Monday , January 22 2018
Home / شہر کی خبریں / کئی قد آور شخصیتوں کی طویل عرصہ بعد اے پی اسمبلی میں واپسی

کئی قد آور شخصیتوں کی طویل عرصہ بعد اے پی اسمبلی میں واپسی

کلا وینکٹ راؤ ‘ کوڈیلا سیوا پرساد راؤ ‘ اینا پاتروڈو اور دوسروں کی شاندار کامیابی

کلا وینکٹ راؤ ‘ کوڈیلا سیوا پرساد راؤ ‘ اینا پاتروڈو اور دوسروں کی شاندار کامیابی

حیدرآباد 17 مئی ( پی ٹی آئی ) کئی اہم اور قد آور سمجھے جانے والے قائدین نے ( نئی ) آندھرا پردیش قانون ساز اسمبلی میں شاندار واپسی کی ہے اور انہوں نے طویل عرصہ کے سیاسی اقتدار سے محرومی کو ختم کرتے ہوئے حالیہ انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کی ہے ۔ ایسے کئی قائدین ہیں جنہوں نے سابقہ تلگودیشم اور کانگریس حکومتوں میں وزارتی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں لیکن انہیں گذشتہ دو مرتبہ سے انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ اب یہ تمام تلگودیشم کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے ہیں اور اسمبلی میں واپسی کرچکے ہیں۔ تلگودیشم کے سینئر قائدین کے کلا وینکٹ راؤ ‘ کوڈیلا سیوا پرساد راؤ ‘ آئنا پاتروڈو اور بی سرینواس مورتی سابق میں این ٹی راما راؤ اور چندرا بابو نائیڈو حکومتوں میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اب انہوں نے 2014 کے اسمبلی انتخابات میں شاندار واپسی کی ہے ۔ کوڈیلا سیوا پرساد راؤ پانچ مرتبہ کے رکن اسمبلی ہیں تاہم گنٹور ضلع کے اپنے نرساراؤ پیٹ حلقہ میں انہیں 2004 اور 2009 میں شکست ہوئی تھی ۔ اس مرتبہ انہوں نے پڑوسی ستنا پلی حلقہ سے مقابلہ کیا اور کامیابی حاصل کی ۔ کوڈیلا تلگودیشم حکومتوں میں وزیر رہ چکے ہیں۔ کلا وینکٹ راؤ بھی سابق وزیر ہیں اور انہوں نے 2008 میں تلگودیشم سے علیحدگی اختیار کرکے پرجا راجیم میں شمولیت اختیار کی تھی ۔ وہ 2009 کے انتخابات میں شکست کھا گئے ۔ انہوں نے فوری تلگودیشم میں واپسی کی اور سریکا کلم ضلع میں ایچرلہ حلقہ سے اس بار کامیابی حاصل کی ہے ۔ آئنا پاتروڈ چار مرتبہ کے رکن اسمبلی ہیں اور سابق وزیر بھی ہیں۔ انہیں 2009 میں شکست ہوئی تھی ۔ حالانکہ وہ تلگودیشم میں ناراضگی کا بھی اظہار کیا تھا لیکن پارٹی نہیں چھوڑی تھی اور اب وہ وشاکھا پٹنم حلقہ میں نرسی پٹنم حلقہ سے کامیاب ہوئے ہیں۔ سرینواس مورتی بھی سابق وزیر ہیں لیکن انہیں 2004 اور 2009 میں شکست کا سامنا کرنا پڑآ تھا ۔ اس بار قسمت ان پر مہربان رہی اور انہوں نے پنڈورتی سے کامیابی حاصل کی ہے ۔ تلگودیشم کے سینئر لیڈر جی بچیا چودھری کیلئے بھی اس بار قسمت مہربان رہی ۔ انہیں ابتداء میں بی جے پی سے مفاہمت کی وجہ سے ٹکٹ نہیں دیا گیا تھا لیکن راجمنڈری رورل سے انہیں لمحہ آخر میں ٹکٹ دیا گیا ۔ انہوں نے اب کامیابی حاصل کرلی ہے ۔ گذشتہ دو مرتبہ انہیں بھی شکست ہوئی تھی ۔ راج شیکھر ریڈی کابینہ میں وزیر رہنے والے جی سوریہ راؤ نے اس بار تلگودیشم کے ٹکٹ پر مشرقی گوداوری میں رازول حلقہ سے کامیابی حاصل کی ہے ۔ وہ پانچ سال بعد اسمبلی میں واپسی کر رہے ہیں۔ سابق کانگریس وزیر ایم بدھا پرساد نے انتخابات سے قبل تلگودیشم میں شمولیت اختیار کرلی تھی ۔ انہوں نے کرشنا ضلع میں اوانی گڈہ سے کامیابی حاصل کی ہے ۔ یہاں انہیں 2009 میں شکست ہوئی تھی ۔ سابق گورنمنٹ وہپ کے وینکٹ راؤ بھی ایک دہے کے وقفہ کے بعد اسمبلی میں واپسی کر رہے ہیں۔ دو مرتبہ کے رکن اسمبلی اور سابق وزیر الاپتی راجیندر پرساد نے 2004 اور 2009 میں ناکام مقابلہ کیا تھا ۔ اس بار انہیں گنٹور میں تنالی حلقہ سے کامیابی ملی ہے جہاں انہوں نے سابق اسپیکر این منوہر کو شکست دی ہے ۔ دوسرے قائدین میں سابق ارکان اسمبلی کے اچنا نائیڈو ‘ جی شیام سندر شیواجی ‘ جی رام موہن اور ایس راگھو راؤ بھی طویل وقفہ کے بعد اسمبلی کیلئے منتخب ہوئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT