کارپوریٹ انٹر کالجس اور کارپوریٹ دواخانے حکومت کے نشانے پر

بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کے خلاف کارروائی ، عوام سے شکایتوں کی وصولی کا فیصلہ
حیدرآباد۔6نومبر(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ انجنیئرنگ کالجس کے بعد اب تلنگانہ میں موجود کارپوریٹ انٹرمیڈیٹ کالجس کے ساتھ کارپوریٹ دواخانوں کو نشانہ بنانے میں مصروف ہے اور کہا جا رہا ہے کہ کارپوریٹ دواخانو ںمیں عوامی حقوق کے متعلق شعور بیداری کے بعد محکمہ صحت کی جانب سے بڑے پیمانے پر کاروائی کی جائے گی تاکہ کارپوریٹ ہاسپٹلس میں مریضوں کو ہراسانی کی شکایات کا خاتمہ ہوسکے۔ تشکیل تلنگانہ کے فوری بعد حکومت تلنگانہ نے کارپوریٹ ہاسپٹلس کو آروگیہ شری اسکیم کے بقایاجات روکتے ہوئے یہ پیغام دے دیا تھا کہ حکومت تلنگانہ کارپوریٹ ہاسپٹلس کی بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کو برداشت نہیںکرے گی لیکن بعد ازاں شہر کے معروف کارپوریٹ ہاسپٹلس اور کارپوریٹ ہاسپٹلس کی اسوسیشن کی جانب سے آروگیہ شری اسکیم کے تحت دواخانہ سے رجوع ہونے والے مریضوں کو داخلہ نہ دینے اور علاج نہ کرنے کے اعلان کے بعد انہیں اقساط میں بقایاجات کی ادائیگی کے سلسلہ میں اقدامات کئے جانے لگے لیکن حکومت کے ایک گوشہ نے متعدد مرتبہ کارپوریٹ ہاسپٹلس کو بھاری رقومات کی منظوری کے بجائے سرکاری دواخانوں کو کارپوریٹ ہاسپٹلس کے طرز پر ترقی دینے کی تائید کی اور خود چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ بھی اس منصوبہ کے حامی ہیں اسی لئے انجنیئرنگ کالجس کے خلاف بڑے پیمانے پر مہم کے بعد اب حکومت نے کارپوریٹ ہاسپٹلس کی من مانی پر روک لگانے کے اقدامات شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس فیصلہ کے تحت حکومت نے محکمہ صحت کو ہدایت جاری کی ہیں کہ وہ دواخانوں پر عوام کے حقوق کے متعلق شعور بیدار کریں تاکہ عوام کو اس بات کا پتہ چلے کہ دواخانہ میں قانونی طور پر وہ کیا حاصل کرسکتے ہیں۔ عام طور پر جو شکایات موصول ہوتی ہیں ان شکایات کے متعلق بتایاجاتاہے کہ جو مریض دواخانہ سے رجوع ہوتے ہیںان کے بل کی ادائیگی اور ڈپازٹ کے سلسلہ میں دواخانہ کا رویہ انتہائی سخت ہوتا ہے اور جب تک پیسے جمع نہیں کروائے جاتے اس وقت تک تشویشناک حالت میں رجوع ہونے والے مریض کا بھی علاج نہیں کیا جاتا۔ اسی طرح دواخانہ کی جانب سے مریض کے معائنوں کے رپورٹس رشتہ داروں کے حوالہ نہیں کئے جاتے اور انہیں دوسرے کسی ڈاکٹر سے رائے مشورہ کی اجازت نہیں ہوتی اور سرجری کے ضرورت ہو یا نہ ہو سرجری پر زور دیا جاتا ہے ۔ اس طرح کی شکایات کو دور کرنے اور عوام کو بہتر علاج کی سہولت کی فراہمی کیلئے حکومت تلنگانہ کی جانب سے کارپوریٹ دواخانو ںکی من مانی کے خاتمہ کا فیصلہ کیا ہے اور کہا جارہا ہے کہ عوامی شعور بیداری کے بعد عوام سے شکایات وصول کرتے ہوئے ان دواخانوں کے خلاف کاروائی کی جائے گی جو دواخانوں کے انتظامیہ کی جانب سے مریضوں کو ہراساں کیا جاتاہے ۔ سرکاری ذرائع کے مطابق حکومت تلنگانہ کے محکمہ صحت کی جانب سے ریاست میں موجود خانگی کارپوریٹ دواخانوں کے گریڈ دینے کا بھی منصوبہ تیار کیا جارہا ہے تاکہ ان گریڈ کے ذریعہ ان کی فیس اور دواخانوں میں موجود سہولتوں کے اعتبار سے چارجس مختص کئے جا سکیں۔

 

TOPPOPULARRECENT