Wednesday , September 19 2018
Home / ہندوستان / کارپوریٹ گھرانوں کیلئے وزارت پٹرولیم میں جاسوسی

کارپوریٹ گھرانوں کیلئے وزارت پٹرولیم میں جاسوسی

نئی دہلی۔/20فبروری، ( سیاست ڈاٹ کام ) وزارت پٹرولیم کے دستاویزات کے افشاء کیس میں گرفتار 4ملزمین کو آج مقامی عدالت نے 23فبروری تک دہلی پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے جبکہ دہلی پولیس کا الزام ہے کہ ملزمین نے راز کی اطلاعات بعض کارپوریٹ گھرانوں کو فراہم کردیں۔ دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے چیف میٹرو پالیٹن مجسٹریٹ سنجے کھندوگوال کے روبرو 7

نئی دہلی۔/20فبروری، ( سیاست ڈاٹ کام ) وزارت پٹرولیم کے دستاویزات کے افشاء کیس میں گرفتار 4ملزمین کو آج مقامی عدالت نے 23فبروری تک دہلی پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے جبکہ دہلی پولیس کا الزام ہے کہ ملزمین نے راز کی اطلاعات بعض کارپوریٹ گھرانوں کو فراہم کردیں۔ دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے چیف میٹرو پالیٹن مجسٹریٹ سنجے کھندوگوال کے روبرو 7ملزمین کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ ان کی تحویل سے حساس نوعیت کے دستاویزات برآمد ہوئے ہیں لہذا مزید پوچھ گچھ کیلئے ملزمین ملیا پرساد، راکیش کمار، پریا س جین اور سنتونا سکیہ کو پولیس حراست میں دے دیا جائے۔ پولیس نے یہ الزام عائد کیاہے کہ وزارت کوئلہ، توانائی اور دیگر محکموں کی خفیہ دستاویزات ملزمین کے پاس سے ضبط کرلی گئی ہیں جو کہ مالی فوائد کیلئے بعض کارپوریٹ گھرانوں کو فراہم کی جارہی تھیں۔ تاہم دہلی پولیس نے کہا کہ دیگر تین ملزمین ایشور سنگھ، اشارام اور راجکمار چوبے کی پولیس تحویل میں پوچھ تاچھ کی ضرورت نہیں ہے ۔ لہٰذا انہیں عدالتی ریمانڈ میں دے دیا جاسکتا ہے۔

عدالت نے پولیس کی درخواست پر سماعت کے بعد 4ملزمین کو 23فبروری تک پولیس تحویل میں دے دیا اور دیگر تین ملزمین کو دو ہفتوں کیلئے جوڈیشیل ریمانڈ کردیا۔ ملزمین کے رول کی وضاحت کرتے ہوئے پولیس نے بتایا کہ چوبے ایک کار چلارہا تھا جس میں سے خفیہ اور راز کی دستاویزات برآمد ہوئیں اور آشارام اور ایشور سنگھ وزارت پٹرولیم سے خفیہ اطلاعات انہیں فراہم کررہا تھا۔ آشا رام چونکہ وزارت پٹرولیم میں برسر خدمت ہے ، وزارت میں نصب کردہ سی سی ٹی وی کیمروں کو اسوقت بند کردیا تھا جب اس کے دو لڑکے پرساد اور راکیش جعلی انٹری کارڈ کے ذریعہ احاطہ میں داخل ہوجائیں اور اطلاعات کی حصولیابی کیلئے فی کس 4ہزار روپئے ادا کئے جاتے تھے۔ پولیس نے مزید بتایا کہ سکیہ کی تحویل سے بھاری تعداد میں دستاویزات برآمد ہوئے ہیں جبکہ پرساد دستاویزات حاصل کرنے کیلئے غیر مجاز طریقہ سے وزارت پٹرولیم میں داخل ہوجاتا تھا۔

TOPPOPULARRECENT