Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / کارپوریٹ گھرانوں کی سرمایہ کاری سے آزادی صحافت کے تصور پر منفی اثرات

کارپوریٹ گھرانوں کی سرمایہ کاری سے آزادی صحافت کے تصور پر منفی اثرات

ترکی میں کئی صحافی مقید ، عالمی یوم آزادی صحافت پر انڈین جرنلسٹس یونین کے اجلاس سے پروفیسر انور عالم کا خطاب
حیدرآباد۔4مئی (سیاست نیوز) آزادی ٔ صحافت کا تصور تیزی سے ختم ہوتا جا رہا ہے جس کی بنیادی وجہ ذرائع ابلاغ اداروں میں کارپوریٹ گھرانوں کی سرمایہ کاری اور خود کارپوریٹ گھرانوں کی جانب سے ذرائع ابلاغ اداروں کا چلایاجانا ہے ۔ پروفیسر انور عالم نے انڈین جرنلسٹس یونین کی جانب سے ’عالمی یوم آزادیٔ صحافت‘ کے موقع پر منعقدہ سمینار سے خطاب کے دوران یہ بات کہی۔ انہوںنے بتایا کہ ترکی میں آزادیٔ صحافت کی حالت بتدریج ابتر ہوتی جا رہی ہے اور اس دور میں ترکی آزادی ٔ صحافت کے مسئلہ میں مبتلاء ہونے لگا ہے جس دور میں رجب طیب اردگان جیسا حکمراں ترکی میں موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ترکی میں 2002کے بعد پیدا شدہ صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اردگان نے جمہوری اصولوں کا نعرہ دیا تھا لیکن اب حالات تیزی سے تبدیل ہوتے جا رہے ہیں۔ پروفیسر انور عالم نے بتایا کہ ترکی کی جیلوں میں 148صحافی قید ہیں جبکہ کئی ذرائع ابلاغ ادارے بند کئے جاچکے ہیں۔ انہوںنے بتایاکہ آزادیٔ صحافت کی 180ممالک کی درجہ بندی میں ترکی کو 155 واں مقام حاصل ہے اور ہندستان بھی قریب 130تا135ویں مقام پر پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے ہندستانی ذرائع ابلاغ میں بھی کارپوریٹ سرمایہ کاری کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ رجحان آزادی ٔ صحافت کے لئے خطرناک ہے۔ ’آزادیٔ صحافت اور ترکی کے حالات ‘ کے عنوان پر منعقدہ انڈین جرنلسٹس یونین ا ور انڈیالاگ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام سمینار سے Skypeپر مسٹر کریم بالچی ایڈیٹر انچیف ترکش ریویو نے لندن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترکی میں فتح اللہ گولن کے حامی صحافیوں کے علاوہ عہدیداروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔اس سمینار کی صدارت مسٹر ڈی امر نے کی ۔ مسز سبینہ اندرجیت نائب صدرنشین انٹر نیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس نے بھی Skype کے ذریعہ ان حالات پر مخاطب کیا۔ یوم آزادیٔ صحافت کے موقع پر مسٹر کے امرناتھ رکن پریس کونسل آف انڈیا نے بھی مخاطب کیا۔اس موقع پر مقررین نے آزادی ٔ صحافت کی وکالت کرتے ہوئے کارپوریٹ گھرانو ںکو ذرائع ابلاغ ادارو ںمیں سرمایہ کاری سے باز رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ترکی میں بھی دنیا کے دیگر ممالک کی طرح صورتحال پیدا ہوتی جا رہی ہے ۔پروفیسر انور عالم نے کہا کہ ترکی دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں ویکی پیڈیا جیسی ویب سائٹ پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT