیلئے اپنا موقف تبدیل بھی کرسکتے ہیں ۔ انتظامیہ کے سینئر عہدیدار نے ایک سوال کے جواب میں فوری وضاحت کی کہ ہندوستان کی جانب سے اس قسم کی درخواست کی گئی تھی لیکن ہمارا ارادہ اس تنازعہ میں الجھنے کا قطعی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تاہم‘ ہم مدد کیلئے تیار ہیں ۔ جہاں تک ہندوستان اور چین کا سوال ہے اگر وہ امریکی مداخلت ضروری سمجھتے ہیں تو ایسا کیا جاسکتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT