Wednesday , June 20 2018
Home / سیاسیات / کارپوریٹ شعبہ کی اعانت سے مودی حکومت کا قیام

کارپوریٹ شعبہ کی اعانت سے مودی حکومت کا قیام

نئی دہلی ۔ 23 جون ۔ ( سیاست ڈاٹ کام) سی پی آئی نے آج دعویٰ کیا ہے کہ کارپوریٹ اداروں نے نریندر مودی حکومت کے قیام کیلئے مہم کو اقدامات فراہم کی اور اس میں اُلٹ پھیر کیا گیا۔ پارٹی نے تمام اختیارات ایک شخص کے کنٹرول میں چلے جانے کی کوششوں پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ اس سے ملک کا جمہوری ڈھانچہ متاثر ہوگا ۔ سی پی آئی جنرل سکریٹری سدھاکر ریڈ

نئی دہلی ۔ 23 جون ۔ ( سیاست ڈاٹ کام) سی پی آئی نے آج دعویٰ کیا ہے کہ کارپوریٹ اداروں نے نریندر مودی حکومت کے قیام کیلئے مہم کو اقدامات فراہم کی اور اس میں اُلٹ پھیر کیا گیا۔ پارٹی نے تمام اختیارات ایک شخص کے کنٹرول میں چلے جانے کی کوششوں پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ اس سے ملک کا جمہوری ڈھانچہ متاثر ہوگا ۔ سی پی آئی جنرل سکریٹری سدھاکر ریڈی نے آج ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران کارپوریٹ شعبہ نے خطیر رقومات خرچ کی جس کا مقصد موافق کارپوریٹ حکومت کا قیام یقینی بنانا تھا۔ انھوں نے اپنی ترجیحات بھی واضح کردی ہیں اور مودی ان کی پسند تھے کیونکہ موافق کارپوریٹ چیف منسٹر ہونے کا وہ ریکارڈ رکھتے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ اقتدار کارپوریٹ ، دائیں بازو کے نظریات اور فرقہ پرستی کے اتحاد کے حوالے کردیا گیا۔ مودی حکومت کے پہلے تین ہفتوں کے تجربہ کی بنیاد پر سی پی آئی کو اندیشہ ہے کہ اب تمام اختیارات انفرادی شخص کے حوالے کرنے کی کوشش ہوگی ۔ اس کے نتیجہ میں لامحالہ پارلیمانی جمہوری نظام ٹھپ ہوجائے گا ۔ سی پی آئی قومی کونسل اجلاس کی روئیداد سے واقف کرواتے ہوئے انھوں نے کہا کہ نئی حکومت نے کارپوریٹ اداروں کو سہولیات فراہم کرنا شروع کردیا ہے ۔ انہیں کئی رعایتیں دی جارہی ہیں جن میں ریلائنس کو کرشنا گوداوری طاس 2 سے گیس نکاسی کی قیمت میں اضافہ بھی شامل ہے۔ ریل کرایوں، ڈیزل، دودھ اور گیس کی قیمت میں اضافہ عوام پر نیا بوجھ ہے۔ مسٹر سدھاکر ریڈی نے الزام عائد کیا کہ کارپوریٹ شعبہ نے کانگریس کو بھی فنڈس دیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی جماعتوں کو فراخدلانہ رقومات فراہم کی گئیں تاکہ وہ بائیں بازو جماعتوں (غیرکانگریسی و غیر بی جے پی محاذ کیلئے) سے اتحاد نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ کارپوریٹ شعبہ نے بائیں بازو پارٹیوں کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا کہ انہیں یکا و تنہا اور سب سے الگ تھلگ کردیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بعض علاقائی جماعتوں پر بائیں بازو سے اتحاد نہ کرنے کیلئے اثرورسوخ کا استعمال کیا گیا۔ تاہم انہوں نے وضاحت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی مہم کی کمان آر ایس ایس نے سنبھال لی تھی اور اس نے فرقہ پرستی کا زہر پھیلایا تاکہ رائے دہندوں کو تقسیم کیا جاسکے۔

TOPPOPULARRECENT