Friday , September 21 2018
Home / Top Stories / کابل پولیس کے سربراہ قاتلانہ حملہ میں بال بال بچ گئے

کابل پولیس کے سربراہ قاتلانہ حملہ میں بال بال بچ گئے

کابل۔ 9؍نومبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ ایک خودکش بم بردار نے کابل کے پولیس ہیڈ کوارٹرس میں آج صبح زبردستی داخل ہوکر خود کو دھماکہ سے اُڑالیا۔ یہ کابل کے پولیس سربراہ کو ہلاک کرنے کی کوشش تھی جس میں ایک سینئر پولیس عہدیدار اور دیگر 7 افراد زخمی ہوگئے، تاہم کابل کے پولیس سربراہ بال بال بچ گئے۔ خودکش بم بردار کی زبردست حفاظتی انتظامات کے تحت ک

کابل۔ 9؍نومبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ ایک خودکش بم بردار نے کابل کے پولیس ہیڈ کوارٹرس میں آج صبح زبردستی داخل ہوکر خود کو دھماکہ سے اُڑالیا۔ یہ کابل کے پولیس سربراہ کو ہلاک کرنے کی کوشش تھی جس میں ایک سینئر پولیس عہدیدار اور دیگر 7 افراد زخمی ہوگئے، تاہم کابل کے پولیس سربراہ بال بال بچ گئے۔ خودکش بم بردار کی زبردست حفاظتی انتظامات کے تحت کابل کے قلب میں واقع پولیس ہیڈ کوارٹرس کی عمارت میں داخل ہوجانے سے حفاظتی انتظامات کے مؤثر ہونے کے بارے میں اندیشے پیدا ہوگئے ہیں اور قومی فوج کی طالبان شورش پسندی سے نمٹنے کی قابلیت بھی مشتبہ ہوگئی ہے

جب کہ امریکہ کی فوجی موجودگی میں کمی ہوگئی ہے اور ناٹو کی افواج نے تربیت اور مدد کا کردار جاریہ سال کے ختم تک ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ راست کارروائیوں میں حصہ نہیں لے رہے ہیں۔ چنانچہ یہ اندیشے پیدا ہوگئے ہیں کہ صیانتی فوج کی صفوں میں بھی شورش پسند داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ اتحادی فوجوں پر فوج اور پولیس کے کئی سرکش ارکان نے حملے کئے ہیں۔ کابل کے سربراہ پولیس جنرل محمد ظاہر ظاہر نے کہا کہ حملہ آور ان کے دفتر سے چند ہی میٹر کے فاصلہ پر تھا جب کہ اس نے دھماکو مادّوں کا کمربند دھماکہ سے اُڑالیا۔ خودکش بم بردار فوجی وردی میں ملبوس تھا اور اس نے عمارت کی تیسری منزل پر حملہ کیا جہاں سربراہ پولیس کا دفتر قائم ہے۔ سربراہ پولیس نے ٹیلی فون پر ایک روزنامہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ بدبختی سے اس حملہ کے نتیجہ میں ایک پولیس عہدیدار جو ان کے دفتر کا ڈائریکٹر تھا، ہلاک ہوگیا اور دیگر 6 پولیس عہدیدار زخمی ہیں۔ وزارت صحت نے بعد ازاں کہا کہ 7 افراد بشمول ایک چھوٹا بچہ زخمی ہیں۔ یہ حملہ 9 بجے دن ہوا جب کہ عمارت پُرہجوم تھی، لوگ ملازمت کے لئے آرہے تھے۔ یہ عمارت انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کے تحت قائم قلعہ بند عمارت ہے اور کابل کے قلب میں واقع ہے۔

کابل کے صوبائی گورنر کا دفتر، عدالت مرافعہ اور پولیس محکمہ سراغ رسانی کے مراکز برائے مرد و خواتین بھی اسی عمارت میں واقع ہیں۔ عمارت کے اطراف بلند کنکریٹ کی دھماکہ سے محفوظ دیواریں تعمیر کی گئی ہیں۔ اس دیوار پر قائم چوکیوں پر نیم فوجی مسلح پولیس روسی ساختہ پی کے ہیوی مشین گنوں سے لیس پہرا دیتی ہیں۔ آنے والوں کو کئی جانچ چوکیوں سے گزرنا پڑتا ہے جہاں ایکسرے کے ذریعہ جسم کی تلاشی بھی لی جاتی ہے۔ اس کے بعد ہی اصل عمارت میں داخلہ کی اجازت دی جاتی ہے۔ شورش پسندوں نے گزشتہ سال سے کابل پر حملوں میں اضافہ کردیا ہے جب کہ صدارتی انتخابات واقع ہوئے تھے اور نئے صدر اشرف غنی نے ستمبر میں اپنے عہدہ کا حلف لیا تھا۔ دھماکہ شہر میں دوسرا دھماکہ سنے جانے کے دو گھنٹے بعد ہوا۔ وزارت دفاع کے ترجمان جنرل محمد ظاہر عظیمی نے کہا کہ دھماکہ افغان فوج کی گاڑی پر کیا گیا تھا، تاہم اس حملہ سے کوئی بھی ہلاک نہیں ہوا۔

TOPPOPULARRECENT