Wednesday , November 21 2018
Home / شہر کی خبریں / کاس گنج تشدد پر ہنگامہ، راجیہ سبھا اجلاس دو مرتبہ ملتوی

کاس گنج تشدد پر ہنگامہ، راجیہ سبھا اجلاس دو مرتبہ ملتوی

مہربندی مہم کے خلاف عام آدمی پارٹی کی نعرہ بازی، کے وی پی پر کورئین کی برہمی
نئی دہلی ۔ 2 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش کے کاس گنج میں تصادم کے حالیہ واقعات اور دہلی میں مہربندی کی مہم پر شوروغل اور ہنگامہ آرائی کے نتیجہ میں راجیہ سبھا کے اجلاس کو دوپہر کے کھانے کے وقفہ سے قبل دو مرتبہ ملتوی کیا گیا۔ سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے ارکان نے کاس گنج کا مسئلہ اٹھایا جبکہ عام آدمی پارٹی (عاپ) کے نومنتخب ارکان نے دہلی میں مہربندی کی مہم کے خلاف احتجاج کیا۔ ایران کی کارروائی کے آج صبح آغاز کے ساتھ ہی سماج وادی پارٹی کے ارکان نے ایوان کے وسط میں پہنچ کر کاس گنج تشدد کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے نعرہ بازی کی۔ ان کے ساتھ عاپ کے ارکان بھی ہنگامہ آرائی میں شامل ہوگئے جس کے نتیجہ میں ڈپٹی چیرمین پی جے کورئین کو ایوان کی کارروائی ملتوی کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ کانگریس کے رکن کے وی پی رامچندر راؤ بھی ’’آندھراپردیش کی مدد کیجئے‘‘ کا نعرہ لکھا ہوا پلے کارڈ تھامے ایوان کے وسط میں پہنچ گئے لیکن انہوں نے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ کورئین نے ان سے کہا کہ وہ ایوان کے وسط سے تخلیہ کرتے ہوئے اپنی نشست سنبھالیں لیکن رامچندر راؤ نے اٹل رہے۔ بعدازاں کورئین نے رامچندر راؤ کو نشست پر طلب کرنے تاکہ اپوزیشن غلام نبی آزاد سے خواہش کی اور کہا کہ ’’وہ (راؤ) وہاں کیا کررہے ہیں؟ کیا کوئی ایسا کرتاہے؟ کیا وہ پاگل ہوگئے ہیں؟۔ برائے مہربانی انہیں (رامچندر راؤ کو) اپنی نشست پر طلب کریں‘‘۔ کورئین نے حتیٰ کہ راؤ کے خلاف کارروائی کی دھمکی بھی دی۔

تاہم نعرہ بازی جاری رہنے کے سبب کورئین نے دوپہر 12 بجے تک کارروائی ملتوی کردی۔ پہلے التواء کے بعد جیسے ہی وقفہ صفر کیلئے کارروائی کا آغاز ہوا۔ عاپ کے سنجے سنگھ نعرے لگاتے ہوئے دوبارہ ایوان کے وسط میں پہنچ گئے اور الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت کی ایماء پر دہلی سے مہربندی کی جارہی ہے۔ اس مسئلہ پر عاپ کے ارکان اور مملکتی وزیر پارلیمانی امور وجئے گوئیل کے درمیان تلخ بحث ہوگئی اور کورئین نے انہیں نعرہ بازی روک کر نشست پر واپس ہونے کی ہدایت کی۔ قائد اپوزیشن غلام نبی آزاد نے کہا کہ دہلی تمام ارکان پارلیمنٹ کا دوسرا گھر ہے اور یہ ان (ارکان پارلیمنٹ) کی ذمہ داری ہیکہ دہلی کے عوام کی مدد کریں۔ اس دوران کے وی پی رامچندر راؤ پھر ایوان کے درمیان پہنچ گئے جس پر کورئین نے ان کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان (راؤ) میں ذرا احساس بھی ہے تو انہیں اپنی نشست پر چلے جانا چاہئے۔ کورئین کے اس ریمارک پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا اور پلے کارڈ کو اور اوپر اٹھادیا۔ بعدازاں ایس پی کے رام گوپال یادو نے کاس گنج کا مسئلہ اٹھایا اور کہا کہ ’’کاس گنج میں اقلیتوں کے خلاف مظالم کئے جارہے ہیں۔ انہیں کچلا جارہا ہے۔ ان کے گھروں کی توڑپھوڑ کی جارہی ہے‘‘۔ کورئین نے ایس پی سے اس مسئلہ پر بحث کیلئے نوٹس دینے کی ہدایت کی لیکن ایوان میں ایس پی اور عاپ ارکان کا احتجاج جاری رہا جس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈپٹی اسپیکر نے اجلاس کو دوسری مرتبہ دوپہر کے کھانے کے وقفہ تک ملتوی کردیا۔

TOPPOPULARRECENT