Sunday , April 22 2018
Home / مضامین / کاس گنج کے مسلمان، منظم طریقہ سے فرقہ پرستوں کا نشانہ

کاس گنج کے مسلمان، منظم طریقہ سے فرقہ پرستوں کا نشانہ

سید اسمعیل ذبیح اللہ
پچھلے لو ک سبھا الیکشن سے قبل اترپردیش کے مظفر نگر کے فرقہ وارانہ کشیدگی اور فساد ات کے واقعات منظر عام پر ائے جس میں ہزاروں کی تعداد میںمسلمانوں کونشانہ بنایاگیا‘ مسلمانوں کی دکانوں اوراملاک کو نشانہ بنایاگیا۔آج بھی سینکڑوں کی تعداد میں مظفر نگر فسادات کے متاثرین اپنے گھر واپس لوٹنے کو تیار نہیں ہیں۔ ایک سال قبل اترپردیش میںیوگی ادتیہ ناتھ کی زیرقیادت بی جے پی حکومت برسراقتدار ائی اور مذکورہ حکومت نے مظفر نگر فرقہ وارنہ فسادات میںملوث خاطیو ں پر سے مقدمات ہٹانے کا اعلان کردیا۔تاہم عدالت نے حکومت کے اس فیصلے پر سوال کھڑے کرتے ہوئے ‘ حکومت سے وضاحت طلب کی ہے۔ اگلے سال یعنی 2019میں لوک سبھا انتخابات ہیںلہذا اس مرتبہ ریاست اترپردیش کا ہی کاس گنج نشانے پر ہے۔ کاس گنج اس وقت سرخیوں میںآیاجب یوم جمہوریہ کے موقع پر اترپردیش کے کاس گنج میں عبدالحمید چوراہے پر مقامی مسلم نوجوانوں کی جانب سے یوم جمہوریہ تقریب کا انعقاد عمل میںلایاگیا تھا۔مقامی لوگوں کے مطابق ہرسال یوم جمہوریہ او ریوم آزادی کے موقع پر یہاں کے مسلم نوجوانوں اور دیگر مقامی لوگ مل کرقومی پرچم کشائی تقریب منعقد کرتے ہیں۔ ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی تقریب کا انعقاد عمل میںآیا ‘ جس کی وجہہ سے سڑک پر کرسیاں لگائیں گئی تھیں۔ تقریب کے دوران دوسرے راستے سے ایک ترنگا یاترا مذکورہ چوراہے پر پہنچی۔ اس ترنگا یاترا کے آرگنائزرس کوئی اور نہیںدائیں بازو تنظیمیں تھیں ‘ جس میںبجرنگ دل ‘ وی ایچ پی ‘ ہندویوا وہانی اور دیگر شامل ہیں۔ اس ترنگا یاترا میں شامل ہندو نوجوان ’’ مسلمانوں کے دو آستان ‘ پاکستان یا قبرستان‘‘ اور ’’ ہندی ہندو ہندوستان ‘ بھاگو مسلم پاکستان‘‘کے علاوہ وندے ماترم اور جئے شری رام کے نعرے لگاتے ہوئے عبدالحمید چوراہے پر پہنچے‘ جہاں پر پہلے سے مقامی مسلم نوجوانوں کی جانب سے 69ویں یوم جمہوریہ کے موقع پر تقریب کا انعقاد عمل میںلایاجارہا تھا۔ ترنگا یاترا میںشامل ہندو نوجوانوں نے چوراہے پر پہلے سے موجود مسلم نوجوانوں سے کہاکہ وہ سڑک پر لگائی گئی کرسیاں ہٹائیںاور یاترا کو جانے دیں ‘ جس پر مقامی مسلم نوجوانوں نے کہاکہ آپ لوگ دوسرے راستے سے چلے جائیںیہاں پر بھی قومی پرچم کشائی تقریب چل رہی ہے اور ہمیںبھی اپنے ملک کی یوم جمہوریہ تقریب منانے کا پورا حق ہے ۔ خود ساختہ ترنگا یاترا میںشامل شرپسند عناصر یوم جمہوریہ تقریب منانے والے مسلم نوجوانوں سے الجھ گئے اور ان کے ساتھ بدسلوکی شروع کردی۔یوم جمہوریہ تقریب میںشامل نوجوانوں کا کہناہے کہ ترنگا یاترا میںشامل نوجوانوں کے ہاتھوں بھگوا پرچم بھی تھے اور وہ قومی پرچم کے بجائے ہمیں بھگوا پرچم لہرانے کو کہہ رہے تھے اسکے علاوہ ہمارے خلاف نعرے بازی بالخصوص ہمیں پاکستانی قراردے رہے تھے۔ مقامی لوگوں کے مطابق ہاتھ پائی اور قوم پرچم کی بے حرمتی کے بعد موقع پر پولیس آگئی اور ہجوم کو منتشر کردیا ۔ اس کے بعد کے حالات سے تو سب ہی واقف ہیں۔مگر سب سے بڑاسوال یہ ہے کہ ترنگا یاترا میںشامل نوجوانوں میں سے چندن گپتا نامی ایک نوجوان کی گولی لگنے سے ہوئی پراسر ار موت کا کون ذمہ دار ہے۔اترپردیش میںیوگی ادتیہ ناتھ کی بی جے پی حکومت اقتدار میں جس قسم کے حالات پیدا ہوئے ہیںان حالات میں کسی بھی مسلمان کا گولی چلاکر کسی غیرمسلم کو قتل کرنا ناممکن ہی نہیںبلکہ غیر یقینی بات ہے۔ پچھلے ایک سال میںمسلمانوں کے خلاف جس طرح کے حالات ریاست اتردیش میںبنائے جارہے ہیں اس کو دیکھ کر 2002سے قبل کے گجرات کے حالات کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔شر پسند عناصر معمولی بات پر مسلمانوں کو جہاں اپنا نشانہ بنارہے ہیں اور پولیس بھی شرپسندوں کا ہی ساتھ دے رہی ہے ایسے حالات میں مسلمانوں کی جانب سے کسی بھی قسم کی پہل غیرمتوقع بات ہوگی۔ چندن گپتا کو کسی نے نزدیک سے گولی ماری ‘ جس کی وجہہ سے اس نوجوان کی موت واقع ہوگئی۔ناحق خون کسی کا بھی بہا ہووہ افسوس کی ہی بات ہے ۔ کسی بھی بے قصور کے خون ناحق پر افسوس کا اظہار نہ کرنا ایک غیرانسانی حرکت ہوگی۔ عبدالحمید چوراہے پر بحث وتکرار کے بعد پولیس کی آمد کے بعد جب ترنگا یاترا کی موٹر سیکل ریالی آگے بڑھ گئی تو وہا ںجاکر چندن گپتا کی موت ہوئی ۔یوم جمہوریہ تقریب منارہے نوجوانوں کے پاس کوئی بندوق ‘ ریوالور موجود نہیںتھی اگر ہوتی تو وہ ان تمام ویڈیوز میںضرور دیکھتے جو سوشیل میڈیاپر تیزی کے ساتھ وائیرل ہوئے

اس کے برخلاف ایک ایسا ویڈیو بھی سوشیل میڈیاپر وائیرل ہوا جس میںترنگا تاترا میںشامل نوجوان مسلمانو ںکے خلاف نعرے دیتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں ۔ اس ویڈیومیں چند ایک نوجوانوں کے ہاتھو ںمیںصاف طور پر ترنگا او رریوالور دیکھی جاسکتی ہے اور وہ اس ریوالور سے ہوا میںفائیرنگ بھی کررہے ہیں۔ چندن گپتا کی پراسرار موت کے بعد کاس گنج کے حالات اس قدر بگڑ گئے کہ راتوں رات مسلمانوں کے دکاونیں ‘ مکان اور عبادت گاہوں کو نذر آتش کردیا گیا۔ مقامی لوگوں کا کہناہے کہ پولیس کی نگرانی میںشرپسندوں نے یہ کام کیا ہے ۔ پولیس بھی شرپسندوں کا ساتھ دیتے ہوئے دیکھی گئی۔ کئی جگہوں پر پولیس والوں نے خود بلوائیوں کے ساتھ ملکر مسلم بستیوں پر پتھرائو بھی کیا۔ اس کے بعد پولیس کاروائی کا سلسلہ شروع ہوا اور ان لوگوں کو فساد کا ذمہ دار ٹھرایاگیا جو لوگ نہ تو موقع واردات پر تھے اور نہ ہی ان کافساد سے کوئی لینا دینا ہو بلکہ انہی لوگوں کی دکانوں او رمکانوں کو نذر آتش کیاگیا تھا۔ پولیس چند ن گپتا کے قتل کے الزام میںجن لوگو ں تین لوگو ںکو گرفتار کیاگیا ہے اس میںایک نام سلیم ہے جو واردات کے وقت’ جماعت ‘ میںشہر سے باہر گیاہوا تھا۔باوجود اسکے سلیم کو چندن گپتا کے قتل کے الزام میںگرفتار کرلیاگیا۔حالانکہ فسادات کے دوران بے قصوراکرم نامی ایک مسلم نوجوان جو اپنی حاملہ عورت کو طبی جانچ کے لئے اسپتال لے جارہا تھا ‘ کی کار پر شرپسندوں نے حملہ کردیا اور اکرم کے ساتھ اس قدر مارپیٹ کی کہ اس مارپیٹ میںاکرم اپنی ایک آنکھ سے محروم ہوگئے ۔ شرپسندوں نے اکرم کی نوکرانی کو تک نہیں چھوڑا ‘ اس کے ساتھ بھی مارپیٹ کی ۔ مگر پولیس نے مارپیٹ کرنے والے ان شرپسندوں کے خلاف کسی قسم کی کوئی کاروائی اب تک نہیںکی ہے۔ دوروز قبل لکھنو او ردہلی میںبیک وقت ال انڈیا پیپلز فورم( اے ائی پی ایف) نے کاس گنج فسادپر مشتمل حقائق سے آگاہی رپورٹ جاری کی ہے۔اے ائی پی ایف کی حقائق سے آگاہی کمیٹی میںریاست اترپردیش کے ایک سابق سینئر پولیس افیسر‘ دوصحافی اور تین سماجی کارکن شامل ہیں ۔ ان لوگوں نے دوروز تک کاس گنج فرقہ وارانہ تشدد کے متاثرین سے ملاقات کی اور مقامی لوگوں کے بشمول پولیس سے ملاقات کرتے ہوئے جانکاری اکٹھا کی او رایک رپورٹ بنائی۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق کاس گنج میں جو فرقہ وارانہ تشدد پیش ائے ہیں وہ ایک منظم سازش کا حصہ ہیں۔اس فساد میںمقامی لوگ نہیںبلکہ باہر سے ائے ہوئے لوگ شامل تھا جن کا واحد مقصد کشیدگی پیدا کرتے ہوئے ہندو او رمسلمانوں کے درمیان میںفسادکرانا تھا اور وہ اس کام میں بڑی حدتک کامیاب بھی ہوئے ۔ مذکورہ حقائق سے آگاہی رپورٹ میں اس بات کا بھی تذکرہ کیاگیا ہے کہ چند ن گپتا کا قتل کرنے والوں کا ابھی تک کوئی سراغ نہیںملا ہے او رجو گرفتاریاں عمل میںلائیںگی وہ بھی شک کی بنا پر ہیں۔پولیس نے کئی مسلم نوجوانوںکو شک کی بنا پر گرفتار کیاہے ۔ جبکہ مسلمانوں کی جانب سے دوکانوں‘ مکان او ریہا ں تک کہ مسجد کو دیگر عبادتوں گاہوں کو نذر آتش کرنے کی شکایت کو بھی پولیس قبول نہیںکررہی ہے۔ متعلقہ پولیس حکام کی جانب سے یہ کہا جارہا ہے کہ اوپر والے عہدیداروں کی جانب سے ان پر ایسا کرنے کے لئے دبائو بنایاجارہا ہے۔افسوس تو اس بات کا بھی ہے کہ اترپردیش میںفروغ دئے جارہے فرقہ پرستی کے ماحول کی زد میں اوبی سی سماج کے لوگ بھی آرہے ہیں مگر یہ کام اس قدر خاموشی سے کیاجارہا ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ فرقہ پرست طاقتیں مسلمانوںکے کاندھے پر بندوق رکھ کر ایس سی ‘ ایس ٹی او راوبی سی کے قائدین کو بھی نشانہ بنارہے ہیں ۔ مگر وہ اس بات کو ظاہر نہیںہونے دے رہے ہیں کہ ان کے نشانہ پر دیگر بھی ہیں۔حقائق سے آگاہی رپورٹ کے مطابق کاس گنج واقعہ میںجہاں پر سینکڑوں کی تعداد میںمسلمانو ںکی گرفتاری عمل میں ائی ہے وہیں پر غیر مسلم نوجوانوں ‘ کاروباریوں اور سیاسی قائدین کو بھی گرفتار کیاگیا ہے ۔غیر مسلم گرفتاریوں میں لودھا ‘ راجپوت سماج سے تعلق رکھنے والے سیاسی قائدین پر دفعہ 151کے تحت مقدمات درج کئے گئے اور ضمانت بھی مل گئی جبکہ دلت ‘ اوبی سی سماج کے لوگوں کو یواے پی اے کے تحت گرفتار کیاگیا ہے اورانہیںدفعہ 147‘148‘149‘346‘427‘اور ائی پی سی کی دفعہ 34کے علاوہ یو اے پی اے کے سکشن 7کے تحت کا مقدمہ درج کیاگیا ہے ۔ مذکورہ تما م دفعات کے علاوہ اقدام قتل کے سیکشن کے ساتھ مسلم نوجوانو ں کی گرفتاریاں عمل میںلائیںگئی ہیں۔اترپردیش انتظامیہ کے نشانے پر دلت‘ اوبی سی اور اقلیتی طبقات ہیں اور ان کی یہ کوشش ہے کہ مذکورہ طبقات کومذہب کے نام پر ایک دوسرے کے مد مقابل کردیں اور بعد میںدونوں پر مقدمات درج کرکے ان کی زندگیوں کواجیرن بنادیں تاکہ وہ عدالتی کشمکش میں اس قدر مبتلارہیںکہ ان کی سیاسی سوچ پوری طرح ختم ہوجائے ۔25فبروری کو آر ایس ایس اپنی سب سے بڑی میٹنگ کرنے جارہی ہے اور بھگوا تنظیم نے اس مرتبہ ریاست اتر پردیش کا انتخاب کیا ۔ واضح رہے کہ پچھلے سال ہی ریاست اترپردیش میںبھاری اکثریت کے ساتھ بی جے پی اقتدار میںائی ہے اور سال 2002گجرات فسادات سے قبل جس طرح کا ماحول بنیاگیا تھا اسی طرح کا ماحول ریاست اترپردیش میںبنایاجارہا ہے اور آنے والے دنوں میںہوسکتا ہے گجرات کے طرز پر ریاست اترپردیش کو بھی فسطائی طاقتیں اپنا نشانہ بنائیں۔

کیونکہ آر ایس ایس نے ریاست اترپردیش میںمنعقد ہونے والے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی میٹنگ کے لئے ریاست کے میرٹھ پرانت کا انتخاب کیامذکورہ پرانت میں تقریبا 14اضلاع ہیںجہاں پر دلتوں اورمسلمانوں کی اکثریت ہے ۔میرٹھ ‘ سمبھال‘ باغپت‘ مظفر نگر‘ شاملی‘ امروہا‘ مراد آباد‘ سہارنپور‘ بجنور ‘ رام پور کے علاوہ غازی آباد اور نوائیڈا بھی میرٹھ پرنت میںشامل ہیں ۔ آر ایس ایس نے اپنی اس میٹنگ کے لئے مذکورہ پرانت سے 3.01 لاکھ لوگوں کا آن لائن رجسٹریشن کیاہے ۔جب سے صوبہ میں بی جے پی کی حکومت اقتدار میںائی ہے اورچیف منسٹر کے طور پر یوگی ادتیہ ناتھ کام کررہے ہیں تب سے یوپی کے سیاسی او رسماجی حالات میںبڑے پیمانے پر تبدیلی بھی ائی ہے ۔ یہاں پر بھی صرف چھ ماہ کی قلیل مدت میںبارہ سو سے زائد انکاونٹر کا یوپی انتظامیہ نے دعوی پیش کیاہے ۔اس کے علاوہ غیرقانونی مسلخوں پر پابندی ‘ اور تاج محل کو تیجو محل جیسے بیانات او رواقعات سے اس بات کااشارہ مل رہا ہے کہ گجرات کے بعد کیااترپردیش بھگوا لیبریٹری کی شکل اختیار کرے گا۔ان حالات کے دوران ریاست میں اترپردیش میںآر ایس ایس کی سب سے بڑی میٹنگ اس با ت کو پختہ کرتی ہے کہ سال2019کے انتخابات کی تیاری کے لئے اس مرتبہ زعفرانی تنظیموں نے اترپردیش کا انتخا ب عمل میںلایاہے ۔ دستور ہند میں کسی قسم کی ترمیم یا پھر دستور کو بالائے طاق کرنے کی کوششوں سے جتنا نقصان مسلمانوں ہوگا اتنا ہی نقصان دلتوں ‘ قبائیلیوں کا بھی ہوگا جواس ملک کی سب سے بڑی آبادی ہے ۔ ایس سی ‘ ایس ٹی‘ اوبی سی دیگر پسماندہ طبقات کو یکجہ کیاجائے تو اس ملک کی آبادی کا 95سے زائد فیصد حصہ بن جائیں گے۔ دستور ہند کی حفاظت جس قدر مسلمانو ںکے لئے ضروری ہے اتنی ہی ایس سی ‘ ایس ٹی ‘ اوبی سی اورد یگر اقلیتی طبقات کے لئے بھی ضروری ہے۔ دستور ہند کو بچانے کے لئے کی جانے والی تمام کوششوں کا ہر محاذ پر ساتھ دینا مسلمانوں کے لئے ضروری ہے ۔ بہت حد تک ممکن یہی ہے کہ دلت اور مسلمان سیاسی طور پر متحد ہوجائیں تو آنے والے انتخابات میں فسطائی طاقتوں کو دوبارہ اقتدار سے روکنے میںیقینی طو رپر کامیابی ملے گی۔

TOPPOPULARRECENT