Thursday , September 20 2018
Home / اداریہ / ڈوکلم میں چین کی تعمیرات

ڈوکلم میں چین کی تعمیرات

حیاتِ شوق کچھ اتنی تھی مختصر اپنی
نظر ملا کے بھی ان سے نظر ملا نہ سکے
ڈوکلم میں چین کی تعمیرات
چین ‘ ایسا لگتا ہے کہ ڈوکلم تعطل کے خاتمہ کے بعد بھی اپنے رویہ میں تبدیلی لانے تیار نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے ڈوکلم میں ہندوستان کے ساتھ ہوئے فوجی تعطل کے مقام سے بالکل قریب میں ایک بڑا فوجی کامپلکس تعمیر کر رہا ہے ۔ اس کے علاوہ اس علاقہ میں چین کی جانب سے بڑے پیمانے پر انفرا اسٹرکچر کی تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے ۔ ہندوستان کے ساتھ چین کے تعلقات ڈوکلم تنازعہ کی وجہ سے متاثر ہوکر رہ گئے تھے اور یہاں تقریبا ایک ماہ تک تعطل کی کیفیت پیدا ہوگئی تھی ۔ چین نے اب دوبارہ سے اپنی سرگرمیاں شروع کردی ہیں اور اس نے ان سرگرمیوں کو جائز اور منطقی قرار دیا ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ ان تعمیرات اور انفرا اسٹرکچر کی فراہمی کے ذریعہ خود اپنے علاقہ میں مقیم شہریوں اور اپنے فوجیوں کی حالت میں سدھار لانا چاہتا ہے ۔ یہ اطلاعات گذشتہ چند دنوں سے گشت کر رہی تھیں کہ چین کی جانب سے ڈوکلم کے قریب ایک بڑا فوجی کامپلکس تعمیر کیا جا رہا ہے ۔ ہندوستان نے ابھی تک اس مسئلہ پر چین کے ساتھ کوئی سخت رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے اور محض اتنا کہا جا رہا ہے کہ ڈوکلم میں ہونے والی تبدیلیوں پر مسلسل اور قریبی نظر رکھی جا رہی ہے ۔ ان تعمیرات اور سرگرمیوں کے نتیجہ میں یہ تشویش دوبارہ پیدا ہوگئی ہے کہ چین ‘ ہندوستان کے ساتھ ایک بار پھر تعطل جیسی کیفیت پیدا کرنا چاہتا ہے ۔ چین کا کہنا ہے کہ ڈوکلم پر اس کا موقف بالکل واضح ہے ۔ یہ علاقہ چین سے تعلق رکھتا ہے اور یہ ہمیشہ ہی چین کے دائرہ اختیار میں رہا ہے اور اس پر کوئی تنازعہ نہیں ہے ۔ چین کا یہ دعوی اپنی جانب سے یکطرفہ ہی کہا جاسکتا ہے کیونکہ اس پر سہ فریقی دعوے ہیں۔ ہندوستان بھی اس علاقہ پر اپنا دعوی رکھتا ہے جبکہ بھوٹان بھی اس علاقہ کو اپنا علاقہ قرا ردیتا ہے ۔ اس پر ابھی نہ کوئی یکسوئی ہوئی ہے اور نہ بات چیت میں کوئی پیشرفت ہوئی ہے اس کے باوجود چین اپنے توسیع پسندانہ عزائم پر عمل آوری میں مصروف ہوچکا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ ہندوستان کے ساتھ خوشگوار تعلقات بھی ان سرگرمیوں میں چین کیلئے کوئی رکاوٹ نہیں بن رہے ہیں۔ ہندوستان حالانکہ وقفہ وقفہ سے کچھ احتجاج ان سرگرمیوں پر ضرور کرتا رہا ہے لیکن اس کے احتجاج میں کوئی شدت نہیں رہی اور چین نے اس کو کبھی خاطر میں نہیں لایا ۔
حکومت ہند نے اس مسئلہ پر اپنے رد عمل میں کہا کہ ڈوکلم میں چین کی سرگرمیوں کے تعلق سے اطلاعات پر اس نے اپنا موقف واضح کردیا ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے مابین حالت جوں کی توں برقرار رہنی چاہئے اور اس میں کوئی تبدیلی آنی چاہئے ۔حکومت صرف اس طرح کا بیان دیتے ہوئے خود بری الذمہ نہیں ہوسکتی ۔ چین مسلسل ڈوکلم کی سرحد پر اپنی سرگرمیاں نہ صرف جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ اس میں مزید توسیع کرتا جا رہا ہے ۔ اب تو اس نے علاقہ میں ایک بڑے فوجی کامپلکس کی تعمیر بھی شروع کردی ہے اور وہ اس علاقہ کو اپنا علاقہ قرار دیتا ہے اور کسی کے ادعا یا اعتراض کو وہ تسلیم کرنے کیلئے بھی تیار نہیں ہے ۔ وزارت خارجہ کے ذریعہ چین پر دباؤ ڈالنے اور اسے یہاں ایسی تمام سرگرمیوں سے روکنے کی ضرورت ہے جن سے ہندوستان کی علاقائی سالمیت کو کوئی خطرہ درپیش ہوتا ہو یا پھر سرحدات پر ہندوستانی سپاہیوں کی سکیوریٹی اور سلامتی متاثر ہونے کے اندیشے پیدا ہوتے ہوں۔ حکومت ہند ان سرگرمیوں کو شرارت پر مبنی بھی قرار دیتی ہے لیکن وہ ان شرارت پر مبنی سرگرمیوں پر قابو پانے اور انہیں روکنے کیلئے چین پر اثر انداز ہونے خاطر خواہ اقدامات نہیں کر رہی ہے ۔ چین کے ساتھ ہمیشہ ہی صورتحال پرسکون نہیں رہی ہے ۔ اروناچل پردیش کے کچھ علاقوں میں پر چین کے جو عزائم ہیں وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں اور چین اس پر اپنی ہٹ دھرمی پر قائم بھی ہے ۔
اس صورتحال کا ازالہ ہونا چاہئے حکومت کو اس پر اپنی جانب سے سخت موقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی گذشتہ انتخابات میں یہ کہتے تھے کہ ’ چین سے آنکھ میں آنکھ ملا کر بات کی جانی چاہئے ‘ تاہم انہیں وزارت عظمی سنبھالے چار سال ہونے والے ہیں لیکن ابھی تک انہوں نے چین کی طرف آنکھ اٹھاکر دیکھنا تک گوارہ نہیں کیا ۔ وہ چین کے ساتھ آنکھ میں آنکھ ملانے کی بجائے چین کے وزیر اعظم کو ہندوستان میں سیر کروانے میں مصروف ہیں ۔ سرحد پر ایک ماہ تک تعطل کے دوران بھی انہوں نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تھا اور اب بھی وہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ خاموشی کی طوالت بڑھتی جا رہی ہے ۔ قومی سلامتی اور سالمیت کے اس مسئلہ پر انہیں لب کشائی کرنی چاہئے اورڈوکلم کی صورتحال پر چین کو جھنجھوڑنا ضروری ہوگیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT