Thursday , July 19 2018
Home / Top Stories / کاس گنج میں مسلمانو ں کے دکانات کو زبردست نقصانات ، ہندو بھائی ہو ئے بیروزگار 

کاس گنج میں مسلمانو ں کے دکانات کو زبردست نقصانات ، ہندو بھائی ہو ئے بیروزگار 

Image Courtesy The Hindustan Times

میں روزانہ ایک سو اسی روپئے کماتا تھا لیکن اب میں کام ڈھونڈ رہا ہوں: متاثرہ شخص ویر بہادر
نئی دہلی:۔ ایک پچیس سالہ نوجوان ویر بہادر کاس گنج میں سردار علی خان کی دکان میں نوکری کیا کرتا تھاوہ دکان تشدد میں متاثر ہوگئی ۔ جس کی وجہ سے ویر بہادر بیروزگار ہوگیا۔پچھلے ماہ ہوئے کاس گنج میں ہوئے تشدد میں ابھیشک گپتا کی موت کے بعدمسلم طبقہ کے املاک اور دکانات کو نذر آتش کر دیاگیا ۔

مسلمانوں کے دکانات کو تشدد کا نشانہ بنائے جانے پر کئی ہندوبرادری کے لوگ اپنی نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ویر بہادر ان ملازموں میں سے ہیں جو ایک مسلم شخص کی دکان پر کام کیا کر تے تھے۔لیکن اب سب بیروزگار ہوگئے ہیں۔ویر بہادر نے انڈین ایکسپریس کو بتا یا کہ ’’ میں بابا شو کمپنی میں پچھلے سات سال سے کام کررہا ہوں۔میری روزانہ کی اجرت ایک سو اسی روپئے تھی۔فساد برپا کرنے والوں نے اس دکان جو نقصان پہنچایاجس کی وجہ وہ دکان بند ہو گئی اور میں اب بیروزگار ہو گیااب میں کیا کروں؟‘‘باباکمپنی کے مالک سردار علی خان نے بتایا کہ’’ اس کی دکان ۲۶ جنوری کے بعد سے کھولی نہیں گئی ہیں ۔

ویر بہادر کئی مرتبہ مجھ سے پیسے مانگے ہیں۔میں نے اسے پانچ سو روپئے دئے ہیں ۔لیکن اب وہ دوسری نوکری ڈھوڈرہا ہے۔میں اب میری کان کیسے دوبارہ شروع کروں۔فسادیو ں نے میری دکان کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔خان نے مزید بتا کہ اس کی دکان میں چھ کام کر نے والے ہیں جن میں سے چار ہندو ہیں‘‘۔خان نے کہا کہ گپتا کی موت کے بعد یہاں پر تشد د شروع ہوگیا۔ میری دکان کو آگ لگا دی گئی ۔حکومت کو چاہئے کہ وہ متاثرہ افراد کو بغیر سودی قرضہ جات فراہم کریں تا کہ وہ اپنا کاروبار دوبارہ شروع کر سکے‘‘۔بابا شو کمپنی کے آگے ایک تین منزلہ ریڈی میٹ کپڑوں کی دکان ہے۔ اس دکان کے مالک کا نام منصور احمد ہے۔انھوں نے اپنی زیادہ تر کمائی اپنی بیوی کے علاج کے لئے صرف کر دی۔

لیکن دوسال قبل ان کی اہلیہ کا انتقال ہوگیا ۔انھوں نے بتا یا کہ ’’ میں اب تک میری بیوی کے علاج کے لئے گئے قرضہ ادا کر رہا ہوں۔میری دکان کی قیمت تقریبا پچاس لاکھ او رایک لاکھ پچھتر ہزار نقد رقم ہے‘‘۔انھوں نے مزید بتا یا کہ ’’اس کی دکان میں کام کرنے والوں کی تعداد آٹھ ہے جن میں سے چھ ہندو ہیں۔

انمیں سے بابو رام اور راہل نے مجھ سے پیسے مانگے ہیں لیکن میں ان کو پیسے نہیں دے سکا‘‘۔بابو رام نے کہا کہ ’’ ہم احمد صاحب کی مدد ضرور کریں گے۔لیکن ہم مجبور ہیں ہمارے پاس خود ہی کام نہیں ہے۔۔

TOPPOPULARRECENT