Monday , December 11 2017
Home / Top Stories / کارپوریشن جانے والے کروڑ پتی ‘ ایوان جانے والے ارب پتی

کارپوریشن جانے والے کروڑ پتی ‘ ایوان جانے والے ارب پتی

غریبوں کے شہر کی تونگری ‘ سارے شہر میں چند افراد کی دولت کے چرچے

شہر میں انکم ٹیکس دھاوے سارے شہر میں موضوع بحث۔ عوام کے بے لاگ تبصرے اور ریمارکس

حیدرآباد ۔ 28 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : گذشتہ دنوں پرانے شہر میں انکم ٹیکس محکمہ نے وسیع پیمانے پر کارروائی کی ۔ ان دھاووں کی جو اطلاعات ہیں اب وہ سارے شہر میں موضوع بحث بنی ہوئی ہیں۔ شہر کی ہر ہوٹل ہو یا سلم بستیوں کے چوراہے ہوں ‘ چاہے چائے نوشی کرنے والے دو دوست ہوں یا دن بھر کی تھکن کے بعد وقت گذاری کرنے والے چند افراد کی محفل ہو ہر کوئی غریب مسلمانوں کے اس خطہ شہر کی تونگری پر تبصرے کرنے میں مصروف ہے ۔ عوام میں یہ تجسس ہے کہ سیاسی آقاوں کا قرب رکھنے والے صرف دو افراد کی کروڑہا روپئے کی دولت ہوسکتی ہے تو پھر دوسروں کی دولت کتنی ہوسکتی ہے ؟ ۔ عوام میں یہ ریمارکس کئے جا رہے ہیں کہ غریب اور غربت کی دہائی دینے والے سیاسی نعرہ باز جو کارپوریشن جاتے ہیں تو کروڑ پتی بن سکتے ہیں اور ایوان جاتے ہیں تو ارب پتی تو بن ہی سکتے ہیں۔ اب تو عوام میں حواریوں کی دولت کے چرچے شروع ہوئے ہیں۔ لوگ یہ سوال کرنے لگے ہیں کہ جس شہر میں کوئی غریب مسلمان آٹو چلاتا ہے تو اسے آٹو کرایہ پر حاصل کرنا پڑتا ہے اور وہ آٹو کو ذاتی بنانے کیلئے کئی طرح کے پاپڑ بیلنے کیلئے مجبور ہے ۔ اگر وہ خود سے آٹو خرید نہیں سکتا تو اسے قرض کے حصول کیلئے کارپوریشنوں کے چکر کاٹنے میں عمر دراز کرلینی پڑتی ہے ۔ کچھ واقعات تو ایسے بھی ہیں کہ کارپوریشنوں سے قرض کے حصول کی کوشش کرنے کیلئے بھی لوگوں نے قرض حاصل کیا ہے ۔ تین دن قبل ہوئے انکم ٹیکس دھاوے اب شہر کی ہر ہوٹل ‘ ہر چوراہے اور ہر تقریب میں موضوع بحث بن گئے ہیں۔ عوام کے تبصرے حیران کن بھی ہیں اور تعجب کا باعث بھی ۔ جو لوگ اب تک ایسے معاملات میں تبصرے کرنے سے گریز کرتے تھے اب وہ بھی زبان کھولنے لگے ہیں۔

انہیں تبصروں اور محفلوں میں یہ تک قیاس کیا جا رہا ہے کہ صرف دو حواریوں کے قبضے سے تقریبا 200 کروڑ روپئے کے اثاثہ جات کا پتہ چلا ہے جبکہ ان دونوں کے ماضی اور ان کی شخصیت سے شہر کے عوام بخوبی واقف ہیں۔ عوام میں یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ سیاسی سرپرستی کے چند سالوں میں ان کی حیثیت اور پہچان بدل گئی ہے اور وہ کروڑوں میں کھیلنے لگے ہیں۔ جن سیاستدانوں کی سرپرستی نے انہیں زمین سے اٹھاکر آسمان کی بلندیوں تک پہونچا دیا ان سیاستدانوں کی ریڑھ کی ہڈی رہنے والے عوام کی معاشی حالت ابتر سے ابتر ہوتی جا رہی ہے ۔ حیدرآباد وہ شہر ہے جہاں 70 ہزار آٹو چلائے جاتے ہیں لیکن ان میں بیشتر آٹو کرایہ پر حاصل کئے جاتے ہیں لیکن اسی شہر میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کی صرف گاڑیوں کی قیمت ایک اندازہ کے مطابق 45 کروڑ کی ہے ۔ جن بستیوں میں عوام کو سرکاری بسوں کی سہولت تک میسر نہیں ہے وہاں چند افراد کی شان و شوکت تصویر کا دوسرا رخ پیش کرتی ہے اور عوام کا تاثر یہ ہے کہ یہ سب کچھ سیاسی سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔ عوام میں یہ تجسس بھی ہے کہ کہیں یہ دولت خود سرپرستی کرنے والوں کی تو نہیںہے ؟ ۔ 50 لاکھ سے زائد آبادی والے اس شہر میں حلقہ پارلیمنٹ حیدرآباد میں مسلم رائے دہندے 8 لاکھ اور سکندرآباد حلقہ پارلیمنٹ میں تقریبا 4.5 لاکھ ہیں۔ دونوں شہروں کے 12.5 لاکھ مسلم رائے دہندوں کی نمائندگی کے دعویداروں کے صرف دو حواریوں کے پاس تقریبا 200 کروڑ کی دولت نے سب کو حیرت زدہ کردیا ہے ۔ رائے دہندوں کی معاشی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے لیکن اقتدار کے گلیاروں کے چکر کاٹنے والے چند افراد کی دولت میں دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی ہوتی جا رہی ہے ۔ جن بستیوں میں لوگ اپنا پیٹ بھرنے کیلئے کئی طرح کی جدوجہد کرنے پر مجبور ہیں وہیں کچھ لوگ ایسے بھی بستے ہیں جن کے پاس صرف سامان تعیش ہی کروڑہا روپئے مالیت کا ہے ۔ یہ امکان بھی ہے کہ جو دستاویزات و اثاثہ جات ضبط ہوئے ہیں ان کا تخمینہ کیا جانا ہے اور اگر یہ 200 کروڑ سے زائد کا ہوتا ہے تو انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے سپرد بھی ہوسکتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT