Wednesday , December 12 2018

کاس گنج میں دوبارہ کشیدگی، مذہبی مقام کی دیوار منہدم

کاس گنج، 30 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش کے کاس گنج میں کل دن بھر امن رہنے کے بعد آج علی الصبح ایک مذہبی مقام کی بیرونی دیوار گرائے جانے سے قصبہ میں دوبارہ کشیدگی پھیل گئی ہے ۔پولیس سپرنٹنڈنٹ پیوش شریواستو نے بتایا کہ صبح کچھ فسادیوں نے ایک مذہبی مقام کی بیرونی دیوار گرا دی جس سے لوگوں میں شدید ناراضگی پائی جارہی ہے ، اگرچہ موقع پر کافی سیکورٹی تعینات فورسزہیں۔ مسٹر شریواستو نے بتایا کہ مذہبی مقام کے کچھ اور حصوں کو نقصان پہنچانے کی ناکام کوشش کی گئی۔انہوں نے بتایا کہ اس واقعہ میں ملوث افراد کی گرفتاری کی کوشش کی جا رہی ہے ۔کل دیر شام ایک کپڑے کی دکان میں آگ لگائے جانے کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ رات میں کوئی واقعہ ہو سکتا ہے ۔ کاس گنج میں انٹرنیٹ سروس بحال کر دی گئی ہے ۔ معاملہ کی جانچ کے لیے چار رکنی اسپیشل تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی گئی ہے ۔قابل غور ہے کہ یوم جمہوریہ کے موقع پر نکالی گئی ترنگا یاترا کے دوران ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد میں ایک نوجوان چندن گپتا کی موت ہو گئی تھی اور ایک زخمی شخص کی آنکھوں روشنی چلی گئی۔ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے مقتول کے گھر والوں کو 20 لاکھ روپے کی مالی امداد دینے کا اعلان کیا ہے ۔ شریواستو نے بتایا کہ حساس علاقوں میں پولیس گشت کر رہی ہے ۔ حالات پر قریبی نظر رکھی جا رہی ہے ۔ 160 سے زائد افراد کی گرفتاری ہو چکی ہے ۔ کاسگنج میں ہر حال میں حالات کومعمول پر لانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ کل شام تک حالات معمول پر آ گئے تھے ، لیکن رات میں کپڑے کی دکان میں لگائی گئی آگ اور صبح ایک مذہبی مقام کی گرائی گئی فصیل کے بعد ماحول کشیدہ ہے لیکن مکمل طورپر کنٹرول میں ہے ۔دونوں فرقوں کے ذمہ دار لوگوں سے رابطہ بنائے رکھا جا رہا ہے ۔سماج کی اہم شخصیات سے بھی امن کی اپیلیں کروائی جارہی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT