Saturday , December 16 2017
Home / شہر کی خبریں / ڈیجیٹل لین دین میں نمایاں گراوٹ ، کرنسی کا چلن

ڈیجیٹل لین دین میں نمایاں گراوٹ ، کرنسی کا چلن

نوٹ بندی کے باعث عوام مجبور تھے ، اے ٹی ایم سے رقم نکالنے میں اضافہ
حیدرآباد۔10جولائی (سیاست نیوز) کرنسی تنسیخ کے فیصلہ اور اس کے بعد الکٹرانک ادائیگی کے رجحان میں اضافہ کیلئے حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات میں بتدریج گراوٹ ریکارڈ کی جانے لگی ہے اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو الکٹرانک ادائیگی کے رجحان کے فروغ کیلئے مزید ترغیبات دینے کی ضرورت پڑے گی تاکہ ہندستانی شہریو ںمیں الکٹرانک اور موبائیل بینکنگ کے رجحان میں اضافہ ہو سکے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے 8نومبر 2016 کو اچانک 500اور ہزار کے نوٹوں کی تنسیخ کے اعلان کے ساتھ ہی ملک بھر میں عوام کو حیرت میں مبتلاء کردیا تھا اور اس کے بعد فوری طور پر کارڈ کے ذریعہ ادائیگی و الکٹرانک ادائیگیوں کو فروغ دینے کے اقدامات شروع کئے گئے اور ساتھ ہی 2000 اور 500کے نئے نوٹ جاری کئے گئے اور نقد رقومات عوام تک پہنچانے میں تاخیر کی گئی جس کے نتیجہ میں کارڈ کے استعمال کے رجحان میں اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا تھا اور اسی دوران حکومت کی جانب سے نقد کے بغیر لین دین کے منصوبے روشناس کرواتے ہوئے عوام کو کارڈ کے استعمال کی ترغیب دی جانے لگی اور کئی ریاستوں میں اضلاع و مواضعات کی جانب سے یہ دعوے بھی کئے جانے لگے کہ وہ مکمل نقد لین دین سے پاک ہوچکے ہیں اور حکومت کی جانب سے ان اعداد و شمار کو جبکہ نقد کی قلت تھی ایسا پیش کیا کہ ہندستان میں کارڈ کے استعمال کے سلسلہ میں انقلابی تبدیلی رونما ہونے لگی ہے لیکن اب جیسے جیسے وقت گذرتا جا رہا ہے اسی کے ساتھ ساتھ اس بات کا انکشاف بھی ہونے لگا ہے کہ عوام مجبوری کے سبب کارڈ کا استعمال کرنے لگے تھے کیونکہ انہیں بہ آسانی نقد رقومات دستیاب نہیں ہو رہی تھیں لیکن بینکوں کی جانب سے نقد رقومات کی اجرائی کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد حالات معمول پر آنے لگے اور لوگوں نے نقد رقومات کے ذریعہ خرید و فروخت شروع کردی جس کے سبب گذشتہ 6ماہ کے دوران کارڈ کے استعمال میں بتدریج گراوٹ ریکارڈ کی جانے لگی ہے اور خود بینک اہلکار اس بات کا اعتراف کرنے لگے ہیں کہ انہیں اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ نقد رقومات عوام کے ہاتھ میں پہنچنے کے نتیجہ میں بینک کھاتہ خالی ہوجائیں گے۔کرنسی تنسیخ سے قبل اے ٹی ایم مشین کے ذریعہ یومیہ 7000کروڑ روپئے منہاء کئے جاتے تھے لیکن کرنسی تنسیخ کے فوری بعد جو صورتحال پیدا ہوئی ڈسمبر 2016 میں یومیہ 2700کروڑ روپئے منہاء کئے جانے لگے لیکن اپریل 2017کے اعداد و شمار کو دیکھیں تو پتہ چلے گا کہ جو لوگ بینک میں رقومات رکھ چھوڑتے تھے ان لوگوں نے بھی اے ٹی ایم سے رقومات منہاء کرنی شروع کردی ہے اور اپریل 2017میں منہائی یومیہ 7200 کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔ کرنسی تنسیخ کے فیصلہ کے فوری بعد ڈیجیٹل ادائیگیوں میں زبردست اضافہ کا رجحان پیدا ہوا تھا لیکن اب اس رجحان میں کمی دیکھی جانے لگی ہے۔ نومبر2016 تا فروری 2017کے درمیان ڈیجیٹل ادائیگی بشمول کارڈ اور الکٹرانک ادائیگیوں کے رجحان میں اضافہ دیکھا گیا لیکن اب اس میں ہرماہ بتدریج کمی واقع ہونے لگی ہے اور جو لوگ تنخواہوں اور دیگر رقومات اپنے کھاتوں میں رکھتے ہوئے جمع کیا کرتے تھے انہیں بھی اب شبہات پائے جانے لگے ہیں اور وہ خود بھی کارڈ کا استعمال کرتے ہوئے مکمل رقومات منہاء کرنے لگے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT