Wednesday , December 12 2018

کابینہ میں توسیع کیلئے کے سی آر کی رفقاء سے مشاورت

بجٹ سیشن میںاہم مسائل پر اپوزینش سے مقابلہ کیلئے وزراء اور ارکان کو تیار رہنے کا مشورہ

بجٹ سیشن میںاہم مسائل پر اپوزینش سے مقابلہ کیلئے وزراء اور ارکان کو تیار رہنے کا مشورہ
حیدرآباد /24 اکٹوبر ( این این ایس ) تلنگانہ راشٹرا سمیتی ( ٹی آر ایس ) کے صدر اور تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اپنی کابینہ میں کی جانے والی مجوزہ توسیع کے موقع پر شامل کئے جانے والے ارکان کے نام بدستور اپنے سینہ میں سربستہ راز رکھتے ہوئے آج اپنا پارٹی کے ارکان اسمبلی سے اس موضوع پر رسمی بات چیت کے ذریعہ ان کے نظریات کا عندیہ لینے کی کوشش کی ۔ کے سی آر نے اگرچہ اپنی 12 رکنی کابینہ میں جلد یا بہ دیر توسیع کرنے کا منصوبہ تو بنایا تھا لیکن ریاست کو درپیش سنگین مسائل سے نمٹنے میں ٹی آر ایس حکومت کی ناکامیوں پر بالخصوص دو بڑی اپوزیشن جماعتوں کانگریس اور تلگودیشم کی سخت تنقیدوں کے سبب اب وہ کابینہ میں فی الفور توسیع پر غور کرنے لگے ہیں ۔ ایک طرف اضلاع کھمم اور محبوب نگر کو کابینہ میں نمائندگی حاصل نہیں ہے ۔ دوسری طرف کے سی آر اپنے پاس کئی قلمدان رکھے ہوئے زائد ذمہ داریوں کا بوجھ برداشت کرنے پر مجبور ہیں ۔ علاوہ ازیں ان کی کابینہ میں کسی خاتون کو نمائندگی دینا بھی باقی ہے ۔ برقی بحران ٹی آر ایس حکومت کیلئے سب سے بڑا درد سر بن گیا ہے ۔ برقی قلت کے سبب دارالحکومت حیدرآباد کے علاوہ تمام 10 اضلاع کے ٹاونس اور دیہاتوں میں بڑے پیمانے پر برقی کٹوتی کی جارہی ہے جس کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی ۔ برقی کٹوتی سے عوام کو سخت دشواریاں ہیں تو کسان سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں ۔ ریاست کے مختلف اضلاع سے کسانوں کی خودکشیوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں ۔ صنعتوں کو ہفتہ میں دو دن برقی کٹوتی کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے ۔ اس صورتحال پر کانگریس اور تلگودیشم بھی ٹی آر ایس حکومت کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں ۔ اپوزیشن جماعتیں ان مسائل پر حکومت کی توجہ مبذول کروانے کیلئے احتجاجی دھرنے اور ریالیاں منظم کر رہی ہیں اور ان مسائل پر مباحث کیلئے اسمبلی اجلاس کی طلب کا مطالبہ کر رہی ہیں ۔ اس دوران رسم و روایت کی تکمیل کیلئے اختتام ڈسمبر سے قبل ریاستی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کی طلب بھی ضروری ہے ۔ اپوزیشن کے بڑھتے ہوئے دباؤ نے چیف منسٹر کے سی آر کو نومبر کے پہلے ہی ہفتہ میں اسمبلی کے بجٹ سیشن کی طلبی کیلئے مجبور کر دیا ہے ۔ تاہم چیف منسٹر اس بات سے بھی پوری طرح باخبر ہیں کہ ان مسائل پر مقننہ میں اپوزیشن کے تنقیدی حملوں کامیابی کے ساتھ جواب دینے کیلئے مکمل طور پر تیار رہنا ہوگا ۔ انہو ںنے اسمبلی میں اپوزیشن کے حملوں کا کامیاب مقابلہ کرنے کیلئے ممکن ہے کہ کے سی آر اپنے چند بااعتماد وزراء کو ذمہ داری دیں گے ۔ کابینہ میں توسیع سے ٹی آر ایس کے اُن ارکان اسمبلی کو مطمئینکرنے میں مدد ملے گی جن کے اضلاع کو پہلے وزارت میں نمائندگی حاصل نہیں تھی ۔ کے سی آر اگرچہ اپنی کابینہ میں شامل کئے جانے والے چہروں کے بارے میں پہلے ہی ذہن بناچکے ہیں لیکن اس ضمن میں اپنی پارٹی کے ارکان مقننہ سے رسمی طور پر مشاورت کا آغاز کردیا ہے ۔ معتبر ذرائع کے مطابق چیف منسٹر اپنے چند وزراء کی کارکردگی سے مطمئین نہیں ہیں لیکن ہنوز یہ فیصلہ نہیں کرسکے ہیں کہ ایسے وزراء کو برطرف کیا جائے یا پھر قلمدانوں میں تبدیلی کے ذریعہ ان کی اہمیت کم کی جائے ۔

TOPPOPULARRECENT