ڈی ناگیندر اور مکیش گوڑ کی ٹی آر ایس میں شمولیت؟

حیدرآباد۔29جنوری ( سیاست نیوز) نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی تلنگانہ میں بھی سیاسی سرگرمیاں تیز ہوچکی ہیں ۔ اپنے سیاسی مستقبل کو لیکر فکرمند رہنے والے قائدین سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے پر سنجیدگی سے غور کررہے ہیں ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلاہیکہ شہر حیدرآباد کی نمائندگی کرنے والے کانگریس کے سینئر قائدین جنہیں ’’حیدرآبادی برادرس ‘‘ بھی کہا جاتا ہے ‘ سابق وزراء ڈی ناگیندر اور ایم مکیش گوڑ بھی حکمران جماعت ٹی آر ایس سے رابطہ بنائے ہیں ۔ دونوں قائدین فی الحال کانگریس میں موجود ہے ۔ تاہم یہ افواہیں گشت کررہی ہیکہ وہ ٹی آر ایس میں شامل ہوسکتے ہیں ۔ واضح رہے کہ 2014ء میں ڈی ناگیندر کو اسمبلی حلقہ خیریت آباد اور ایم مکیش گوڑ کو اسمبلی حلقہ گوشہ محل سے شکست ہوئی تھی ‘ ان حلقوں پر بی جے پی کو کامیابی حاصل ہوئی ۔ حلقہ اسمبلی گوشہ محل کا شمار جہاں لوک سبھا حیدرآباد کے تحت ہوتا ہے وہیں اسمبلی حلقہ خیریت آباد کا شمار حلقہ لوک سبھا سکندرآباد میں ہوتا ہے ۔ حیدرآباد کی مقامی جماعت ملک کے مختلف ریاستوں میں مقابلہ کرتے ہوئے خود تو کامیاب نہیں ہورہی ہے مگر سیکولر ووٹوں کو تقسیم کرواتے ہوئے فرقہ پرست طاقتوں کو تقویت پہنچا رہی ہے جس پر کانگریس اس مقامی جماعت سے ناراض ہے اور تلنگانہ کے کانگریس قائدین کو مقامی جماعت سے دوری بنائے رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے لیکن تلنگانہ کے چند کانگریس قائدین مقامی جماعت سے نرم رویہ رکھنے کے حق میں ہے ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہیکہ مقامی جماعت نے حیدرآباد برادرس کو مشورہ دیا ہیکہ وہ آئندہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو فوری پارٹی تبدیل کرلیں ‘ تب ہی وہ اور مقامی جماعت ان کی تائید کرنے کے معاملہ میں سنجیدگی سے غور کرسکتی ہے ۔اس بات کا بھی علم ہوا ہیکہ مقامی جماعت سے نرمی برتنے کا پارٹی قیادت کو مشورہ دینے والوں میں حیدرآبادی برادرس بھی شامل ہیں ۔ اس بات کا بھی پتہ چلاہیکہ ڈی ناگیندر اپنا حلقہ تبدیل کرنے کے بارے میں بھی غور کررہے ہیں ‘ ساتھ ہی حلقہ لوک سبھا سکندرآباد سے ٹکٹ کی دعویداری پیش کرنے کی تیاری کررہے ہیں ۔ حکمراں ٹی آر ایس کیلئے بھی اسمبلی حلقہ گوشہ محل اور اسمبلی حلقہ خیریت آبادو حلقہ لوک سبھا سکندرآباد سے مقابلہ کرنے کیلئے کوئی طاقتور امیدوار نہیں ہے ۔ تینوں جماعتوں کے قائدین سیاسی تبدیلیوں کا گہرائی سے جائزہ لے رہے ہیں اور بند کمروں کے اجلاسوں میں مستقبل کی حکمت عملی پر غور کررہے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT