Sunday , November 18 2018
Home / شہر کی خبریں / !ڈی ڈی ٹی کے چھڑکاؤ سے عوام کو کینسر کا خطرہ

!ڈی ڈی ٹی کے چھڑکاؤ سے عوام کو کینسر کا خطرہ

حیدرآباد ۔ 5 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : حیدرآباد کی عوام جو کہ پہلے ہی مچھروں کی کثرت اور ان سے ہونے والے امراض سے پریشان تھی تو مچھروں کے خاتمہ کے لیے کئے جانے والے ڈی ڈی ٹی کے چھڑکاؤ اور اس کے کیمیائی نقصانات سے نئے امراض میں مبتلا ہورہے ہیں ۔ جی ایچ ایم سی کی جانب سے حالیہ دنوں میں دونوں شہروں میں ڈی ڈی ٹی کا چھڑکاؤ کیا گیا تھا لیکن کنچن باغ ، پھسل بنڈہ ، سنتوش نگر ، سعید آباد ، یاقوت پورہ اور دبیر پورہ کے علاوہ نے اس چھڑکاؤ کے بعد دیگر امراض میں مبتلا ہونے کی شکایات کی ہیں ۔ کنچن باغ کے مکین عمران صدیقی نے کہا کہ میری بہن اور والدہنے آنکھوں میں تکلیف اور جلن کی شکایت کی اور جب ڈاکٹر سے رجوع کیا گیا تو ڈاکٹر نے کہا کہ ڈی ڈی ٹی کے چھڑکاؤ کی وجہ سے آنکھوں کی یہ شکایت ہورہی ہے کیوں کہ ماں اور میری بہن کو ماضی میں آنکھوں کی کوئی شکایت نہیں تھی ۔ ڈی ڈی ٹی سے مچھروں کی کثرت کو قابو میں کیا جاسکتا ہے لیکن چونکہ اب محلوں میں کھلی سڑکیں اور راستے باقی نہیں رہے جس سے کیمیائی دھواں ہوا میں شامل ہوجائے جس کی وجہ سے یہ کیمیائی دھواں سانس کے ذریعہ عوام کے جسم میں داخل ہورہا ہے ۔ سنتوش نگر کے مکین رضا احمد نے کہا کہ ڈی ڈی ٹی کے چھڑکاؤ کے بعد چونکہ ہمارے محلے میں گلی تنگ ہیں لہذا یہ دھواں سانس کے ذریعہ انسانی جسم میں جذب ہورہا ہے جس کی وجہ سے عوام کو نئی امراض شکایت ہورہی ہیں ۔ ٹی بی دواخانے کی ڈاکٹر انیتا رانی نے کہا کہ ڈی ڈی ٹی کا چھڑکاؤ محلے کے کچرے دانوں، ڈرینج ، ٹھہرے ہوئے پانی اور کھلی سڑکوں پر مچھروں کی افزائش کو روکنے کے لیے کارکرد ثابت ہوتا ہے لیکن جب اس کا چھڑکاؤ محلوں میں کیا جاتا ہے تو اس سے عوام کی صحت متاثر ہوجاتی ہے ۔ عوام کو کھانسی ، الرجی ، کینسر اور خاص کر پستان کا کینسر لاحق ہوسکتا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT