Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / کارپوریشنوں اور بورڈ صدور نشین کے نامزد عہدوں پر تقررات میں پیشرفت

کارپوریشنوں اور بورڈ صدور نشین کے نامزد عہدوں پر تقررات میں پیشرفت

کارکنوں و قائدین کی ناراضگی دور کرنے چیف منسٹر کے سی آر کی سنجیدگی ، حلیف جماعت کو بھی عہدے ممکن
حیدرآباد۔/4مارچ، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے گزشتہ 20ماہ کے دوران سرکاری نامزد عہدوں پر تقررات کیلئے کوئی مساعی نہیں کی جس کے نتیجہ میں قائدین اور کارکنوں میں اندرونی طور پر ناراضگی میں اضافہ ہوا۔ اس صورتحال کو محسوس کرتے ہوئے چیف منسٹر نے اپریل میں نامزد عہدوں پر تقررات کا فیصلہ کیا ہے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ پہلے مرحلہ میں مختلف کارپوریشنوں اور بورڈز کے صدورنشین کے عہدوں پر تقررات کئے جائیں گے۔ چیف منسٹر اپنے بااعتماد رفقاء کے ذریعہ تقررات کے عمل پر مشاورت کا آغاز کردیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران تقررات کا آغاز کردیا جائے گا اور پہلے مرحلہ میں ان قائدین کو ترجیح دی جائے گی جو پارٹی کے قیام سے وابستہ ہیں۔ ان کے بعد مختلف انتخابات میں پارٹی ٹکٹ سے محروم قائدین کو ترجیح دی جائے گی۔ چیف منسٹر نے ٹکٹ سے محروم قائدین کو نامزد عہدوں پر تقررات کا تیقن دیا تھا۔ گریٹر حیدرآباد کے انتخابات کے وقت مختلف پارٹیوں سے شامل ہونے والے قائدین کو بھی نامزد عہدوں کا تیقن دیا گیا۔ ان حالات میں موجود نامزد عہدوں سے کہیں زیادہ تعداد میں دعویدیدار دیکھے جارہے ہیں۔ چیف منسٹر نے ایسے قائدین کی فہرست تیار کرنے کو کہا ہے جو معاشی طور پر کمزور ضرور ہیں لیکن پارٹی کے قیام سے وابستہ رہ کر سنجیدگی سے کام کررہے ہیں۔ اپریل کے آخری ہفتہ میں ٹی آر ایس کا یوم تاسیس منایا جائے گا لہذا چیف منسٹر ان تقاریب سے قبل ہی تقررات شروع کرنے کے حق میں ہیں۔ کارپوریشنوں کے صدورنشین کے علاوہ مارکٹ کمیٹیوں، اڈوائزری بورڈ اور مختلف کارپوریشنوں کے ڈائرکٹرس کے عہدوں پر مرحلہ وار طور پر تقررات کئے جائیں گے۔ اسمبلی اجلاس کے دوران چیف منسٹر وزراء اور عوامی نمائندوں سے اس مسئلہ پر مشاورت کرسکتے ہیں۔ نامزد عہدوں پر تقررات کے سلسلہ میں پارٹی کے اقلیتی قائدین بھی طویل عرصہ سے منتظر ہیں۔ اقلیتی اداروں اور عہدوں کی تعداد اگرچہ محدود ہے لیکن خواہشمندوں کی طویل فہرست حکومت کیلئے انتخاب کرنے میں دشوارکن ثابت ہوسکتی ہے۔ اقلیتی قائدین جو پارٹی کے قیام سے وابستہ ہیں وہ عہدوں کے پہلے حقدار ہیں لیکن اکثر دیکھا یہ گیا ہے کہ حالیہ عرصہ میں شامل ہونے والے قائدین وزراء سے اپنی قربت کے نتیجہ میں عہدوں کے اہم دعویدار بن چکے ہیں۔ اقلیتی اداروں میں فینانس کارپوریشن، حج کمیٹی، اردو اکیڈیمی، اقلیتی کمیشن اور وقف بورڈ شامل ہیں۔ ان میں بعض اداروں پر تقررات حلیف مقامی جماعت کی مرضی سے کئے جاسکتے ہیں لہذا ٹی آر ایس اقلیتی قائدین کیلئے اقلیتی اداروں میں گنجائش کافی کم ہوچکی ہے۔

TOPPOPULARRECENT