Friday , June 22 2018
Home / دنیا / ڈھاکہ میں جنگی مجرمین کی نماز ِ جنازہ پر سرکاری امتناع

ڈھاکہ میں جنگی مجرمین کی نماز ِ جنازہ پر سرکاری امتناع

ڈھاکہ۔ 26 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) بنگلہ دیش نے کہا کہ وہ کسی بھی جنگی مجرم کی نماز جنازہ کی اجازت نہیں دے گا جنہیں ملک کی 1971ء کی پاکستان کے خلاف جنگ آزادی میں پاکستان کی تائید کرنے پر سزائے موت دی گئی ہے۔ نماز جنازہ کل ڈھاکہ میں مقرر ہے۔ ملک کے وزیر برائے فراخدل جنگی اُمور مزمل حق نے کل کہا کہ 1971ء کے جنگی مجرمین میں سے کسی کی بھی نماز جناز

ڈھاکہ۔ 26 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) بنگلہ دیش نے کہا کہ وہ کسی بھی جنگی مجرم کی نماز جنازہ کی اجازت نہیں دے گا جنہیں ملک کی 1971ء کی پاکستان کے خلاف جنگ آزادی میں پاکستان کی تائید کرنے پر سزائے موت دی گئی ہے۔ نماز جنازہ کل ڈھاکہ میں مقرر ہے۔ ملک کے وزیر برائے فراخدل جنگی اُمور مزمل حق نے کل کہا کہ 1971ء کے جنگی مجرمین میں سے کسی کی بھی نماز جنازہ ڈھاکہ میں ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کئی مجاہدین آزادی نے جنگ آزادی کے دوران اپنی جانوں کی قربانی دی تھی۔ ان میں سے ایک فیصد کی بھی نماز جنازہ ادا نہیں کی گئی۔ وہ ’’بجوئے میلہ‘‘ میں خطاب کررہے تھے جو بنگلہ دیش کی آزادی کی تقریب ہے۔ bdnews24.com پر ان کی تقریر شائع کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی سڑتی ہوئی نعشوں کو جانور کھا گئے۔ یہی وجہ ہے کہ جنگی مجرمین کی سزائے موت کے بعد ڈھاکہ میں ان کی نماز جنازہ ادا کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جملہ 11 افراد کو انسانیت سوز جرائم کے ارتکاب پر سزائے موت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کی 1971ء کی جنگ آزادی میں پاکستانی فوجیوں کی تائید کی تائید کی تھی۔ 2010ء میں جنگی جرائم کے مقدمات کا آغاز ہوا تھا، تاہم اب تک ان میں سے صرف ایک کو سزائے موت دی گئی ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے اس کی نظرثانی درخواست مسترد کردینے اور ٹریبیونل کے فیصلے کی اپیل کی سماعت کے بعد توثیق پر ایسا کیا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT