Thursday , December 14 2017
Home / Top Stories / ڈیوڈ ہیڈلی سے 22 تا 25 مارچ دوبارہ پوچھ تاچھ

ڈیوڈ ہیڈلی سے 22 تا 25 مارچ دوبارہ پوچھ تاچھ

امریکہ سے ذریعہ ویڈیو رابطہ عدالت میں پیش ہوں گے : اجول نکم
ممبئی ۔ 10 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) پاکستانی نژاد امریکی دہشت گرد ڈیوڈ ہیڈلی سے 2008ء دہشت گرد حملہ مقدمہ میں 26/11 کے کلیدی منصوبہ ساز ابو جندل کے وکیل 22 تا 25 مارچ چار دن پوچھ تاچھ کریں گے۔ اسپیشل پبلک پراسیکوٹر اجول نکم نے یہ بات بتائی۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے ممبئی سیشن کورٹ کو مطلع کیا ہیکہ ہیڈلی 22 تا 25 مارچ امریکہ میں نامعلوم مقام سے ویڈیو رابطہ کے ذریعہ پیش ہوگا۔ عدالت نے اس پر احکامات جاری کئے۔ یہ پوچھ تاچھ ایسے وقت ہوگی جبکہ گذشتہ ماہ تقریباً ایک ہفتہ ہیڈلی کا حلفیہ بیان قلمبند کیا گیا جس میں اس نے ہندوستان کو نشانہ بنانے کیلئے لشکرطیبہ آئی ایس آئی اور القاعدہ کے رول کے بارے میں بتایا تھا۔ اجول نکم نے کہاکہ ضرورت پڑنے پر ہیڈلی سے استغاثہ بعد میں دوبارہ پوچھ تاچھ کرسکتا ہے۔ ہیڈلی کی جو سرکاری گواہ بن چکا ہے 13 فبروری کو ویڈیو رابطہ کے ذریعہ عدالت میں حاضری ختم ہوئی۔ ہیڈلی سے یہ پوچھ تاچھ ایسے وقت کی گئی جبکہ یہاں عشرت جہاں مقدمہ میں مبینہ طور پر حلفنامہ کی تبدیلی کے تعلق سے تنازعہ چل رہا ہے۔ ڈیوڈ ہیڈلی نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ عشرت جہاں کے لشکرطیبہ سے روابط تھے۔ جج جی اے سناپ نے 22 فبروری کواجول نکم کو ہدایت دی تھی کہ ہیڈلی کے دوسرے مرحلہ کی عدالت میں پیشی کیلئے امریکی حکام سے ربط قائم کریں اور 25 فبروری کو عدالت کو واقف کرائیں۔ اس کے بعد ڈیوڈ ہیڈلی سے پوچھ تاچھ کی تواریخ کو قطعیت دی گئی۔ جندل کے وکیل عبدالوہاب خان نے ہیڈلی سے پوچھ تاچھ کیلئے چار دن کا وقت طلب کیا۔ اس کے علاوہ ایک درخواست دیتے ہوئے انہوں نے دہشت گرد حملہ میںہیڈلی کے سرکاری گواہ بننے پر بھی اعتراض کیا ہے۔ ہیڈلی دہشت گرد حملوں کے مقدمہ میں امریکہ میں 35 سال کی جیل کی سزاء کاٹ رہا ہے۔ اس نے 8 فبروری سے شروع ہوئے حلفیہ بیان کے دوران کئی حیرت انگیز انکشافات کئے تھے۔

TOPPOPULARRECENT