Saturday , February 24 2018
Home / ہندوستان / ’’کارسیوکوں پر فائرنگ کا حکم حق بجانب تھا‘‘ : ملائم سنگھ

’’کارسیوکوں پر فائرنگ کا حکم حق بجانب تھا‘‘ : ملائم سنگھ

’ملک کیلئے اگر اور بھی زیادہ افراد کو مارنا ہوتا تو سیکوریٹی فورسیس وہ بھی کرسکتے تھے‘‘

لکھنؤ ۔ 22 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے بانی ملائم سنگھ یادو نے 1990ء میں ایودھیا کی سمت مارچ کرنے والے کارسیوکوں پر فائرنگ کرنے کیلئے اپنی طرف سے جاری کردہ احکام کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کیلئے اس سے بھی زیادہ لوگوں کو مارنے کی ضرورت ہوتی تو سیکوریٹی فورسیس وہ بھی کرسکتے تھے۔ ملائم سنگھ ایس پی کے ہیڈکوارٹرز میں خطاب کررہے تھے جہاں بڑے پیمانے پر ان کی 79 ویں سالگرہ تقریب منعقد کی گئی تھی، جس کے ذریعہ یہ پیغام دیا گیا کہ پارٹی میں سب کچھ ٹھیک ہے۔ ملائم سنگھ نے کہا کہ ’’دیش کی ایکتا کیلئے اور بھی مارنا پڑتا تو سرکشا بل (سیکوریٹی فورسیس) مارتے تھے‘‘۔ اترپردیش کے سابق چیف منسٹر نے کہا کہ 30 اکٹوبر 1990ء کو ایودھیا میں پولیس فائرنگ کے نتیجہ میں 28 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ وی ایچ پی کی اپیل پر ملک بھر میں ایک لاکھ کارسیوک ایودھیا کے متنازعہ مقام پر رام مندر کی تعمیر کیلئے جمع ہوئے تھے۔ اس فائرنگ کے بعد ملائم سنگھ یادو اترپردیش کی آبادی میں شامل 20 فیصد مسلمانوں میں ملائم سنگھ کے نام سے پہچانے جانے لگے تھے۔ مسلمانوں کی یہ تعداد ریاست کی بڑی سیاسی جماعتوں میں ایک بڑی طاقت سمجھی جاتی ہے۔ ملائم سنگھ نے بابری مسجد کو بچانے کیلئے کی گئی اپنی کارروائی کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد یہ کہتے ہوئے ہتھیار اٹھا چکی تھی کہ اگر ان کی عبادت گاہ ہی باقی نہیں رہی تو ملک میں باقی کیا بچے گا‘‘۔ یادو نے کہا کہ سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے دوران بات چیت ان سے کہا تھا کہ 56 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT