Friday , September 21 2018
Home / شہر کی خبریں / کارڈن سرچ آپریشن کے پس پردہ خفیہ مشن پر عمل

کارڈن سرچ آپریشن کے پس پردہ خفیہ مشن پر عمل

تلنگانہ میں مسلمانوں پر کڑی نظر ‘بیرون ریاستوں سے مختلف شخصیتوں بشمول تاجرین کی آمد و رفت پولیس کو کھٹکنے لگی

تلنگانہ میں مسلمانوں پر کڑی نظر ‘بیرون ریاستوں سے مختلف شخصیتوں بشمول تاجرین کی آمد و رفت پولیس کو کھٹکنے لگی
حیدرآباد 10 اپریل (سیاست نیوز)ریاست تلنگانہ میں بیرون ریاست کے مسلمانوں پر کڑی نظر رکھی جارہی ہے ۔ طلبہ ‘اساتذہ ‘مزدور ‘تاجر مولوی اور کاروباری اغراض سے ریاست آنے والے ہر فرد کی سرگرمیاں پولیس کیلئے کھٹکنے لگی ہیں ۔ مذہبی قائدین کے الزامات کے مطابق پولیس کا کارڈن اینڈ سرچ آپریشن بھی برائے نام ہے بلکہ پولیس اس آپریشن کے پس پردہ اپنے خفیہ مشن پر عمل کررہی ہے ۔ پولیس کی یہ کارروائی شہر حیدرآباد و سائبر آباد کی حد تک ہی محدود تھی بلکہ ریاست تلنگانہ کے دیگر اضلاع بھی پولیس کے خفیہ شکنجہ کے دائرے میں آگئے ہیں ۔ پولیس کے خصوصی دستے اضلاع کے ہیڈ کوارٹرس ٹاون ہیڈ کوارٹرس اور دیہی علاقوں پر ہر سرگرمی کو نوٹ کررہے ہیں بالخصوص بیرونی ریاستوں سے آئے مسلمانوں پر نظر رکھی گئی ہے ۔معتبر ذرائع کے مطابق مساجد ‘عبادت گاہوں دینی مدرسوں یہاں تک کہ جلسہ و جلوسوں میں شرکت پر بھی خاص توجہ دی جارہی ہے تاہم پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلمان ہی نہیں بلکہ ہر طبقہ وشہری کی مذہبی نقل و حرکت پر نظر رکھی جاتی ہے ۔ تلنگانہ ریاست کے دیہی علاقوں میں دینی مدارس ‘مکاتب خانقاہیں اور مسلم کاز کیلئے سرگرم تنظیمیں پولیس اسکیننگ میں آگئی ہیں اور سمجھا جارہا ہے کہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل اور حالیہ انکاونٹر کے بعد ان کارروائیوں میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت عوام کی سرکار پر برہمی کا بھی ان کارروائیوں سے نوٹ لینا چاہتی ہے ۔ شہر حیدرآباد وسائبر آباد کے کالجس ٹیوشن اداروں ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ ‘یونیورسٹیز کالجس میں زیر تعلیم طلبہ اور تربیت دینے والے اساتذہ کے تعلق سے تفصیلات کو اکھٹا کیا جارہا ہے۔حکومت اور پولیس کے لئے دیہی علاقوں کے دینی مدارس اور مساجد میں امام و متوطن کی خدمات انجام دینے والے افراد جو بیرونی ریاستوں سے تعلق رکھتے ہیں ان کی اطلاعات آسان ہیں جبکہ شہر میں اساتذہ ‘طلبہ کے علاوہ لیبر طبقہ کی تفصیلات مشکل ہیں ۔ اس وجہ سے بھی کارڈن اینڈ سرچ آپریشن کو شروع کرنے میں ایک طرفہ کارروائی کے الزامات کا پولیس سامنا کررہی ہے اور پولیس کی ان کارروائیوں میں صرف مسلم علاقہ اور مسلمان ہی نشانہ بن رہے ہیں جبکہ یونیورسٹیز ‘کالجس ‘دینی مدارس‘ مکاتب اور درسگاہوں میں زیر تعلیم اور اساتذہ کی نقل و حرکت بھی نگرانی جاری ہے ۔ جموں و کشمیر ریاست کے علاوہ شمالی شہر کی ریاستوں اور مغربی ہند کی ریاستوں کے مسلمان ریاست تلنگانہ کی پولیس کو کھٹکنے لگے ہیں۔ ان کارروائیوں سے مسلم سماج میں بے چینی کے علاوہ عدم تحفظ کا رجحان پیدا ہورہا ہے جو سماجی انسانی حقوق اور ملی تنظیموں کیلئے بے چینی کا باعث بنا ہوا ہے۔

TOPPOPULARRECENT