Wednesday , December 19 2018

ڈھونگی قائدین کی پول کھل گئی

مسلم نوجوانوں کے انکاونٹر کے بعد قوم و ملت کے ہمدرد ہونے کا دعویٰ کرنے والوں نے سوگواروں کو پرسہ تک نہیں دیا

مسلم نوجوانوں کے انکاونٹر کے بعد قوم و ملت کے ہمدرد ہونے کا دعویٰ کرنے والوں نے سوگواروں کو پرسہ تک نہیں دیا
حیدرآباد ۔ 11 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : آلیر میں وقار احمد اور اس کے ساتھیوں کی انکاونٹر میں ہلاکت کے بعد ایک طرف جہاں قوم و ملت میں غم و غصہ و ناراضگی پائی جاتی ہے وہیں قوم و ملت کی ٹھیکیداروں کے دعویدار اطمینان سے رسمی روایات کو پورا کرنے میں مصروف ہیں اور امکانی حالات سے نمٹنے میں پریشان حال پولیس اور حکومت کے لیے مصالحت کار اور مددگار کرایہ کے باونسر بائے کا رول ادا کررہے ہیں ۔ وقار احمد اور اس کے ساتھیوں پر اگرچہ دہشت گردی اور دہشت گردوں سے تعلقات تخریب کاری ملک سے دشمنی و غداری کے سنگین الزامات پائے جاتے تھے ۔ تاہم یہ الزامات ابھی ثابت نہیں ہوئے تھے ۔ ایک عام قانون داں بھی یہ بات آسانی سے ماننے تیار نہیں کہ عدالت میں مقدمات کی زیر دریافتی کے دوران بھی کسی کو مجرم نہیں کہا جاسکتا تو بھلا انہیں ہلاک کیسے کیا جاسکتا ہے ۔ اگر وقار احمد اور اس کے ساتھیوں کا جرم ثابت ہوجاتا اور انہیں قانون کے لحاظ سے سزاء ملتی تو کسی کو اس طرح کا رنج و ملال غم و غصہ نہیں ہوتا ۔ جیسا کہ انکا انکاونٹر میں کئے جانے سے پایا جاتا ہے ۔ وقار احمد اور اس کے ساتھیوں کی ہلاکت سے لے کر تدفین اور مابعد تدفین چیف منسٹر سے نمائندگی تک مرحلہ میں جماعت نے رسمی روایات اور ضابطہ کی کارروائی انجام دی ۔ سوال یہ اُٹھ رہا ہے کہ اپنے دم پر حکومتوں کے مقدر کو بدلنے کے دعویدار اور قوم و ملت کی نمائندگی کا دم بھرنے والے خود کو اثر دار شخصیت ثابت کرنے والے جماعت کے قائد چیف منسٹر سے برسر موقع جواب کیوں حاصل کر نہیں پائے ؟ بڑے گروپ کی نمائندگی کے ساتھ چیف منسٹر کے اجلاس پہونچنے والے قائد آخر کیوں چیف منسٹر سے فوری اقدامات کروانے میں ناکام رہے ۔ جماعت کے اس قائد کے کردار اور اس رول پر سوالیہ نشان اٹھنے لگے ہیں ۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ مہلوک نوجوان سعید آباد پالیسی کے حامی اور جماعت کی پالیسیوں کو نہ پسند کرنے والے تھے ۔ پھر چیف منسٹر سے تین دن بعد اعلان پر خاموش کیسے لوٹ گئے اور نہ ہی ان نوجوانوں کی میت کو دیکھا اور نہ ہی نماز جنازہ جو فرض کفایہ ہے میں شرکت کی اور نہ ہی ان کے مکانات کو پرسہ دینے پہونچے ۔ کیا سوگواروں ان دکھیارے دلوں کو دلاسہ دینا بھی جماعت کے قائد اور چیف منسٹر سے ملاقات کرنے والی ٹیم کے کسی رکن کو گوارہ نہیں ہوا پھر کیا بات ہے کہ سعید آباد پالیسی سے اتنی دوری کیوں ۔ البتہ جماعت کے ایک رکن اسمبلی نماز جنازہ میں شریک تھے اور تدفین تک انہوں نے ساتھ نبھایا ۔ ان کے رول پر شبہات ظاہر کئے جارہے ہیں چونکہ اس رکن اسمبلی کا جو رول تھا وہ پولیس کی مائتری کمیٹی رکن جیسا رول رہا ۔ دونوں جنازوں کے راستوں کے رخ کو موڑنا ، برہم ہجوم اور جنازے میں شریک افراد کو پولیس کے رول سے خوف زدہ کرنا ایسا ہی رول رہا ۔ سعید آباد پالیسی کا ذکر اور ان سے مخالفت کی سابقہ مثالیں بھی پائی جاتی ہیں ۔ جب ایک عالم دین کے مکان میں پولیس داخل ہوتی ہے اور مکان میں صرف خواتین ہوتی ہیں ۔ پولیس ہراساں و پریشان کرتی ہے ۔ تب بھی جماعت کے صدر یا کوئی رکن اس کی مخالفت نہیں کی تو دعویداری کا ڈھونگ کب تک اور کس وجہ سے قوم و ملت کی دہائی ۔ جماعت اور اس کے صدر کے رول پر مختلف باتیں شہر میں ان دنوں موضوع بحث بنی ہوئی ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT