Tuesday , January 16 2018
Home / شہر کی خبریں / ڈی کے ارونا سے اختلافات و ٹی آر ایس میںشمولیت کی تردید

ڈی کے ارونا سے اختلافات و ٹی آر ایس میںشمولیت کی تردید

برسر اقتدار پارٹی پر گمراہ کن مہم چلانے کا الزام ۔ کانگریس رکن اسمبلی سمپت کمار کی پریس کانفرنس
حیدرآباد 9 جنوری (سیاست نیوز) کانگریس کے رکن اسمبلی سمپت کمار نے ڈی کے ارونا سے اختلافات اور ٹی آر ایس میں شمولیت کی اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے ٹی آر ایس کی جانب سے چلائی جانے والی مہم کو گمراہ کن قرار دیا۔ آج گاندھی بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سمپت کمار نے کہاکہ ٹی آر ایس پارٹی کے قائدین ان سے خوفزدہ ہیں اور ان کا مقابلہ کرنے سے گھبرا رہے ہیں۔ میری امیج کو نقصان پہونچانے کے لئے میرے خلاف جھوٹا من گھڑت پروپگنڈہ کررہے ہیں۔ ان کی پارٹی کے سینئر رکن اسمبلی سابق وزیر ڈی کے ارونا سے اختلافات ہونے اور ٹی آر ایس میں شامل ہونے کی افواہیں پھیلائی جارہی ہیں جو جھوٹی ہیں ان میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ ڈی کے ارونا ان کیلئے ماں جیسی ہیں اور وہ ان کی وجہ سے اسمبلی کیلئے منتخب ہوئے ہیں۔ وہ کانگریسی ہیں اور کانگریس ہی میں رہیں گے۔ ٹی آر ایس میں شامل ہونے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اتم کمار ریڈی کی قیادت میں کانگریس2019 کے عام انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی۔ ٹی آر ایس حکومت عوامی اعتماد سے محروم ہوچکی ہے۔ انتخابی منشور میں جو بھی وعدے کئے گئے ایک وعدہ کو بھی پورا کرنے میں ناکام رہی۔ سماج کا کوئی بھی طبقہ حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے۔ تمام سروے کانگریس کے حق میں ہیں جس کے بعد حکمراں ٹی آر ایس نے ایک سازش رچی ہے۔ کانگریس ارکان اسمبلی اور قائدین کے درمیان اختلافات اور ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرنے کی افواہیں پھیلائی جارہی ہیں۔ دن بہ دن کانگریس پارٹی مستحکم ہورہی ہے جس کی وجہ سے ٹی آر ایس بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکی ہے ۔ مگر ٹی آر ایس کی یہ سازش کبھی کامیاب نہیں ہوگی کیوں کہ ہریش راؤ اور کے ٹی آر بھی اچھی طرح واقف ہیں وہ کبھی ٹی آر ایس میں شامل نہیں ہوں گے۔ سمپت کمار نے کہاکہ کانگریس کے دور حکومت میں ضلع محبوب نگر کے تمام آبپاشی پراجکٹس کے تعمیری کام 90 فیصد تک مکمل ہوگئے تھے۔ حقائق کو نظرانداز کرکے وزیر آبپاشی ہریش راؤ کانگریس کے خلاف غیر ضروری تنقیدیں کررہے ہیں۔ آر ڈی ایس کیلئے انھوں نے غیر معینہ مدت کی ہڑتال کی اور جیل کو بھی گئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT