Wednesday , December 12 2018

کابل ائرپورٹ کے باب الداخلہ پر خود کش حملہ ‘ 11 افراد ہلاک

KABUL, JULY 22:- Victims lie on the ground at the site of a blast in Kabul, Afghanistan July 22, 2018. REUTERS-26R

عبدالرشید دوستم کاخیر مقدم کرکے واپس ہونے والا ہجوم نشانہ ۔ افغان نائب صدر محفوظ ۔14 افراد زخمی

کابل 22 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) کابل انٹرنیشنل ائرپورٹ کے باب الداخلہ پر ہوئے ایک خود کش حملے میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہوگئے ہیں اور 14 زخمی ہوئے ہیں۔ عہدیداروں نے یہ بات بتائی ۔ کہا گیا ہے کہ یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب سینکڑوں کی تعداد میں لوگ افغان نائب صدر عبدالرشید دوستم کی جلا وطنی سے واپسی پر خیر مقدم کرنے وہاں جمع ہوئے تھے ۔ سینئر سرکاری عہدیدار ‘ سیاسی قائدین اور حامی طاقتور ازبیک نژاد لیڈر و سابق جنگجو عبدالرشید دوستم کا استقبال کرنے کے بعد واپس ہو رہے تھے کہ وہاں خود کش دھماکہ ہوا ۔ دوستم مغربی طرز کے سوٹ اور سیاہ عینک لگائے وہاں پہونچے تھے اور انہوں نے مسلح گاڑی میں سفر کیا ۔ اس حملہ میں انہیں کوئی گزند نہیں پہونچی ۔ دوستم کے ترجمان بشیر احمد تیانج نے یہ بات بتائی ۔ کابل پولیس کے ترجمان حشمت ستانک زئی نے کہا کہ 11 افراد اس حملے میں ہلاک ہوگئے ہیں اور 14 زخمی ہوئے ہیں ۔ انہوں نے مزید تفصیل نہیں بتائی ۔ کہا گیا ہے کہ خود کش بمبار پیدل ہی وہاں پہونچا تھا ۔ وزارت داخلہ کے ترجمان نجیب دانش نے یہ بات بتائی اور کہا کہ عام شہری اور سکیوریٹی فورسیس کے ارکان ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں شامل ہیں ۔ ان میں ایک بچہ بھی شامل ہے ۔ عبدالرشید دوستم پر افغانستان میں حقوق انسانی کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزام ہیں۔ جب وہ ترکی سے بذریعہ چارٹرڈ طیارہ یہاں پہونچے تو کسی اسٹار کی طرح ان کا استقبال کیا گیا ۔ دوستم 2017 مئی سے ترکی میں مقیم تھے ۔ ان کی واپسی کے تعلق سے کئی طرح کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ھیں۔ ان کی اوپسی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سارے شمالی افغانستان میں کئی صوبوں میں پرتشدد احتجاج ہو رہے ہیں۔ شمالی افغانستان کو دوستم کا گڑھ سمجھا جاتا ہے ۔ حالیہ ہفتوں میں دوستم کے ہزاروں حامیوں نے سڑکوں پر احتجاج کیا تھا اور انہوں نے الیکشن و سرکاری دفاتر کو نقصان پہونچایا تھا ۔ کئی شاہراہوں کو بند کردیا تھا اور یہ مطالبہ کیا تھا کہ موافق حکومت ملیشیا لیڈرکو رہا کیا جائے اور دوستم کو وطن واپس بلایا جائے ۔ احتجاجیوں نے دوستم کی واپسی کے باوجود اپنے پروگرامس جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے اور کہا کہ وہ حکومت پر یقین نہیں کرسکتے ۔ جب تک جنرل دوستم انہیں احتجاج ختم کرنے کو نہیں کہیں گے وہ اس کا سلسلہ جاری رکھیں گے ۔ احتجاجیوں کا مطالبہ ہے کہ فاریاب ضلع کے سابق پولیس سربراہ نظام الدین قیصری کو رہا کیا جائے جنہیں جاریہ مہینے کے اوائل میں گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا تھا ۔ دوستم مئی 2017 میں افغانستان سے روانہ ہوگئے تھے جب ان پر ایک سیاسی مخالف کی عصمت ریزی اور ایذا رسانی کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کیا گیا تھا ۔ انہوں نے اس الزام کی تردید کی اور کہا کہ ان کی روانگی طبی معائنوں اور خاندانی وجوہات کی بنا پر تھی ۔ ان کی واپسی سے قبل صدر کے ترجمان ہارون چاکھن سوری نے کہاکہ دوستم اپنا علاج کرواچکے ہیں اور وہ اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں گے ۔

TOPPOPULARRECENT