Saturday , June 23 2018
Home / Top Stories / کارپوریٹ جاسوسی کیس ‘ تحقیقات میں تیزی ‘ مزید7 افراد گرفتار

کارپوریٹ جاسوسی کیس ‘ تحقیقات میں تیزی ‘ مزید7 افراد گرفتار

نئی دہلی /20 فروری (سیاست ڈاٹ کام) وزارت پٹرولیم کے راز کے دستاویزات کے افشا کی تحقیقات نے آج تیزی اختیار کرلی جبکہ دہلی پولیس نے مزید7 افراد کو گرفتار کرلیا ہے ۔ اس طرح اس سنسنی خیز مقدمہ میں گرفتار شدگان کی تعداد اب بڑھ کر 12ہوگئی ہے۔ ایک سینئر پولیس عہدیدار نے کہا کہ ہم نے اس سلسلہ میں پریاس جین اور شانتانو سائیکیہ کو بھی گرفتار کرلی

نئی دہلی /20 فروری (سیاست ڈاٹ کام) وزارت پٹرولیم کے راز کے دستاویزات کے افشا کی تحقیقات نے آج تیزی اختیار کرلی جبکہ دہلی پولیس نے مزید7 افراد کو گرفتار کرلیا ہے ۔ اس طرح اس سنسنی خیز مقدمہ میں گرفتار شدگان کی تعداد اب بڑھ کر 12ہوگئی ہے۔ ایک سینئر پولیس عہدیدار نے کہا کہ ہم نے اس سلسلہ میں پریاس جین اور شانتانو سائیکیہ کو بھی گرفتار کرلیا ہے ۔ یہ دونوں انرجی کنسلٹنٹس ہیں جنہوں نے سرقہ کردہ دستاویزات حاصل کئے تھے ۔ سائیکیہ ایک سابق صحافی ہیں اور وہ پٹرولیم کے مسائل پر ایک ویب پورٹل چلاتے ہیں۔ ان کا دفتر جنوبی دہلی کی ڈیفنس کالونی میں ہے ۔ پریاس جین پٹیل نگر سے اپنی کنسلٹنسی فرم چلاتے ہیں۔ آج دو پہر میں پولیس کل گرفتار کئے گئے تمام پانچ افراد کو پٹرولیم وزارت لے گئی ۔ انہیں سینئر عہدیداروں کے ان کمروں میں لیجایا گیا جن کے تعلق سے شبہ ہے کہ انہیں نقلی چابیوں سے کھولا گیا تھا ۔ جن رومس کو رات دیر گئے نقلی چابیوں سے کھولے جانے کا شبہ ہے ان میں جوائنٹ سکریٹری ( ریفائنری ) اور جوائنٹ سکریٹری ( ایکپلوریشن ) کے علاوہ کچھ ڈائرکٹرس کے کمرے بھی شامل ہیں۔

ان کے قبضے سے چابیوں کے جو گچھے دستیاب ہوئے تھے ان سے ہی وزارت کے اعلی عہدیداروں کے کمرے کھولے جاتے تھے ۔ کہا گیا ہے کہ ان ملزمین نے ایک اسپیشل سکریٹری کا کمرہ بھی کھولا تھا ۔ ذرائع نے کہا کہ وزارت کو چند ماہ قبل اس وقت چوکس کیا گیا تھا جب اس وقت کے جوائنٹ سکریٹری ( ایکسپلوریشن ) گریدھر ارمانے کے کمرے سے کچھ اہم ترین دستاویزات ‘ ایک زیراکس مشین میں پائے گئے تھے ۔ اس معاملہ کی وزارت نے داخلی تحقیقات کی تھی ۔ دو ماہ قبل ڈائرکٹر پرشانت ایس لوکھانڈے کا کمرہ کھولے جانے کا شبہ ہوا تھا جس کی تحقیقات کرکے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کی ہدایت دیدی گئی تھی ۔ عدالت میں پیش کئے جانے کے وقت آشا رام نے کہا کہ وہ بے قصور ہے اور اس سارے معاملہ کیلئے اس کے فرزندان ذمہ دار ہیں۔ وزیر تیل و پٹرولیم دھرمیندر پردھان نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ خاطیوں کو سزا دی جائے اور جب تحقیقات مکمل ہوجائیگی تبھی وہ تبصرہ کرینگے ۔

ذرائع نے کہا کہ ملزمین نے فرضی شناختی کارڈز بھی ان کمروں تک رسائی کیلئے استعمال کئے ہیں۔ دریں اثناء کانگریس نے وزارت پٹرولیم کی دستاویزات کے افشاء پر حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کرپشن کو ’’برداشت نہ کرنے‘‘ کا حکومت کا دعویٰ ’’جھوٹا‘‘ تھا۔ کانگریس کے ترجمان اجوئے کمار نے کہا کہ عوام نہیں چاہتے کہ اس معاملے کو پوشیدہ کردیا جائے، جب کہ چند کم رتبہ کے افراد گرفتار کرلئے گئے ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ ’’بارسوخ افراد‘‘ کو بھی گرفتار کیا جائے، جو حقیقی قصوروار ہیں۔ عام آدمی پارٹی نے مطالبہ کیا کہ ایک کمیشن قائم کیا جائے اور منصفانہ تحقیقات کو یقینی بنایا جائے، کمیشن کو رپورٹ پیش کرنے کی مدت کا تعین کیا جائے، کمپنیوں کے اعلی سطحی عہدہ داروں کے خلاف بھی ضروری کارروائی کی جائے۔ جن کمپنیوں کے نام اس تنازعہ میں ابھرکر سامنے آئے ہیں، ان کو بھی گرفتار کیا جانا چاہئے، سینئر قائد اشوتوش نے پریس کانفرنس میں مطالبہ کیا۔

TOPPOPULARRECENT