Monday , November 20 2017
Home / Top Stories / کابل میں بم دھماکوں کی ہولناک لہر ،55 ہلاک

کابل میں بم دھماکوں کی ہولناک لہر ،55 ہلاک

دواخانے اور عمارتیں تباہ، ملا عمر کے انتقال کے اعلان کے بعد شدید حملے

کابل۔ 8 اگست (سیاست ڈاٹ کام) کابل میں بم دھماکوں کی ہولناک لہر نے اب تک  55افراد کو ہلاک کردیا ہے۔ دارالحکومت میں سب سے زیادہ خونریز حملہ کل ہوا تھا۔ ڈسمبر میں ناٹو مشترکہ مہم کے اختتام کے بعد سے ہلاکت خیز حملے جاری ہیں۔ ان دھماکوں میں کئی بلند عمارتیں اور مریضوں سے کھچاکھچ بھرے ہوئے دواخانے تباہ ہوئے ہیں۔ ان میں سینکڑوں اموات کا بھی اندیشہ ہے۔ کل سب سے بڑا حملہ کابل میں کیا گیا تھا۔ طالبان لیڈر ملا عمر کے انتقال کے اعلان کے بعد سے شدید حملے کئے جارہے ہیں۔ پہلے حملے میں ایک طاقتور دھماکو اشیاء سے لدی سڑک کو کلب کے قلب میں رات دیر گئے دھماکہ سے اُڑا دیا گیا تھا۔ اس میں 15 شہری ہلاک اور دیگر 240 زخمی ہوئے تھے۔ ان بم دھماکوں سے طالبان نے اظہار لاتعلقی کیا ہے۔ کابل فوجی پٹی کے قریب ہوئے دھماکہ میں طالبان کا ہاتھ نہیں ہے جبکہ اس طرح کے حملے طالبان ہی کرتے تھے۔ اس حملے میں شہریوں کی بڑی تعداد ہلاک ہوئی ہے۔ زائد از 24 گھنٹے سے کم وقفہ میں پولیس یونیفارم میں ملبوس ایک خودکش بم بردار نے کابل پولیس اکیڈیمی کے باب الداخلہ پر خود کو دھماکہ سے اُڑا لیا تھا جس میں دو درجن افراد ہلاک ہوئے تھے۔ فوری طور پر اس حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کرلی ہے۔ حملے کو افغانستان کی سکیورٹی فورسیس کیلئے قائم کئے گئے اصل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ پر سکیورٹی کی سنگین ناکامی سمجھا جارہا ہے۔ دھماکوں اور فائرنگ کے واقعات اس وقت پیش آئے جب اس کیمپ کو امریکی اسپیشل فورس کے لئے استعمال کیا گیا تھا۔ یہاں کل بھی حملہ کیا گیا جس میں 9 افراد ہلاک ہوئے۔ ناٹو کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس حملے میں ناٹو سرویس کا ایک رکن اور دیگر 8 ورکرس جنہیں کنٹراکٹ پر لیا گیا تھا، ہلاک ہوئے ہیں۔ کیمپ پر دھماکہ کے فوری بعد ہیلی کاپٹر کی مدد سے ساری علاقہ کی سکیورٹی کو سخت کردیا گیا۔ اس خونریز حملوں سے افغانستان کی ابتر صورتحال واضح ہوتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT