Friday , November 24 2017
Home / اداریہ / ڈی ڈی سی اے میں کرپشن

ڈی ڈی سی اے میں کرپشن

دہلی اینڈ ڈسٹرکٹ کرکٹ اسوسی ایشن میں کرپشن کے الزامات نے ان دنوں سارے ملک کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی تھی اور اب خود بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ و سابق ہندوستانی کرکٹر کیرتی آزاد نے یہ انکشاف کیا ہے کہ اس ادارہ میں بوگس کمپنیوں کو کروڑ ہا روپئے ادا کئے گئے اور یہ ادائیگیاں کسی صراحت کے بغیر تھیں۔ کیرتی آزاد کا ادعا تھا کہ ڈی ڈی سی اے نے یومیہ 16,000 روپئے کے کرایہ پر لیپ ٹاپ حاصل کیا تھا اور ایک پرنٹر کرایہ پر حاصل کرتے ہوئے یومیہ 3000 روپئے کی خطیر رقم ادا کی گئی ہے ۔ کیرتی آزاد بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ہیں اور وہ بی جے پی کی قیادت اور خاص طور پر امیت شاہ سے ناراض دکھائی دیتے ہیں۔ دہلی اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی بدترین شکست کے بعد سے ہی وہ پارٹی قیادت کے خلاف ریمارکس کر رہے ہیں۔ جب سے دہلی اینڈ ڈسٹرکٹ کرکٹ اسوسی ایشن میں کرپشن کے الزامات سامنے آئے ہیں اس وقت سے ان پر توجہ مبذول ہوگئی تھی اور اچانک ہی انہیں بی جے پی صدر امیت شاہ نے طلب کرتے ہوئے پارٹی کو مسائل سے دوچار کرنے کے خلاف خبردار بھی کیا تھا لیکن کیرتی آزاد نے ان دھمکیوں کو خاطر میں لائے بغیر کرپشن کے معاملات کا انکشاف کیا ہے۔ جس وقت سے چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال کے دفتر پر ان کے پرنسپل سکریٹری راجندر کمار کو نشانہ بناتے ہوئے سی بی آئی نے دھاوے کئے تھے اس وقت سے ڈی ڈی سی اے میں کرپشن کے الزامات سامنے آنے لگے ہیں۔ اروند کجریوال کا ادعا تھا کہ سی بی آئی در اصل اس فائیل کو تلاش کر رہی ہے جس میں وزیر فینانس ارون کجریوال کو نشانہ بنانے کی گنجائش موجود ہے ۔ انہوں نے سی بی آئی پر مرکزی وزیر فینانس کو بچانے کی کوشش کا الزام عائد کیا تھا جبکہ بی جے پی قائدین کجریوال کے خلاف جوابی تنقیدیں کرتے ہوئے انہیں نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان پر ایک بدعنوان اور راشی عہدیدار کو بچانے کی کوشش کا الزام عائد کیا جا رہا ہے ۔ اس طرح سے الزامات اورجوابی الزامات کا سلسلہ شروع ہوا ہے ان کو دیکھتے ہوئے یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ ڈی ڈی سی اے میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے اور کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ غلط ہوا ہے جس کی پردہ پوشی کی کوشش ہو رہی ہے ۔
سی بی آئی دھاوے کے بعد سے اروند کجریوال مسلسل الزام عائد کر رہے ہیں کہ اصل میں ارون جیٹلی کو بچانے کی کوشش ہو رہی ہے ۔ ارون جیٹلی نے اس طرح کے الزامات کی مسلسل تردید کی ہے ۔ وہ 13 سال کے طویل عرصہ تک دہلی اینڈ ڈسٹرکٹ کرکٹ اسوسی ایشن کے صدر رہے اور ان کے دور میں بدعنوانیوں کے تعلق سے اب انکشافات ہوتے جا رہے ہیں۔ ارون جیٹلی ان بدعنوانیوں میں خود ملوث رہے ہوں یا نہ رہے ہوں لیکن یہ ضرور ہوسکتا ہے کہ ان کے دور میں یہ بدعنوانیاں رہی ہیں اور انہیں اس کا جواب دینا چاہئے ۔ اب جبکہ راست ارون جیٹلی کو نشانہ بناتے ہوئے کجریوال نے الزام عائد کیا ہے اور خود بی جے پی کے ایک رکن پارلیمنٹ کی جانب سے ڈی ڈی سی اے میں کرپشن کے الزامات عائد کئے جا رہے ہیں تو انہیں محض سیاسی الزام قرار دے کر مسترد نہیں کیا جانا چاہئے ۔ ان بے قاعدگیوں کی اطلاع کے فوری بعد بی جے پی صدر امیت شاہ کی جانب سے کیرتی آزاد کو طلب کرنا بھی اتفاق نہیں ہوسکتا ۔ ارون جیٹلی کی جانب سے یہ بیان بھی معمول کے مطابق نہیں ہوسکتا کہ پارٹی کے ایک رکن پارلیمنٹ نے انہیں بدنام کرنے سونیا گاندھی سے ملاقات کی تھی ۔ اس طرح کے بیانات سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ ڈی ڈی سی اے کے معاملات جانچ کے متقاضی ہیں۔ یہاں سب کچھ ٹھیک نہیں رہا ہے اور جو کچھ الزامات عائد کئے جا رہے ہیں اگر وہ سب کے سب سچ نہ بھی ہوں تو سب کے سب غلط بھی نہیں ہوسکتے اور جامع تحقیقات کے ذریعہ ہی حقائق کو منظر عام پر لانے میں مدد مل سکتی ہے ۔
بات صرف سیاسی مخالفت کی وجہ سے اروند کجریوال کے الزامات کی نہیں ہے اور نہ ہی پارٹی سے ناراضگی کی وجہ سے کیرتی آزاد کے انکشافات یا ادعا جات کی نہیں ہے ۔ جو کچھ بھی ارون جیٹلی کے دور میں ہوا ہے ان سب کا ریکارڈ دستیاب ہوسکتا ہے اور اس کو سامنے رکھتے ہوئے الزامات اور انکشافات کا جائزہ لیا جاسکتا ہے ۔ اگر ارون جیٹلی خود کو بے قصور سمجھتے ہیں اور انہوں نے کچھ بھی غلط نہیں کیا ہے تو انہیں خود اس معاملہ کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنے تعاون کا یقین دلانا چاہئے ۔ الزامات کو سیاسی مخالفت کا نام دے کر اگر نظر انداز کیا جاتا ہے تو پھر عوام کے ذہنوں میں اس تعلق سے پیداہونے والے شکوک کو ختم نہیں کیا جاسکے گا ۔ مرکزی حکومت کو اس معاملہ میں مداخلت کی بھی ضرورت ہے کیونکہ وزیر فینانس پر اس معاملہ میں الزامات عائد کئے جا رہے ہیں اور خود برسر اقتدار جماعت کے ایک رکن پارلیمنٹ بھی اس سے متفق ہیں۔

TOPPOPULARRECENT