Monday , September 24 2018
Home / Top Stories / کابل گیسٹ ہاوز پر طالبان کا حملہ ‘14افراد بشمول 4ہندوستانی ہلاک

کابل گیسٹ ہاوز پر طالبان کا حملہ ‘14افراد بشمول 4ہندوستانی ہلاک

کابل 14 مئی (سیاست ڈاٹ کام )کابل کے ایک گیسٹ ہاوز پر طالبان کے حملہ میں 14 افراد بشمول ایک امریکی اور چار ہندوستانی ہلاک ہوگئے ۔ ایک اعلی سطحی افغان عہدیداروں نے کہا کہ ہندوستانی سفیر عسکریت پسندوں کا امکانی ہدف ہوسکتے ہیں جو عمارت میں زبردستی گھُس آئے تھے۔ یہ عمارت غیر ملکیوں میں انتہائی مقبول ہے ۔ 4 ہندوستانی جن میں سے دو خانگی آڈیٹر

کابل 14 مئی (سیاست ڈاٹ کام )کابل کے ایک گیسٹ ہاوز پر طالبان کے حملہ میں 14 افراد بشمول ایک امریکی اور چار ہندوستانی ہلاک ہوگئے ۔ ایک اعلی سطحی افغان عہدیداروں نے کہا کہ ہندوستانی سفیر عسکریت پسندوں کا امکانی ہدف ہوسکتے ہیں جو عمارت میں زبردستی گھُس آئے تھے۔ یہ عمارت غیر ملکیوں میں انتہائی مقبول ہے ۔ 4 ہندوستانی جن میں سے دو خانگی آڈیٹر اور ایک این جی او کارکن تھا جو پارک پیالیس گیسٹ ہاوز آئے ہوئے تھے جو کولولا پشتہ علاقہ میں واقع ہے جب طالبان عسکریت پسند تقریبا 9 بجے شب گذشتہ رات زبردستی داخل ہوگئے صدر افغانستان اشرف غنی کے خصوصی قاصد برائے اچھی حکمرانی احمد ضیا مسعود کے حوالے سے خامہ پریس نے خبر دی ہے کہ عسکریت پسندوں نے گیسٹ ہاوز پر یہ سمجھ کر حملہ کیا تھا کہ امر سنہا عمارت کے احاطہ میں موجود ہوں گے ۔ تاہم انہوں نے تفصیلات کا انکشاف نہیںکیا۔

اس سوال پر کہ کیا وہ وہاں جانے والے تھے سنہا نے جواب دیا کہ مجھے ایک تقریب میں مدعو کیاگیا تھا جو گیسٹ ہاوز میں مقرر تھی لیکن وہاں غیر ملکی تارکین وطن کا ہجوم تھا اس لئے میں اپنی شرکت کو یقینی نہیں بنا سکا۔ یہ توثیق کرتے ہوئے کہا مہلوکین میں 4 ہندوستانی شامل ہیں سنہا نے کہا کہ انہوں نے افغان عہدیداروں کو اطلاع دیدی تھی کہ ہلاکتوں کی جملہ تعداد 14 تھی اور دیگر افراد کی قومیت ہنوز معلوم نہیںہوسکی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے جو فی الحال دورہ چین پر ہیں‘ صدر افغانستان اشرف غنی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی اور کابل حملہ کی وجہ سے جانی نقصان پر اظہار تعزیت پیش کیا انہوں نے کہا کہ ہم دہشت گردی سے جنگ کرنے کے بارے میں متحد ہے ۔ مودی صدر چین ژی جن پنگ سے ملاقات کیلئے تین روزہ دورہ چین پر آج صبح یہاں پہنچے ہیں۔ صدر اشرف غنی نے ہندوستانی شہریوں کی بدبختانہ ہلاکت پر اظہار رنج و غم کیا ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کابل میں حملہ سے ہلاک ہونے والے ہندوستانیوں کی موت پر صدر افغانستان نے اظہار رنج کیا ہے ۔ تین بندوق بردار زبردستی گیسٹ ہاوز میں داخل ہوگئے تھے اور انہوں نے اندھا دھند فائرنگ کی ۔ افغان قومی صیانتی فوج بشمول خصوصی فوج فوری موقع واردات پر پہنچ گئے اور انہوں نے جوابی حملہ کیا ۔

محاصرہ میں جو تقریبا 7 گھنٹے جاری رہا ۔ تمام حملہ آور ہلاک کردیئے گئے ۔ آج صبح کی اولین ساعتوں میں یہ مقابلہ اختتام پذیر ہوا ۔ طالبان نے حملہ کی ذمہ داری قبول کرلی ہے ۔ گیسٹ ہاوز میں ایک موسیقی کا پروگرام منعقد کیا جارہا تھا۔ عسکریت پسندوں نے اپنے بیان میں کہا کہ حملہ منصوبہ بند تھا اور احتیاط سے پارٹی کو ہدف بنایا گیا تھا جس میں اہم افراد اور امریکی شریک تھے۔ جب حملہ ہوا موسیقی کا پروگرام شروع ہونے والا تھا اور اس میں ترک اور ہندوستانی مہمان افغان مہمانوں کے علاوہ شرکت کرنے والے تھے۔ افغانستان کے ایک صیانتی عہدیداروں نے کہا کہ کابل پولیس کے سربراہ رحمن رحیمی کے بموجب صیانتی افواج نے گیسٹ ہاوز میں موجود 54 افراد کو بچالیا ہے ۔ بدقسمتی سے چند ہندوستانی دیگر افراد کے ساتھ کابل گیسٹ ہاوز پرحملہ میں ہلاک ہوگئے ۔ ہندوستانی سفیر سنہا قبل ازیں اپنے ٹوئٹر پر اس کی خبر دے چکے تھے ۔ امریکہ کے سفارتخانہ برائے کابل نے اس خبر کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ حملہ میں ایک امریکی شہری بھی ہلاک ہوا۔ کولولا پشتہ میں کئی بین الاقوامی گیسٹ ہاوز اور ہوٹلیں ہیں اور قریب میں ہی افغانستان کی وزارت داخلہ کی عمارت ہے ۔ آج کا بے رحمانہ حملہ گذشتہ سال کے ایک ہوٹل اور ایک ریسٹورنٹ پر دو حملوں کی یاد دلاتا ہے جس میں 30 افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔ قبل ازیں آج بندوق برداروں نے علمائے دین کے ایک اجتماع پر بھی جو ہلمند میں ہورہا تھا فائرنگ کی تھی

جس میںکم از کم 7 افراد ہلاک ہوگئے ۔ طالبان کو 2001 میں اقتدار سے بے دخل کردیا گیا تھا جس کے بعد انہوں نے اعلان کیا تھا کہ گذشتہ ماہ موسم بہار کی جارحیت شروع کی جارہی ہے ۔ حملے ایک ایسے دن ہوئے جبکہ وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کابل کا دورہ کررہے تھے اورانہوں نے حکومت افغانستان کو تیقن دیا ہے کہ حکومت پاکستان طالبان کے خلاف جنگ میں بھر پور تائید کرے گی۔ افغانستان میں طالبان کے حملوں میں اضافہ ہوگیا ہے جبکہ غیر ملکی فوجیوں نے جنگ زدہ ملک سے جاریہ سال کے اختتام تک اپنی فوجوں کے تخلیہ کا اعلان کیا ہے ۔ گذشتہ سال مئی میں ہندوستانی کونسل برائے عراق مغربی افغانستان پر بھی چار زبردست مسلح بندوق برداروں نے حملہ کیا تھا جو بعد میں ایک انکاونٹر میں ہلاک کردیئے گئے ۔سلمی ڈیم پراجکٹ کے علاوہ ہندوستان نے بعض بڑے انفراسٹرکچر پراجکٹس بشمول افغانستان پارلیمنٹ کی عمارت واقع کابل میں سرمایہ کاری کی ہے ۔ہندوستان کا ترقیاتی امدادی پروگرام برائے افغانستان فی الحال دو ارب امریکی ڈالر مالیتی ہے اس طرح ہندوستان تمام علاقائی ممالک میں افغانستان کو عطیہ دینے والا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT