Wednesday , January 17 2018
Home / ہندوستان / کارپوریٹ جاسوسی: گرفتار ایکزیکٹیوز پولیس تحویل میں

کارپوریٹ جاسوسی: گرفتار ایکزیکٹیوز پولیس تحویل میں

نئی دہلی ۔ 21 ۔ فروری : ( سیاست ڈاٹ کام ) : حساس کارپوریٹ جاسوسی معاملہ کی تحقیقات میں تیزی لاتے ہوئے دہلی پولیس نے آج کہا کہ ’ قومی مفادات کو فراموش کردیا گیا تھا ‘ اور 12 گرفتار افراد بشمول 5کارپوریٹ ایکزیکٹیوز کے خلاف سرکاری رازدارانہ ایکٹ نافذ کرنے کا اشارہ دیا ہے ۔ پانچ کارپوریٹ ایکزیکٹیوز کو آج تین دن کے لیے پولیس تحویل میں دیا گی

نئی دہلی ۔ 21 ۔ فروری : ( سیاست ڈاٹ کام ) : حساس کارپوریٹ جاسوسی معاملہ کی تحقیقات میں تیزی لاتے ہوئے دہلی پولیس نے آج کہا کہ ’ قومی مفادات کو فراموش کردیا گیا تھا ‘ اور 12 گرفتار افراد بشمول 5کارپوریٹ ایکزیکٹیوز کے خلاف سرکاری رازدارانہ ایکٹ نافذ کرنے کا اشارہ دیا ہے ۔ پانچ کارپوریٹ ایکزیکٹیوز کو آج تین دن کے لیے پولیس تحویل میں دیا گیا ہے ۔ جب کہ نوئیڈا میں ایک پٹروکیمیکل کمپنی کے دفتر پر دھاوا کر کے تلاشی بھی لی گئی ۔ پولیس نے اس کمپنی کے ایکزیکٹیو کو پہلے ہی گرفتار کرلیا ہے ۔ کل رات گرفتار پانچ ایکزیکٹیوز کو آج عدالت میں پیش کیا گیا ۔ پولیس نے کہا کہ اس مقدمہ میں قومی مفادات کو یکسر نظر انداز کردیا گیا اور قومی سلامتی سے متعلق دستاویزات بھی برآمد کئے ہیں چنانچہ ان تمام کے خلاف سرکاری رازدارانہ ایکٹ نافذ کیا جاسکتا ہے ۔

پولیس نے ان تمام کو تحویل میں لینے کی خواہش کرتے ہوئے کہا کہ اس مرحلہ پر اگر رہا کردیا گیا تو وہ ثبوتوں کو ختم کرسکتے ہیں ۔کارپوریٹ جاسوسی کیس میں ڈرامائی دعویٰ کرتے ہوئے زیرحراست جرنلسٹ شانتانو سائکیا نے کہا ہے کہ یہ دراصل 10,000 کروڑ روپئے کا اسکام ہے۔ سائکیا نے یہ ڈرامائی اعتراف دہلی پولیس کرائم برانچ آفس سے باہر آتے ہوئے کیا۔ ’’میرا حوالہ دیں، میں پردہ پوشی کررہا تھا۔ یہ 10,000 کروڑ روپئے کا اسکام ہے‘‘۔ یہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا جبکہ قبل ازیں دن میں وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ کسی خاطی کو بخشا نہیں جائے گا اور اس میں ملوث عناصر کے خلاف قانون سخت کام کرے گا۔ قبل ازیں سابق اخباری رپورٹر سائکیا جنھیں پولیس نے حکومتی دستاویزات کے افشاء پر تفتیش کیلئے حراست میں لیا، انھوں نے اُس گینگ سے کوئی روابط کی تردید کی جس نے وزارت پٹرولیم سے کاغذات کا سرقہ کیا۔ پولیس نے یہی دہرایا ہے کہ وہ سائکیا کے خلاف بادی النظر میں ٹھوس ثبوت رکھتے ہیں جس نے اس گٹھ جوڑ میں ملوث بعض عناصر کے ساتھ سابق رپورٹر کی سازباز کا پتہ چلا ہے۔ سائکیا کو اُس کی فیملی کے مطابق اس سے قبل سی بی آئی کی جانب سے اسی طرح کے الزامات کا ملزم بتایا گیا تھا۔ تاہم وہ سی بی آئی کے خلاف 2009ء میں کیس جیت گئے جبکہ حساس نوعیت کے مواد تک رسائی کا الزام تھا۔

TOPPOPULARRECENT