Sunday , July 22 2018
Home / Top Stories / کابل میں حملہ کا اختتام ‘ 18افراد ہلاک‘طالبان پر شبہ

کابل میں حملہ کا اختتام ‘ 18افراد ہلاک‘طالبان پر شبہ

طالبان نے حملہ کی ذمہ داری قبول کرلی ‘ فائرنگ کی آوازیں ہنوز جاری ‘ ہوٹل میں مقیم افراد دہشت زدہ

کابل۔21جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) بندوق بردار کابل کی ایک پرتعیش ہوٹل میں زبردستی داخل ہوگئے اور کم از کم 18 افراد کو بشمول 14 غیر ملکی کو ہلاک کردیا ۔ فوج اور حملہ آوروں کے درمیان لڑائی 13گھنٹے تک جاری رہی ‘ جس کے نتیجہ میں 18 افراد ہلاک ہوگئے اور عمارت کے چند حصے شعلہ پوش ہوگئے ۔ افغان فوج کے ہاتھوں 4حملہ آور رات بھر کے محاصرے اور فائرنگ کے نتیجہ میں ہلاک ہوگئے ۔ وزارت داخلہ کے ترجمان نجیب دانش نے کہا کہ اس محاصرے کے دوران شہرت یافتہ ہوٹل میں پھنسے ہوئے لوگوں کو فرار ہونے کی کوشش میں بالکونیوں میں چڑھتے ہوئے دیکھا گیا ۔ 18 افراد بشمول 14 غیر ملکی ہلاک ہوگئے ۔ وزارت داخلہ کے نائب ترجمان نصرت رحیمی نے کہا کہ تقریباً 150 افراد بشمول 40سے زیادہ غیر ملکی مہمانوں کو بچا لیا گیا ۔ ایک خاتون غیر ملکی کی نعش چھٹی منزل سے دستیاب ہوئی ‘ جس میں آخری حملہ آور کو ہلاک کردیا گیا تھا ۔ سرکاری طور پر افغانستان کے محکمہ سراغ رسانی نے کہا کہ حملہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے ‘ حملہ آور اب بھی فوج پر فائرنگ کررہے ہیں ۔ ڈرامائی تصاویر افغانستان کے پولو خبر رساں ٹی وی پر دکھائی گئیں ۔ دھویں کا کثیف سیاہ بادل فضاء میں اٹھ رہا تھا اور شعلے ہل ٹاپ انٹرنیشنل ہوٹل کی چھت پر بھڑکتے نظر آرہے تھے ۔ کئی افراد چھت کی بالکونی پر بیڈشیٹ استعمال کرتے ہوئے فرار ہونے کی کوشش میں مصروف دکھائی دیئے ۔ ایک شخص اپنی گرفت کھوبیٹھا اور زمین پر گرپڑا ۔ عہدیداروں کے بموجب 4 بندوق برداروں نے ہوٹل پر کل رات حملہ کردیا تھا ۔ مہمانوں پر اور ارکان عملہ پر گولی چلائی ‘ کئی افراد کو یرغمال بنالیا ۔ فوری طور پر کابل میں اس حملہ کی ذمہ داری طالبان نے قبول کرلی ہے ۔ کئی صیانتی انتباہ حالیہ دنوں میں جاری کئے جاچکے ہیں اور غیر ملکیوں میں مقبول انٹرنیشنل ہوٹلوں اور دیگر ہوٹلوں سے گریز کا عوام کا مشورہ دیا گیا تھا ۔ یہ واضح نہیں ہوسکا کہ کتنے لوگ ہوٹل میں موجود تھے جس پر 2011ء میں بھی طالبان نے حملہ کیا تھا ۔ رات میں خصوصی فوج ہیلی کاپٹرس کے ذریعہ عمارت کی چھت میں اترنے میں کامیاب ہوگئی ۔ ایک مہمان جو ایک کمرہ میں چھپا ہوا تھا کہا کہ وہ فائرنگ کی آوازیں سن رہا تھا ۔ اتوار کے دن سے یہاں اطلاعاتی ٹکنالوجی کے موضوع پر کانفرنس کا آغاز ہونے والا تھا جس میں شرکت کیلئے کئی افراد ہوٹل میں قیام کئے ہوئے تھے ۔ اس نے کہا کہ حملہ آور ہوٹل میں تھے یا کہیں باہر سے آئے تھے پتہ نہیں چل سکا ۔ کیونکہ حملہ آوروں نے اپنے نام ظاہر کرنے سے انکار کردیا تھا ۔ افغان مواصلات کے علاقائی ڈائرکٹر عزیز طیب نے جو کانفرنس میں شرکت کیلئے آئے ہوئے تھے کہا کہ انہوں نے حملہ آوروں کو ہوٹل میں داخل ہوتے اور باہر نکلنے کے دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا تھا ‘ فی الحال ہوٹل میں انتشار کا عالم ہے ۔

TOPPOPULARRECENT