Wednesday , December 12 2018

کارپوریٹ اور خانگی بینکس کو فائدہ ہوگا

عوام کے لیے نقصاندہ ممکن ، غیر قانونی سرگرمیاں منظر عام پر آئیں گے
حیدرآباد۔20ڈسمبر(سیاست نیوز) عوامی شعبہ کے بینکوں کے انضمام کا کارپوریٹ بینکوں اور خانگی بینکوں کو زبردست فائدہ حاصل ہوگا اور عام کھاتہ دار کی توجہ خانگی بینکوں کی جانب مبذول ہونے لگے گی کیونکہ ان کی بہتر اورسستی خدمات شہریوں کو راغب کرنے میں کامیاب ہوجائیں گی۔ملک میں خانگی بینکوں کے بڑھتے رجحان کو حکومت کی جانب سے عوامی شعبہ کے بینکوں کے انضمام کی پالیسی سے مزید فائدہ حاصل ہوگا اور عوامی رجحان ان کے کاروبار میں اضافہ کا سبب بن سکتا ہے ۔ملک کے بیشتر بڑے شہروں میں بین الاقوامی خانگی کارپوریٹ بینکو ںکا جال تیزی سے پھیل رہا ہے اور ان بینکوں کی جانب سے انجام دی جانے والی متعدد غیر قانونی سرگرمیاں بھی منظر عام پر آچکی ہیں لیکن اس کے باوجود اگر ان بینکوں کی تجارت کوفائدہ پہنچانے والے اقدامات کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں بینکوں کے استحکام کیلئے تیار کی جانے والی پالیسی بینکوں کیلئے نقصان کا سبب بن سکتی ہے اور بینکوں کا یہ نقصان بالواسطہ طور پر کارپوریٹ بینکوں کے فائدہ اور عوامی نقصان میں تبدیل ہوسکتا ہے۔بتایاجاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے اختیارکی جانے والی بینکوں کے انضمام کی پالیسی فیڈرل طرز حکمرانی اور فیڈرل طرز معاشیات کا حصہ ہیں لیکن اس طرز معیشت کو ملک کی موجودہ تجارتی طرز معیشت کے لئے مناسب قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ ہندستان میں کرنسی کلچر زیادہ ہونے کے سبب ایسا کرنا ممکن نہیں ہوگا بلکہ صورتحال سے خانگی اداروں کو فائدہ پہنچے گا اور وہ بینک جو سستی خدمات فراہم کرتے ہیں ان کی پذیرائی کی جانے لگے گی جن میں بیشتر بین الاقوامی بینک شامل ہیں ۔ہندستانی بینکوں کے انضمام کی صورت میں ان خانگی کارپوریٹ بینکوں کو فائدہ پہنچنے کے قوی امکانات ہیں کیونکہ ان کے اے ٹی ایم اور ان کی خدمات کا جال شہری علاقوں میں بیحد مستحکم ہو چکا ہے ۔ان بینکوں سے عوامی تجارتی روابط میں اضافہ ہوتا ہے تو ایسی صورت میں ان بینکوں کی عالمی مارکٹ میں قدر بھی بڑھے گی اور یہ بینک ہندستانی شہروں میں عام شہریوں تک رسائی بہ آسانی حاصل کرسکیں گے اور جلد ہی اس کے فوائد انہیں نظر آنے لگیں گے کیونکہ ہندستان کثیر آبادی والا ملک ہے۔

TOPPOPULARRECENT