Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / کارپوریٹر بننے کی خواہش، ماجد حسین پھنس گئے

کارپوریٹر بننے کی خواہش، ماجد حسین پھنس گئے

حیدرآباد 22 جنوری (سیاست نیوز) سابق میئر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد نے قانون کو دھوکہ دینے کی کوشش کی ہے اور اُنھوں نے دو سے زائد بچے رکھنے کے باوجود صرف دو بچے حلفنامے میں تحریر کرتے ہوئے گمراہ کیا ہے۔ سی پی آئی (ایم) قائد کامریڈ ایم سرینواس نے سابق میئر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد ماجد حسین کی تین لڑکیوں کے صداقتنامہ پیدائش کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہاکہ ماجد حسین نے ایک لڑکی کی پیدائش کو مخفی رکھنے کے لئے اپنے عہدہ کا غلط استعمال کیا اور دوسرے علاقہ سے صداقت نامہ پیدائش حاصل کیا۔ جاری کردہ 3 صداقتناموں کے رجسٹریشن نمبر علیحدہ علیحدہ ہونے کے علاوہ اُن میں تواریخ پیدائش بھی الگ الگ ہیں لیکن دو لڑکیوں کے نام ایک ہی تحریر کئے گئے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ منظم انداز میں سازش کے تحت یہ صداقتنامہ پیدائش تیار کئے گئے ہیں۔ ماجد حسین کو پہلی لڑکی 15 جولائی 2009 ء کو تولد ہوئی جن کا نام عائشہ ہالہ رکھا گیا اور فرنانڈیز ہاسپٹل میں تولد ہونے والی اس لڑکی کا رجسٹریشن نمبر 3743 ہے اور والدہ کا نام سیدہ جویریہ عظمت بتایا جاتا ہے۔ یہ سرٹیفکٹ وارڈ 4A سرکل نمبر 8 سے جاری کیا گیا ہے جس پر ڈاکٹر وائی وینکٹ راونا اے ایم او ایچ کے دستخط موجود ہیں۔ اسی طرح دوسرا سرٹیفکٹ بھی عائشہ ہالہ کے نام سے جاری کیا گیا ہے جوکہ 15 اپریل 2010 ء کو تولد ہوئی۔ اس لڑکی کی جائے پیدائش نووا ہاسپٹل اپرپلی بتائی جاتی ہے جس میں والدین کے نام کی جگہ محمد ماجد حسین اور سیدہ جویریہ عظمت تحریر ہے۔ اس لڑکی کا رجسٹریشن نمبر 1203 ہے اور یہ صداقت نامہ پیدائش وارڈ زون 1 سرکل نمبر 6 سے جاری کیا گیا ہے جس پر ڈاکٹر پی پدما اے ایم او ایچ کی دستخط موجود ہے۔ اسی طرح تیسری لڑکی صغریٰ حبا کی تاریخ پیدائش 6 سپٹمبر 2012 ء بتائی گئی ہے جوکہ فرنانڈیز ہاسپٹل میں تولد ہوئی ہے۔ اس لڑکی کا رجسٹریشن نمبر 4607 موجود ہے اور یہ صداقتنامہ وارڈ 4A سرکل نمبر 8 سے جاری کیا گیا ہے جس پر ڈاکٹر وائی وینکٹ راونا اے ایم او ایچ کے دستخط موجود ہیں۔ ان تین سرٹیفکٹس کی موجودگی کے بعد بھی محمد ماجد حسین نے صرف دو لڑکیاں ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے حلفنامہ داخل کیا ہے۔ جس طریقہ سے دو صداقتنامے ایک ہی لڑکی کے نام پر بنائے گئے ہیں اُس سے اندازہ ہوتا ہے کہ منصوبہ بند طریقہ سے یہ کام انجام دیا گیا ہے۔ قانون کو دھوکہ دینے کیلئے رچی گئی اس سازش میں میئر کے دفتر کا استعمال کئے جانے کا بائیں بازو قائدین الزام عائد کررہے ہیں۔ تینوں صداقتناموں پر رہائشی پتہ یکساں ہے جوکہ سابق میئر کے گھر کا پتہ بتایا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں مہدی پٹنم بلدی حلقہ سے مجلسی امیدوار محمد ماجد حسین پر الزام عائد کیا جارہا ہے کہ اُنھوں نے پرچہ نامزدگی کے ساتھ داخل کردہ حلفنامہ میں اُن پر جاری مقدمات کو مخفی رکھا ہے۔ اُنھوں نے حلف نامہ میں دو مقدمات کا تذکرہ کیا ہے جبکہ بائیں بازو جماعتوں کا الزام عائد ہے کہ فی الحال ماجد حسین پر 8 مقدمات زیردوران ہیں۔ جن میں کرائم 38/2011 ، 46/2011 ، 304/2011 ، 187/2014 ، 117/2015 ، 348/2012 ، 187/2015 شامل ہیں۔ ان کرائم نمبرس کی تفصیلات کے متعلق بائیں بازو قائدین کا دعویٰ ہے کہ یہ تفصیلات پولیس کے ذریعہ ہی حاصل کردہ ہیں۔

TOPPOPULARRECENT