Thursday , December 14 2017
Home / ہندوستان / ڈوکلم میں ہندوستانی فوج میں بڑے پیمانے پر ردوبدل

ڈوکلم میں ہندوستانی فوج میں بڑے پیمانے پر ردوبدل

چینی لفاظی نظرانداز‘ رسدکی سربراہی غیر متاثر
نئی دہلی ۔ 9جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) ہندوستانی فوج ڈوکلم کے علاقہ میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کیلئے تیار ہے ۔ بھوٹان کے قریب سہ راہے پر چین کی لفاظی کو نظرانداز کرتے ہوئے ہندوستان نے اپنی فوج دستبردار کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ہندوستانی فوجی متنازعہ علاقہ میں خیموں میں تعینات تھے ۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس مقام سے واپس ہوسکتے ہیں ‘ بشرطیکہ چین کی فوج کی جانب سے بھی جوابی خیرسگالی کا مظاہرہ کیا جائے ۔ اس طرح سکم کے علاقہ میں تقریباً 10ہزار فٹ کی بلندی پر دونوں ممالک کی ایک دوسرے کے خلاف صف آرائی کا خاتمہ ہوسکتا ہے ۔ رسد کی سربراہی یہاں پر تعینات فوجیوں کیلئے بلارکاوٹ جاری ہے ۔ سرکاری ذرائع کے بموجب ہندوستانی فوج چین کے کسی بھی دباؤ کے تحت نہیں ہے اور اپنا کام آزادانہ طور پر انجام دے رہی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ ان کا اعتماد برقرار ہے ۔ ایک تنازعہ کا سفارتی حل دریافت کرلیا جائے گا ۔ فوج ماضی میں جھڑپوں کے بعد کامیاب سفارت کاری مثال پیش کرتے ہیں ‘ حالانکہ چین نے جارحانہ بیانات دیئے ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر سمجھوتہ کرنے کیلئے تیار نہیں ہے ‘ اس نے کہا تھا کہ ’’ اب گیند ہندوستان کے کورٹ میں ہے ‘‘ یہ نقطہ نظر صیانتی انتظامیہ کیلئے مناسب نہیں ہے ۔ کیونکہ کشیدگی دور کرنے کیلئے یکطرفہ کارروائی نہیں کی جاسکتی ۔ دونوں ممالک نے 2012ء میں اتفاق کیا تھا کہ تمام سرحدی تنازعات کی یکسوئی مختلف سطحوں پر باہم مشاورت کے ذریعہ کی جائے گی ۔ ایک نظام قائم ہوچکا ہے جو اب تک کامیابی سے کام کررہا ہے ۔ بھوٹان کے سہ رائے کے قریب چین نے کوشش کی ہے کہ حکمت عملی کے اعتبار سے اہم علاقہ میں تین ہفتہ سے زیادہ دستبرداری اختیار نہیں کی جائے گی ۔ حکومت ہند پہلے ہی چین کو اطلاع دے چکا ہے کہ ایسی کارروائی سے جوں کا توں حالت برقرار رکھنے کے موقف میں سنگین تبدیلی آئے گی اور اس کے سنگین صیانتی اثرات مرتب ہوں گے ۔ سڑک کے ذریعہ رابطہ چین کی فوج کو ہندوستان پر برتری دے سکتا ہے ۔ ڈوکلم ہندوستانی نام ہے جو اس علاقہ کو دیا گیاہے اور بھوٹان بھی اس نام کو تسلیم کرتا ہے جب کہ چین کا ادعا ہے کہ یہ چینی علاقہ ڈونگ لانگ ہے ۔

TOPPOPULARRECENT