Friday , January 19 2018
Home / Top Stories / ڈیزل کی قیمتیں سرکاری کنٹرول سے آزاد ‘ قدرتی گیس کی قیمت میں 46 فیصد اضافہ

ڈیزل کی قیمتیں سرکاری کنٹرول سے آزاد ‘ قدرتی گیس کی قیمت میں 46 فیصد اضافہ

نئی دہلی ۔18 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) ایک بڑے پالیسی فیصلے میں حکومت نے آج ڈیزل کی قیمتوں کو سرکاری کنٹرول سے آزاد کردیا تاہم حکومت نے قدرتی گیس کی قیمت میں 46 فیصد کا بھاری اضافہ کردیا جس کے نتیجہ میں فرٹیلائزر ‘ برقی ‘ سی این جی اور پی این جی کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا ۔ علاوہ ازیں حکومت کی جانب سے ڈیزل قیمتوں کو کنٹرول سے آزاد کرنے کے ب

نئی دہلی ۔18 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) ایک بڑے پالیسی فیصلے میں حکومت نے آج ڈیزل کی قیمتوں کو سرکاری کنٹرول سے آزاد کردیا تاہم حکومت نے قدرتی گیس کی قیمت میں 46 فیصد کا بھاری اضافہ کردیا جس کے نتیجہ میں فرٹیلائزر ‘ برقی ‘ سی این جی اور پی این جی کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا ۔ علاوہ ازیں حکومت کی جانب سے ڈیزل قیمتوں کو کنٹرول سے آزاد کرنے کے بعد ڈیزل کی قیمت میں آج نصف شب سے فی لیٹر 3.37 روپئے کی کمی ہوئی ہے اور آئندہ ماہ سے یہ قیمتیں بین الاقوامی قیمتوں کی مطابقت میں آجائیں گی ۔ گذشتہ تقریبا پانچ سال کے عرصہ میں یہ ڈیزل کی قیمتوں میں پہلی کمی ہے ۔ ڈیزل کی قیمتوں میں آخری مرتبہ 29 جنوری 2009 کو دو روپئے فی لیٹر کی کمی کی گئی تھی ۔ اس وقت ڈیزل کی قیمت فی لیٹر 30.86 روپئے تھی جو اب تازہ کٹوتی تک بڑھ کر 58.97 روپئے فی لیٹر ہوگئی تھیں۔ اب دہلی میں ڈیزل کی قیمت 55.6 روپئے فی لیٹر ہوگئی ہے ۔ ڈیزل قیمتوں کو سرکاری کنٹرول سے آزاد کرنے کے بعد حکومت کو ڈیزل پر کسی طرح کی سبسڈی دینی نہیں پڑیگی ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں منعقدہ کابینہ کے اجلاس میں ڈیزل قیمتوں کو سرکاری کنٹرول سے آزاد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ علاوہ ازیں مرکزی حکومت نے قدرتی گیس کی قیمت میں 46 فیصد اضافہ کا اعلان کیا ہے ۔ رنگاراجن کمیٹی نے قدرتی گیس کی قیمت میں 8.4 امریکی ڈالرس کے اضافہ کی سفارش کی تھی جسے سابقہ یو پی اے حکومت نے بھی قبول کرلیا تھا تاہم حکومت نے قدرتی گیس کی قیمت میں 46 فیصد اضافہ کا فیصلہ کیا ہے ۔اضافہ پر یکم نومبر سے عمل آوری ہوگی ( باقی سلسلہ صفحہ 3 پر )

اس اضافہ کے بعد جس پر یکم نومبر سے عمل آوری ہوگی قدرتی گیس کی قیمت 4.2 ڈالرس فی ملین برٹش تھرمل یونٹ سے بڑھ کر 6.17 ڈالرس فی ملین برٹش تھرمل یونٹ ہوجائیگی ۔ کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو تفصیلات سے واقف کرواتے ہوئے وزیر فینانس ارون جیٹلی نے کہا کہ یہ اضافہ سرمایہ کاری اور کھدوائی کیلئے مراعات کے طور پر کیا گیا ہے اور ساتھ ہی اس بات کا بھی خیال رکھا گیا ہے کہ صارفین پر زیادہ بوجھ عائد نہ ہونے پائے ۔ کابنہ کی جانب سے منظور کردہ موڈیفائی فارمولے کے بموجب گیس قیمتوں میں اضافہ جملہ کیلورفک قدر بنیاد پر 5.61 ڈالرس فی ملین برٹش تھمل یونٹ ہوجائیگی جبکہ 6.16 ڈالرس نیٹ قدر ہوجائیگی ۔ نئی قیمتیں چونکہ یکم نومبر سے لاگو ہونگی ایسے میں حکومت نے مکیش امبانی کی ریلائنس انڈسٹریز اور سرکاری تیل اور قدرتی گیس کمیشن کی گیس کی قیمتوں پر ہر چھ ماہ میں نظر ثانی کی جائیگی ۔ پہلی نظر ثانی آئندہ سال یکم اپریل کو ہوگی ۔

قدرگتی گیس قیمت میں اضافہ کے نتیجہ میں سی این جی کی قیمتوں میں فی کیلو 4.25 روپئے کا اضافہ ہوجائیگی اور پائپ پکوان گیس کی قیمت میں فی کیلو 2.6 روپئے اضافہ ہوگا ۔ حالانکہ وزیر تیل دھرمیندر پردھان کا کہنا ہے کہ ریاستوں پر زور دیا جارہا ہے کہ وہ عوام پر بوجھ کم کرنے کیلئے اپنے محاصل میں کمی کریں۔ علاوہ ازیں گیس سے تیار ہونے والی برقی کی قیمتوں میں بھی فی یونٹ 90 پیسے کا اضافہ ہوگا اور فرٹیلائزر تیاری کی قیمت میں فی ٹن 2,720 روپئے بڑھ جائیں گے ۔ ریلائنس انڈسٹریز کیلئے تاہم اپنی دھیرو بھائی 1 اور 3 گیس فیلڈس کیلئے نئی قیمتیں اس وقت تک لاگو نہیں ہونگی جب تک وہ گذشتہ چار سال میں پیداوار میں ہوئی کمی کو پورا نہیں کرلیتی ۔ ریلائنس انڈسٹریز کی جانب سے یومیہ آٹھ ملین اسٹانڈرڈ کیوبک میٹرس کی پیداواری کمی ہے ۔ ریلائنس گیس کے صارفین کو حالانکہ اضافی قیمت ادا کرنی ہوگی لیکن ریلائنس انڈسٹریز کو صرف 4.2 امریکیا ڈالرس ہی حاصل ہونگے اور جو اضافی رقم وصول ہوگی وہ گیس اتھاریٹی آف انڈیا لمیٹیڈ کے گیس پول اکاؤنٹ میں چلی جائیگی ۔ ریلائنس انڈسٹریز کو اضافی قیمتیں اسی وقت حاصل ہونگی جب وہ قانونی طور پر یہ ثابت کردے کہ پیداوار میں کمی عمدا نہیں ہیں بلکہ جغرافیائی وجوہات کی بنا پر ہے جس کا وہ ادعا کرتی ہے ۔ ارون جیٹلی نے کہا کہ ڈیزل کی قیمتوں کو سرکاری کنٹرول سے آزاد کرنے کے بعد ڈیزل کی قیمت کو مارکٹ سے مربوط کردیا جائیگا اور اب یہ قیمتیں بین الاقوامی قیمتوں کی مطابقت میں ہونگی ۔ انڈین آئیل کارپوریشن کے صدر نشین بی اشوک نے کہا کہ قیمتوں کو سرکاری کنٹرول سے آزاد کرنے حکومت کے فیصلے کے بعد ہم نے ڈیزل کی قیمت میں کمی کا فیصلہ کیا ہے ۔ دہلی میں ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 3.37 روپئے کی کمی آئیگی ۔ ارون جیٹلی نے کہا کہ کابینہ نے راست فوائد منتقلی ( ڈی بی ٹی ) اسکیم کو مزید موثر انداز میں دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یو پی اے حکومت نے اس اسکیم کو صرف آدھار سے مربوط کیا تھا ۔

کچھ عدالتی احکام کے بشمول اس میں کچھ قانونی امور بھی ہیں جن کے نتیجہ میں اسکیم پر موثر عمل آوری میں رکاوٹ ہو رہی تھی ۔ انہوں نے بتایا کہ جن دھن یوجنا کے تحت اب تک 6.02 کروڑ اکاؤنٹس کھولے گئے ہیں اور یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ آدھار کے علاوہ جن افراد کے بینک اکاؤنٹس ہیں انہیں بھی پکوان گیس پر سبسڈی راست ان کے اکاؤنٹس میں منتقل کردی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ اس اسکیم پر عمل آوری کیلئے 10 نومبر 2014 سے یکم جنوری 2015 تک مہم چلائی جائیگی ۔ سبسڈی کی رقم کا حکومت کی جانب سے فیصلہ کیا جائیگا ۔ گیس قیمتوں میں اضافہ کے تعلق سے ارون جیٹلی نے کہا کہ رنگاراجن فارمولے کا جائزہ لینے سکریٹریز کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی ۔ انہوں نے یہ فارمولا تیار کیا ہے اور کابینہ نے اسے منظوری دی ہے ۔ وزیر تیل مسٹر دھرمیندر پردھان نے کہا کہ رنگاراجن فارمولے کو ختم کرتے ہوئے نیا فارمولا اختیار کیا گیا ہے اور حکومت کو دو چیلنجس درپیش تھے ۔ ایک تو صارفین کی فکر تھی اور سرمایہ کاروں کے تعلق سے بھی سوچنا ضروری تھا ۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری کنٹرول کی حد میں سرمایہ نہیں مل سکتا ۔ یہ ضروری تھا کہ اسے شفاف ‘ رکاوٹ سے پاک اور بہتر بنایا جائے ۔ ریلائنس انڈسٹریز کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ حکومت نے کسی بھی کمپنی کو یکا و تنہا کرنے یا اس کے مفاد کا تحفظ کرنے یا کسی کو پریشان کرنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے ۔ ایسا جن افراد نے کیا تھا ان سے عوام نے اقتدار چھین لیا ہے ۔ حکومت نے شمال مشرق میں تیل کی تلاش کا کام کرنے والی کمپنیوں کو 40فیصد سبسڈی دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT