Thursday , December 13 2018

کارتک کا ایک چھکا کئی شرمندگیوں پربھاری

 

نئی دہلی۔19 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) وکٹ کیپر دنیش کارتک نے محض آٹھ گیندوں پر ناٹ آوٹ 29 رنز کی اننگز کھیل کر ٹیم انتظامیہ کو ناتجربہ کار وجے شنکر کو کارتک سے اوپر بھیجنے کے خودکش فیصلے سے بچا لیا۔کارتک کی برق رفتار اننگز اور آخری گیند پر لگائے گئے چھکے کی بدولت ہندستان نے بنگلہ دیش کو چار وکٹ سے شکست دے کر کولمبو میں سہ رخی ٹوئنٹی20 ندھاس ٹرافی جیت لی۔ ہندستانی ٹیم انتظامیہ اور اپنا پانچواں ٹوئنٹی 20 میچ کھیل رہے شنکر کو کارتک کا شکر گزار ہونا چاہیے جنہوں نے ٹیم کو شرمناک شکست سے بچا لیا۔ٹیم انتظامیہ نے پانچواں میچ کھیل رہے 27 سالہ تمل ناڈو کے آل راؤنڈر شنکر کو اس وقت میدان میں اتارا جب 14 ویں اوور میں کپتان روہت شرما آؤٹ ہو کر پویلین لوٹ گئے ۔ ہندستان کا موقف نازک تھا اور ایسے وقت میں ٹیم کو کریز پر کسی تجربہ کار کھلاڑی کی ضرورت تھی لیکن ٹیم انتظامیہ نے شنکر کو میدان میں اتارنے کا جوکھم اٹھایا جو تقریبا خودکش فیصلہ کے طور پر تبدیل ہو گیا تھا۔منیش پانڈے اچھی بیٹنگ کر رہے تھے لیکن شنکر کو اسٹرائیک روٹیٹ کرنے میں خاصی پریشانی ہو رہی تھی۔اننگز کے 18 ویں اوور میں مستفیض الرحمن بولنگ کر رہے تھے اور پہلی گیند سے ہی شنکر کی مشکلیں شروع ہوگئیں۔ ہندستان کو آخری تین اوور میں35 رن چاہیے تھے ۔شنکر نے مسلسل چار ڈاٹ بال کھیلیں۔ ہندستانی پرستار مسلسل جھنجھلاتے جا رہے تھے ۔ سوشل میڈیا پر شنکر کے خلاف آوازیں لگنی لگی تھیں، پانچویں گیند پر جاکر لیگ بائی سے اسٹرائیک تبدیل ہوئی لیکن تب تک دوسرے سرے پر پانڈے اپنا صبر کھو بیٹھے اور آخری گیند پر کیچ آؤٹ ہو گئے ۔اب12 گیندوں پر34 رنز چاہیے تھے ۔میدان پر اترے کارتک نے بنگلہ دیش پر ہلا بولا اور19 ویں اوور میں روبیل حسین پر22 رنز بنا ڈالے ۔آخری اوور میں شنکر کی حالت ویسی ہی رہی حالانکہ انہوں نے چوتھی گیند پر چوکا لگایا اور پانچویں گیند پر کیچ آؤٹ ہو گئے ۔آخری گیند پر اسٹرائیک کارتک کے ہاتھوں میں تھی اور انہوں نے سومیا سرکار پر چھکا لگا دیا۔ہندستانی ٹیم انتظامیہ اور حامیوں نے اس کامیابی کا جشن جم کر منایا۔کوچ روی شاستری نے راحت کی سانس لی۔سب سے زیادہ خوشی اگر کسی کو ہوئی تو وہ شنکر تھے ۔کارتک نے نہ صرف شنکر کو بلکہ پوری انتظامیہ ٹیم کو ایک خودکش فیصلے سے بچا لیا۔اگر ہندستان یہ میچ ہار جاتا تو یقینی طور پر اس بات کی سب سے زیادہ تنقید ہوتی کہ کارتک کے رہتے ٹیم انتظامیہ نے شنکر جیسے ناتجربہ کار کھلاڑی کو ان سے اوپر کیوں بھیجا۔ کپتان روہت شرما نے بھی بعد میں اس فیصلے پر کہا کہ یہ دیکھنا بہت خوشی کی بات ہے کہ دنیش نے وہی کیا جو وہ کرتے رہے ہیں۔انہیں اب تک ٹورنمنٹ میں زیادہ وقت نہیں مل پایا تھا لیکن انہوں نے اپنی صلاحیت اور طاقت کا مظاہرہ کیا ۔ ہم نے ان کی فنشنگ صلاحیت اور تجربہ کی وجہ سے ہی روکے رکھا تھا اور اس کا آخر میں ہمیں فائدہ ملا۔کارتک اس ایک اننگز سے ہی دنیا کے بہترین فنشر مانے جانے والے اور وکٹ کیپر مہندر سنگھ دھونی کے سائے سے باہر نکل آئے ۔کارتک اس اننگز کے بعد دھونی کے مقابلے پر آکر کھڑے ہو گئے ہیں اور اب ان کا موازنہ دھونی کی فنشنگ شبیہ سے کیا جانے لگا ہے ۔32 سالہ کارتک نے ہندستان کے لئے23 ٹسٹ،79 ون ڈے اور19 ٹوئنٹی 20 میچ کھیلے ہیں۔حال میں کولکتہ نائٹ رائڈرس ٹیم کے لئے آئی پی ایل کپتان مقرر کئے گئے کارتک کی یہ کارکردگی اب محدود اوورز میں انہیں ٹیم میں نہ صرف وکٹ کیپر بلکہ ایک بیٹسمین کے طور پر ان کی جگہ پختہ کر گئی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT