Tuesday , January 23 2018
Home / شہر کی خبریں / ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ الحاج محمد محمود علی کی ادائیگی حج کے بعد حیدرآباد واپسی

ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ الحاج محمد محمود علی کی ادائیگی حج کے بعد حیدرآباد واپسی

ایرپورٹ پر نعرے تکبیر کی گونج میں شاندار خیرمقدم، مسائل کو بحسن و خوبی حل کرنے کا عزم

ایرپورٹ پر نعرے تکبیر کی گونج میں شاندار خیرمقدم، مسائل کو بحسن و خوبی حل کرنے کا عزم
حیدرآباد۔11اکٹوبر(سیاست نیوز) حج اکبر کی تکمیل کے بعد نائب وزیراعلی تلنگانہ ریاست الحاج محمد محمو دعلی آج حیدرآباد واپس لوٹے ۔ شمس آباد ائیر پورٹ پر ٹی آر ایس پارٹی قائدین اور محبان ڈپٹی چیف منسٹر نے ان کا والہانہ استقبال کیا گیا اورپارٹی کارکنوں اور قائدین کی جانب سے ائیرپورٹ پر جناب محمد محمود علی کے استقبال میںروایتی عربی باجہ کا بھی اہتمام کیاگیا تھا اور پارٹی قائدین اور کارکنوں کی جانب سے جناب محمد محمودعلی کی بکثرت گلپوشی بھی کی ۔ ائیرپورٹ سے ان کی قیامگاہ واقع اعظم پورہ تک قافلے کی شکل میںنعروں کی گونج میں لایا گیاجہاں پر ٹی آر ایس پارٹی کے سینکڑوں کارکن پہلے سے ہی نائب وزیراعلی کے استقبال کیلئے منتظر تھے۔ بعد ازاںجناب محمد محمو دعلی نے اپنے سعودی کی تفصیلات سے واقف کرواتے ہوئے تلنگانہ حج کمیٹی کے بشمول‘ سعودی حکام اور سعودی ائیرلائنس کا فرداً فرداً شکریہ ادا کیاجنھوں نے تلنگانہ کے عازمین حج کو بہترین سہولتیں فراہم کی۔ جناب محمد محمود علی نے سال 2014کے عازمین حج سے بہتر سہولتیں تلنگانہ حکومت کی جانب سے مستقبل میں فراہم کرنے کا ادعا کیا۔ انہوں نے کہاکہ اس سال حج اکبر کے موقع پر تلنگانہ ریاست کی ترقی ‘ خوشحالی ‘ اور وزیراعلی کے چندرشیکھر رائو کی درازی عمر کے لئے مذہبی‘ سماجی ‘ تجارتی شعبوں سے وابستہ اہم شخصیتوں نے خصوصی دعائوں کا اہتمام کیا۔ انہوں نے حج کے دوران تلنگانہ کے عازمین حج اور سعودی عربیہ کے غیر مقیم ہندوستانی جن کا تعلق ریاست حیدرآباد سے ہے نے جوش وخروش پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ناصرف تلنگانہ کے مسلمان بلکہ سعودی عربیہ میںبرسرروزگار غیر مقیم تلنگانہ کے ہندوستانیوں کو بھی تلنگانہ ریاست کی تشکیل سے کافی اُمیدیں وابستہ ہیں۔ انہوں نے برسوں سے سعودی عربیہ میںخدمات انجام دینے والے تلنگانہ کے غیر مقیم ہندوستانیوں کو درپیش مسائل کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہاکہ پچھلے چالیس سالوں سے ہندوستانی سفارت خانے کا ایک ہی اسکول جدہ میںکام کررہا ہے۔ مکہ اور مدینہ شریف میںیہ سہولتیں غیر مقیم ہندوستانیوں کے لئے دستیاب نہیںہیں جس کے سبب مذکورہ طبقہ اپنے بچوں کو مقامی خانگی اسکولوں میں تعلیم دلانے پر مجبو ر ہیں اور کم آمدنی والے خاندان اپنے بچوں کے خانگی تعلیمی اداروں میںداخلوں سے قاصر ہیں ۔ جناب محمد محمود علی نے کہاکہ حکومت تلنگانہ کی جانب سے جدہ کے علاوہ مکہ مکرمہ اور مدینہ شریف میں بھی ہندوستانی سفارت خانے کے اسکولس کے برانچ قائم کرنے کے لئے نمائندگی کی گئی جس پر سفیر برائے ہند جناب سید مبارک نے اندرون ایک سال مکہ اور مدینہ شریف میں بھی ہندوستانی سفارت خانے کے اسکولی برانچ قائم کرنے کا وعدہ کیا ۔ جناب محمد محمود علی نے کیرالا کے طرز پر حکومت تلنگانہ کی جانب سے ریاستی این آرآئی وزرات قائم کرنے سے متعلق سعودی عربیہ کے غیرمقیم ہندوستانیوں کوواقف کروانے کے بعد ہوئے ردعمل پر بھی مسرت ظاہر کی۔ غیر مقیم ہندوستانی جن کا تعلق تلنگانہ سے ہے تلنگانہ حکومت کے فیصلوں بالخصوص اقلیتوں اور این آر آئیز کی فلاح وبہبود کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات پرکافی مطمئن ہیں۔ انہوں نے تلنگانہ کی تعمیر نو میںسرمایہ کاری کے لئے این آرآئیز طبقے میں سنجیدگی دیکھی جارہی ہے بالخصوص تلنگانہ کے رئیل اسٹیٹ مارکٹ میںسرمایہ کاری کے لئے سعودی عربیہ کے بیشتر این آر آئیز نے حامی بھی بھری مگر سرمایہ کاری کے لئے حکومت کی سرپرستی کو این آر آئیز لازمی قراردے رہے ہیںکیونکہ خانگی اداروں کی دھوکہ دہی سے این آر آئی طبقہ کافی پریشان بھی ہے۔جناب محمد محمود علی نے کہاکہ این آر آئیز کالونی قائم کرنے کا جو فیصلہ تلنگانہ حکومت نے لیاہے اس میںمکمل تعاون کا این آر ائیز نے وعدہ بھی کیا ہے۔ جناب محمد محمو دعلی نے مسئلہ رباط کو بھی حل کرنے کا ادعا کیا اور کہاکہ پچھلے کئی دہوں سے نظام ٹرسٹ اور سعودی ربط کی رسہ کشی میں تلنگانہ کے عازمین حج و عمرہ کا کافی پریشانیوںکا سامنا کرنا پڑرہا تھا مگر اس طویل مدتی مسلئے کو بھی حل کرلیا گیا ہے ۔ انہو ںنے کہاکہ 263کے 600عازمین حج وعمرہ کے لئے رہائشی سہولتیں فراہم کرنے کا جناب حسین شریف نے وعدہ کیاہے ۔ انہوں نے کہاکہ قونصلیٹ جنرل کے دفتر میں تنازعہ کو حل کرلیا گیا ہے۔ انہوں نے تھر مل پائور پروڈکشن کے لئے سعودی سرمایہ کاروں کی رضامندی کا بھی اس موقع پر ذکر کیا۔ عنقریب حیدرآباد تشریف لائیں گے اور وزیراعلی کے چندرشیکھر رائو سے ملاقات کرکے اپنے پراجکٹ کی تفصیلات پیش کریں گے ۔ انہوںنے کہاکہ سعودی سرمایہ کاروں نے اس ضمن میںچینی ماہرین سے بھی مشاورت کی ہے تاکہ چار تا پانچ بلین کروڑ کی سرمایہ کاری کے ذریعہ تلنگانہ ریاست کو درپیش برقی بحران کا موثر حل تلاش کیا جاسکے۔جناب محمد محمود علی نے کہاکہ تلنگانہ حکومت کی مستقبل کی حکمت عملی کے مطابق تلنگانہ ریاست کو چوبیس گھنٹے برقی کے سربراہی کو یقینی بنانے کے لئے تھر مل پائور پروڈکشن یونٹوں کا تلنگانہ میں قیام ناگزیرہے۔انہوں نے ان تمام افراد کا بھی شکریہ ادا کیا جنھوں نے حج روانگی سے قبل اور مابعد واپسی نیک تمنائوں کا اظہار کیا۔

TOPPOPULARRECENT