Sunday , November 19 2017
Home / ہندوستان / ڈی ایس پی ایوب قتل کیس: میرواعظ سے بھی پوچھ گچھ ممکن:آئی جی پی کشمیر

ڈی ایس پی ایوب قتل کیس: میرواعظ سے بھی پوچھ گچھ ممکن:آئی جی پی کشمیر

سری نگر ، 24جولائی (سیاست ڈاٹ کام) جموں وکشمیر پولیس نے کہا کہ 23اور 24جون کی درمیانی رات (شب قدر) کو سری نگر کی تاریخی جامع مسجد کے باہر بھیڑ کے ہاتھوں مار پیٹ کر قتل کے واقعہ میں ملوث 20افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے ۔خیال رہے کہ شب قدر کی رات کو مشتعل ہجوم نے جامع مسجد کے باہر ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (سیکورٹی ونگ) محمد ایوب پنڈت کو اُس وقت مار پیٹ کر ہلاک کیا تھا جب کچھ نوجوانوں کی جانب سے شناخت پوچھے جانے پر مذکورہ افسر نے مبینہ طور پر اپنے سروس پستول سے فائرنگ کرکے تین عام نوجوانوں کو زخمی کیا تھا۔پولیس کے مطابق سول کپڑوں میں ملبوس ایوب پنڈت جامع مسجد میں سیکورٹی ڈیوٹی پر مامور تھے۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر زون منیر احمد خان نے آج یہاں پرہجوم نیوز کانفرنس میں بتایا کہ خاطیوں میں سے ایک سجاد گلکار کو سیکورٹی فورسز نے 12 جولائی کو سطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں پیش آئے ایک مسلح تصادم کے دوران ہلاک کیا۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا قتل کے اس معاملے میں حریت کانفرنس (ع) چیئرمین میرواعظ مولوی عمر فاروق سے بھی پوچھ گچھ ہوگی تو آئی جی پی نے اس کے جواب میں کہا کہ ضرورت پڑی تو ہر ایک کو پوچھ گچھ کا سامنا کرنا پڑے گا۔جامع مسجد کے باہر پولیس افسر ایوب پنڈت کے قتل کا واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب شب قدر کے سلسلے میں جامع مسجد کے اندر ہزاروں لوگ عبادتوں میں مصروف تھے ۔ جبکہ میرواعظ جو کہ متحدہ مجلس علماء جموں وکشمیر کے امیر بھی ہیں، وہ اپنے خصوصی وعظ کے سلسلے میں مسجد کے اندر ہی موجود تھے ۔آئی جی پی منیر خان نے نیوز کانفرنس کو بتایا کہ قتل کے اس واقعہ کی تحقیقات جاری ہے اور اس میں مزید افراد کو گرفتار کیا جاسکتا ہے ۔ منیر خان نے کہا کہ پولیس افسر ایوب پنڈت کا قتل کشمیر میں بھیڑ کے ہاتھوں کسی شخص کی ہلاکت کا پہلا واقعہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایوب پنڈت کی ہلاکت کشمیر میں کسی شخص کا ہجوم کے ہاتھوں قتل کا پہلا واقعہ ہے ۔

TOPPOPULARRECENT