Wednesday , June 20 2018
Home / کھیل کی خبریں / کارپوریٹ شعبہ کھیل میں سرمایہ کاری کو تیار ، راجیہ وردھن سنگھ راٹھور

کارپوریٹ شعبہ کھیل میں سرمایہ کاری کو تیار ، راجیہ وردھن سنگھ راٹھور

وزیر کھیل کے مطابق شعبہ کھیل میں سرمایہ کاری ممکن لیکن سرمایہ کار شفافیت کی ضمانت کے خواہاں

نئی دہلی ۔ /4 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) وزیر کھیل راجیہ وردھن سنگھ راٹھور نے کہا ہے کہ کارپوریٹ سیکٹر ہندوستان میں کھیل اور اتھیلیٹس کی ترقی و فروغ کے خواہاں ہے اور اس کے لئے وہ اس میدان میں سرمایہ کاری بھی کرنا چاہتا ہے لیکن اس کے لئے وہ اس بات کی ضمانت چاہتے ہیں کہ ان کے ذریعہ دیا گیا پیسہ صحیح مد میں خرچ کیا جائے گا ۔ 2004 ء کے اولمپکس میں شوٹنگ مقابلے میں چاندی تمغہ جیتنے والے راٹھور نے کہا کہ وقت کی ضرورت ہے کہ نیشنل اسپورٹ فیڈریشنس (NSFS) اپنے اندر شفافیت لائے ۔ پی ٹی آئی سے اپنے انٹرویو میں راٹھور نے کہا کہ کارپوریٹ سیکٹر کھیل شعبہ میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے لیکن اس کے لئے وہ شفافیت کی ضمانت کا خواہاں ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ فنڈس کی فراہمی ہمارے لئے کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ ہم ہمیشہ ضرورت کے وقت مدد کو تیار ہیں لیکن ہم ان کو معاشی طور پر خود مختار بنانا چاہتے ہیں ۔ اس سوال پر کہ کیا منسٹری فیڈریشن کے بجٹ میں کمی کرنے والی ہے کا جب انہوں نے نفی میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں نے کبھی ایسا نہیں کہا وہ حکومتی گرانٹ کے علاوہ بھی دوسرے ذرائعوں سے مالی معاونت حاصل کرسکتے ہیں ۔ دونوں ایک دوسرے کے لئے ضروری نہیں ہیں ۔ یہ اک دم مناسب وقت ہے جب وہ اپنی معاشی ضروریات کے لئے بذات خود مالی معاونت کے احترام کریں ۔ ریسلنگ ، ہاکی اور بیڈمنٹن جیسے کھیل مختلف لیگ مقابلوں کے ذریعہ اچھا پیسہ اکٹھا کررہے ہیں ۔ اس کے باوجود بھی ہم انہیں فنڈس فراہم کرتے ہیں ۔ واضح رہے کہ راٹھور پہلے کھلاڑی ہیں جن کو اسپورٹ منسٹری کی ذمہ داری ملی ہے ۔ اس ضمن میں ان سے کھیل کے شعبے کو بہت ہی زیادہ توقعات ہیں اور حقیقت میں وہ تمام اسٹیک ہولڈرس ایک ساتھ لانا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے نیشنل اسپورٹس ڈیولپمنٹ کوڈ میں تبدیلی کی وضاحت تو نہیں کی لیکن اس بات کا اشارہ ضرور دیا کہ اس پر نظرثانی کی جائے گی ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت انتظامی امور میں کسی بھی قسم کی دخل اندازی نہیں کرنا چاہتی لیکن وہ کھیل انتظامیہ میں پروفیشنلزم کی خواہاں ہے ۔ انہوں نے /15 تا /30 ستمبر کے درمیان کرکٹ ایشیاء کپ کھیلے جانے رواں سال اور اس میں پاکستان کے شامل ہونے کا عندیہ دیا لیکن پڑوسی ملک کے ہندوستان میں کھیلنے کی اجازت دیئے جانے کے سوال پر انہوں نے ہاں یا نہ میں جواب دینے کے بجائے اور کہا کہ یہ تو وقت ہی بتائے گا ۔ جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ ایک اسپورٹ مین ہونے کے ناطے کیا ان کو ایسا نہیں لگتا کہ کھیل کو سیاست سے دور رکھنا چاہیے تو ان کا جواب تھا جہاں تک کھیل کا سیاست سے تعلق کا سوال ہے تو یہ الگ ہونا چاہئیے لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی جوڑ دیا کہ کھیل ملک میں اقتدار کا سافٹ پروجیکشن ہے اور کھلاڑی ملک کے نمائندے ہیں ۔ انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ ان سے توقعات کا دباؤ ہے لیکن وہ تبدیلی کے لئے پرامید ہیں اور کہا کہ شعبہ کھیل کے لئے یہ بہت ہی اچھا ہے کہ ان میں سے ایک کھلاڑی کو یہ موقع ملا ہے ۔ ہم مل کر اس بات کا ثبوت دیں گے کہ ہم کھیل کے ساتھ ساتھ بہتر انتظامی امور سے بھی ہم آہنگ ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT