Tuesday , December 11 2018

’ڈ12ڈسمبر کوکانگریس زیرقیادت حکومت کی تشکیل‘

بجٹ میں اقلیتیوں کیلئے 12فیصد فنڈس مختص کرنے اُتم کمار ریڈی کا اعلان

مسلمان ٹی آر ایس کی بی جے پی سے قربت نظرانداز نہیں کریں گے

حیدرآباد ۔ 26 نومبر ( سیاست نیوز) تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر اُتم کمار ریڈی نے کہا کہ کانگریس کے زیر قیادت پیپلز فرنٹ کی حکومت تشکیل پانے کے بعد اقلیتی سب پلان تیار کیا جائے گا ۔ ریاست کے مجموعی بجٹ میں اقلیتوں کیلئے 12فیصد بجٹ مختص کیا جائے گا ۔ آلیر انکاؤنٹر ، 12فیصد مسلم تحفظات نہ دینے اور مکہ مسجد فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج نہ کرنے پر شاباشی دیتے ہوئے مجلس کی جانب سے ٹی آر ایس کی تائید کرنے کا طنزیہ ریمارکس کیا ۔ تلنگانہ اسٹیٹ یونین آف ورکنگ جرنلسٹس کی جانب سے پریس کلب بشیر باغ پر منعقدہ ’’ صحافت سے ملاقات ‘‘ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے اُتم کمار ریڈی نے بڑی یقین کے ساتھ کہا ہیکہ 11 ڈسمبر کو نتائج برآمد ہوں گے اور 12 ڈسمبر کو کانگریس کے زیر قیادت پیپلز فرنٹ کی حکومت تشکیل پائے گی ۔ پیپلز فرنٹ تلنگانہ عوام کے سنہرے ریاست کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرے گی ۔ سماج کے تمام طبقات کی ترقی اور بہبودی کیلئے منشور میں ڈھیر سارے وعدے کئے گئے ہیں ۔ سربراہ ٹی آر ایس و کارگذار چیف منسٹر کے سی آر کو مسلمانوں سے ووٹ مانگنے کا بھی اخلافی حق نہیں ہے ۔ 2014ء کے عام انتخابات میں کے سی آر نے شاد نگر کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ٹی آر ایس کو اقتدار سونپنے پر اندرون 4 ماہ ٹاملناڈو کی شکل میں مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔ ساڑھے چار سال گذر گئے مگر کے سی آر نے مسلمانوں سے کیا گیا وعدہ پورا نہیںکیا ۔ کے سی آر نے اسمبلی میں آن ریکارڈ کہا تھا کہ ان کی وزیراعظم مودی سے بات چیت ہوچکی ہے ۔ وزیراعظم نے مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات فراہم کرنے سے اتفاق کیا ہے۔ آج دوبارہ انتخابات کیلئے عوام سے رجوع ہوکر بی جے پی کو مسلم تحفظات کی خلاف جماعت قرار دیتے ہوئے تلنگانہ کے مسلمانوں کو دوبارہ دھوکہ دینے کی کوشش کررہے ہیں ۔ لوک سبھا کی 17 حلقوں پر ٹی آر ایس کے امیدواروں کو کامیاب بنانے کی مسلمانوں سے اپیل کررہے ہیں ۔ اُتم کمار ریڈی نے کہا کہ مسلمانوں میں شعور بیدار ہوچکا ہے ۔ وہ دوبارہ کے سی آر کے جھانسے میں آنے والے نہیں ہے کیونکہ 12فیصد مسلم تحفظات کیلئے کے سی آر نے دہلی کے جنتر منتر پر کوئی دھرنا نہیں کیا اور نہ ہی دہلی میں زلزلے آئے ہیں اور نہ ہی ٹی آر ایس نے اس مسئلہ پر سپریم کورٹ سے رجوع ہوئی ہے ۔ ( سلسلہ صفحہ 6پر )

TOPPOPULARRECENT