Tuesday , December 11 2018

ڈگ وجئے سنگھ ٹی آر ایس سے اتحاد کے حامی

کانگریس کے کئی قائدین مفاہمت کے مخالف، تلنگانہ جے اے سی ارکان کو ٹکٹ ممکن

کانگریس کے کئی قائدین مفاہمت کے مخالف، تلنگانہ جے اے سی ارکان کو ٹکٹ ممکن

حیدرآباد 13 مارچ (سیاست نیوز)تلنگانہ کانگریس الیکشن کمیٹی کے اجلاس میں بیشتر قائدین نے ٹی آر ایس سے اتحاد کرنے کی مخالفت کی ڈگ وجئے سنگھ نے ٹی آر ایس سے اتحاد کی پیشکش ہونے پر غور کرنے کا تیقن دیا۔ ہر ضلع سے ایک کم از کم 10 مسلمانوں کو ٹکٹ دینے کا مسٹر محمد علی شبیر نے مطالبہ کیا جس کی مسٹر محمد فرید الدین نے بھر پور حمایت کی۔ مسٹر پونم پربھاکر نے رینوکا چودھری کو مخالف تلنگانہ قرار دیا ٹی آر ایس ۔ سی پی آئی۔ مجلس سے اتحاد کرنے اور تلنگانہ جے اے سی کے ارکان کو ٹکٹ دینے کا بھی اشارہ دیا گیا۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کی صدارت میں آج شام گاندھی بھون میں تلنگانہ الیکشن کمیٹی کا تقریبا تین گھنٹوں تک اجلاس منعقد ہوا جس میں کانگریس کے جنرل سکریٹری و انچارج اے پی کانگریس اُمور مسٹر ڈگ وجئے سنگھ نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں سابق ریاستی وزراء مسٹر محمد علی شبیر، مسٹر محمد فرید الدین، مسٹر سریدھر بابو، مسز ڈی کے ارونا مسز سبیتا اندرا ریڈی ارکان پارلیمنٹ مسٹر وی ہنمنت راو مسٹر انجن کمار یادو مسٹر پونم پربھاکر کے علاوہ دوسرے قائدین نے شرکت کی۔ اجلاس سے 24 قائدین نے خطاب کیا جس میں 22 قائدین نے ٹی آر ایس سے اتحاد کی مخالفت کی ۔ ٹی آر ایس کی جانب سے ایک طرف اتحاد کا اشارہ دیا جارہا ہے دوسری طرف امیدواروں کا اعلان کیا جارہا ہے۔

جو غیر اصولی اقدام ہے علاقہ تلنگانہ میں کانگریس مستحکم ہے 119 کے منجملہ 50 اسمبلی حلقوں پر کانگریس کا قبضہ ہے۔ کانگریس پارٹی نے علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دیا ہے جس سے کانگریس کے کیڈر میں کافی جوش و خروش پایا جاتا ہے اور عوام بھی کانگریس پر بھروسہ کا اظہار کررہے ہیں لہذا کانگریس تنہا مقابلہ کرے اور ٹکٹوں کی تقسیم میں سماجی انصاف سے کام لیا جائے۔ سابق ریاستی وزیر مسٹر محمد علی شبیر نے سربراہ ٹی ار ایس مسٹر کے چندر شیکھر راو کو دھوکہ باز قرار دیتے ہوئے کہا کہ علحدہ تلنگاہ ریاست کی تشکیل کے بعد کے سی آر ٹی آر ایس کو کانگریس میں صم کرنے کے وعدے سے منحرف ہوگئے دو مرتبہ زبردست مقابلہ کرنے والے ٹی آر ایس امیدوار کو ٹی آر ایس نے ٹکٹ دینے سے انکار کردیا وہ ڈپٹی چیف منسٹر کا عہدہ مسلمان کو کیسے دیں گے انہوں نے کانگریس کی کامیابی میں مسلمانوں کا اہم رول ہونے کا دعوی کرتے ہوئے 2014کے عام انتخابات میںہر ضلع سے کم ازکم 10 مسلم قائدین کو کامیاب ہونے والے حلقوں سے ٹکٹ دینے اور ان کی کامیابی کیلئے خصوصی حکمت تیار کرنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ 2009 کے عام انتخابات میں کانگریس تلگودیشم ٹی آر ایس ، سی پی آئی نے 14 مسلم قائدین کو ٹکٹ دیئے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑھتا ہیکہ ایک مسلم قائد کو بھی کسی جماعت نے کامیاب بنانے میںکلیدی رول ادا نہیں کیا گیا۔ لہذا اس مرتبہ کانگریس پارٹی کو خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

مسٹر محمدفرید الدین نے کہا کہ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد علاقہ تلنگانہ میں مسلمانوں کی مجموعی تناسب میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ہے لہذا آبادی کے تناسب سے مسلمانوں کو ٹکٹ دیا جائے۔ مسٹر پونم پربھاکر نے مسٹر رینوکا چودھری کو مخالف تلنگانہ قرار دیتے ہوئے انہیں فوری الیکشن کمیٹی سے علحدہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ جس کی دوسرے قائدین نے تائید کی۔ ڈگ وجئے سنگھ نے تحریری طور پر نمائندگی کرنے کا مشورہ دیا۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری ڈگ وجئے سنگھ نے ہر حلقہ سے ٹکٹ کے دعویداروں کی فہرست تیار کرنے کا الیکشن کمیٹی کو مشورہ دیا۔

TOPPOPULARRECENT